گزرا سال اور لائیوسٹاک سیکٹر

Livestock Sector Analysis 2015

گزرا سال اور لائیوسٹاک سیکٹر
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
اکھاڑ پچھاڑ تو گزشتہ سال بھی جاری رہی مگر 2014 جیسا طوفان نہیں تھا۔ البتہ اچھا کام کرنے والوں کو شاباش ملتی اور کاہلوں کی سرزنش ہوتی رہی۔ خوش تھے تو محنتی اور کام کرنے کا جذبہ رکھنے والے جن کی تعداد کسی طرح سے بھی کم نہیں، ہاں مگر نالاں تو وہ جنہوں نے سرکار کو خالہ جی کا گھر سمجھ رکھا، جب جی چاہا چلے گئے، یونیورسٹی کی تعلیم بھی جاری اور ساتھ میں ذاتی کاروباریا پرائیویٹ نوکری بھی، تنخواہ جیب میں اور ہوتے رہے موج میلے ۔۔۔۔ یقیناََ تعداد میں بہت کم مگر سسٹم کے نہ چلنے میں یہ کاہل اور مافیا ز بڑی رکاوٹ تھے۔ جب کبھی ہاتھ پڑتا تو قانون اور اصول یاد آ جاتے مگر یہاں قانون سازی میں وقت ضائع کرنے کی بجائے کام ہی ڈنڈے سے لیا گیا۔ یقیناََ اس طرزِ عمل سے دو ر رس نتائج نہیں حاصل کئے جاسکتے مگر اسے بنیاد بنا کر کسی کوایکشن لینے سے روکا بھی نہیں جا سکتا۔ ہاں اس دبنگ سٹائل سے برسوں سے بگڑا نظام وقتی طور پر سیدھا ضرور ہو جاتا ہے ، اور پھر اس کے دوبارہ بگڑنے میں کچھ وقت لگتا ہے جبکہ بہتری کے اثرات کئی سالوں تک رہتے ہیں۔
غیر معیاری گوشت کے خلاف صوبے بھر میںآپریشن، پنجاب بھر میں حفاظتی ٹیکوں اور کیڑے معیار ادویات پلانے کی compaign، بیوہ خواتین میں جانوروں کی تقسیم، دودھ بڑھانے والے ٹیکوں کو بند کرنے کی کوشش، کٹا پال سکیم کا اجراء، شاہ پور کانجراں سلاٹر ہاؤسں کا فعال ہونا، موٹرسا ئیکلوں کی تقسیم، نئی ویکسینز کی تیاری، غیر معیاری کھل بنولہ ، روٹی کے ٹکڑوں کی فروخت اور ذخیرہ اندوزی پر پابندی اور لائیوسٹاک پالیسی کی منظوری ۔۔ اگرچہ ان میں سے چند اقدامات اوران کے اٹھانے کے طریقہ کار سے اختلا ف ہو سکتا ہے ۔۔ مگرمجموعی طور پر ان سرگرمیوں سے محکمہ لائیوسٹاک اور ویٹرنری پروفیشن نے حکومتی سطح پر اپنے آپ کو منوا کر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لیا۔
پنجاب کے لائیوسٹاک سیکٹر میں تیزی کااثر باقی صوبوں پر بھی پڑا اور ادھر سے بھی چھوٹی موٹی کارروائیوں کی خبریں موصول ہوتی رہیں۔ خیبر پختونخواہ میں حلال گوشت سرٹیفیکیشن بورڈ بنانے کا اعلان سامنے آیا جبکہ میٹ کمپنی قائم کرنے کا بھی عندیہ ملا۔پروفیسر سبحان قریشی کے ڈیری سائنس پارک کی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔
ڈیری سیکٹر میں ترقی کی رفتار گزشتہ سالوں کی نسبت 2015 میں سست رہی، البتہ پہلے سے موجود کمرشل فارمز میں کسی حد تک وسعت ضرور آئی۔ ڈیری سیکٹر کو سروسز اور مصنوعات پہنچانے والوں کا کاروبار نسبتاََماٹھا رہا۔ پالتو جانوروں کے ڈاکٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور نئے Pets Clinicsبھی بنائے گئے۔ پاکستان کی دیگر صنعتوں کی طرح پولٹری انڈسٹری بھی بحران کا شکار رہی مگر اس حوالے سے پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے مل بیٹھنے اور خصوصاََ عام لوگوں میں موجود پولٹری مصنوعات کے بارے بے بنیاد شکوک و شبہات کو دور کرنے کی آواز کے بلند ہونے سے مثبت تاثرملا۔
کئی سالوں سے سوئی ہوئی پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن پچھلے سال بھی سوئی رہی جبکہ پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل نے حسبِ روایت ویٹرنری پروفیشن کے لئے مسائل پیدا کرنے کا سلسلہ جاری ہی رکھا۔ البتہ ویٹرنری ایسوسی ایشن کی جانب سے انٹرنیشنل لائیوسٹاک ،ڈیری و پولٹری کانگریس کو ایک چھوٹے ہال سے ایکسپو سنٹر جیسے بڑے پلیٹ فارم پرلے جانا بہتر سوچ تھی۔ دوسری جانب انٹرنیشنل پولٹری ایکسپو سے کتابی گفتگو کو نکال کر اسے بین الاقوامی معیار کی نمائش بنانے کی کوشش اورپولٹری فیملی فیسٹیول کا انعقاد پولٹری ایسوسی ایشن کے اچھے اقدامات تھے ۔ اگیارہ سال بعد لاہور میں ہارس اینڈ کیٹل شو کا بھی انعقاد حکومت پنجاب کا اچھا فیصلہ تھا ۔لاہور کے مقامی ہوٹل میں حلال ڈیویلپمنٹ کانفرنس کے انعقا د میں کوئی خاص محنت نظر نہیں آئی۔
یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز لاہور میں پورا سال ان گنت تقریبات منعقد کی گئیں اور میڈیا میں ان کا پرچار بھی خوب ہوا۔ دوسری جانب بہاولپور میں نئی ویٹرنری یونیورسٹی کا منصوبہ بھی جاری رہا۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی ویٹرنری فیکلٹی کی نئی بلڈنگ کا قیام اور باقی ویٹرنری تعلیمی اداروں کے معاملات کی بہتری بھی حوصلہ افزا رہی ۔ البتہ وائس چانسلر کی تعصبانہ پالیسی اور برسوں سے جاری اندرونی گندی سیاست نے جامعہ زرعیہ فیصل آباد کی ویٹرنری سائنس فیکلٹی کو گزشتہ برس بری طرح متاثر کیا اور بدقسمتی سے یہ حال اس یونیورسٹی کی فیکلٹی آف اینیمل ہذبنڈری کا بھی رہا۔
پنجاب کوالٹی میٹ اینڈ سلاٹرریگولیشن ایکٹ 2013کے لئے مثبت پیش رفت، پنجاب لائیوسٹاک بریڈنگ سروسز ایکٹ کی منظوری، حلا ل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا قیام اور نیشنل ایگریکلچر ریسرچ کونسل NARCاسلام آباد کی زمین پر رہائشی کالونی بنانے کی ناکام کوشش کی خبریں بھی سال 2015 میں ملیں۔ سب سے اہم پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کاروائیوں نے لائیوسٹاک سیکٹر کے ساتھ ساتھ فوڈ انڈسٹری کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔
سیکرٹری لائیوسٹاک پنجاب نے گزشتہ برس ڈیپارٹمنٹ میں جو کیا اس سے دو نتائج نکلے:
1 ۔ معلوم ہوگیا کہ محکمہ میں افسران کی بڑی تعداد موجود ہے جو کام کرنے کا جذبہ اور صلاحیت رکھنے کے ساتھ ساتھ کرنا بھی چاہتی ہے۔کوئلوں میں رہ کر کالے ہونے والے ان ہیروں کو جب بھی کوئی تراشنے والا آئے گا تو یہ ضرور چمکیں گے۔
2 ۔ نہ صرف صوبائی بلکہ وفاقی سطح پر بھی ویٹرنری پروفیشن کی ایک حیثیت بن گئی۔ وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے وفاقی سیکرٹری کے ہمراہ محکمہ کا دورہ کیا اور سرگرمیوں کو سراہا۔ دوسری جانب چیف منسٹر نے افسران کے لئے مراعات کے اعلان کے ساتھ ساتھ سیکٹر کو خصوصی پیکج دینے کا بھی وعدہ کیا۔ وہ محکمہ جسے ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا تھا اس کا اعلیٰ سطح پر سراہا جانا ہم سب کے لئے فخر کا باعث ہے۔