قربانی کے جانور کی خریداری، دیکھ بھال اور احتیاطی تدابیر: ایک مکمل رہنمائی
قربانی کے جانور کی خریداری میں جانور کی صحت کا خاص خیال رکھیں۔ گھر میں جانور کی حفاظت کریں اور اسے بیماریوں سے بچائیں۔ خریداری سے قبل جانور کا معائنہ اچھی طرح کریں اور اس سلسلے میں جانور کے مالک کی معاونت حاصل کریں۔ خاص طور پر بڑے جانور کے زیادہ قریب نہ جائیں۔ بڑے جانور کی صورت میں اس کے دانت وغیرہ بھی خود چیک نہ کریں بلکہ اس کے لئے مالک کی مدد حاصل کریں۔ چست، صحت مند اور صاف ستھرا جانور خریدیں۔ ایسا جانور جو کمزور اور لاغر ہو یا دوسرے جانور سے الگ ہو، تو اس کے بیمار ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس حوالے سے تسلی کے بعد جانور کا انتخاب کریں۔ شرعی اعتبار سے دانت لازمی چیک کریں کیونکہ اس میں کئی دفعہ دھوکہ بھی ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اس بات کی بھی یقین دہانی کر لیں کہ جانور چلتا ٹھیک ہے اور اس کے جسم پر کوئی زخم وغیرہ نہیں۔ اگر جانور کے بیمار ہونے کا شبہ ہو تو منڈی میں موجودمحکمہ لائیوسٹاک کے کیمپ سے خدمات حاصل کریں۔
صحت سے متعلق احتیاط
عیدالاضحی پر کانگو وائرس کے پھیلاؤ کا بھی خطرہ ہوتا ہے اور اس بیماری سے انسان بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ خاص قسم کا وائرس ہے جو جانوروں کے جسم پر موجود چیچڑوں کے کاٹنے سے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔ اس بیماری کے اکا دکا کیسز ہر سال سامنے آتے ہیں مگر اس بیماری نے جانوروں کی اتنی بڑی نقل و حرکت کے باوجود کبھی وباء کی شکل اختیار نہیں کی۔ ایک بات واضح رہنی چاہئے کہ نہ تو ہر جانور پر چیچڑ ہوتے ہیں اور نہ ہی ہر چیچڑ میں یہ وائرس ہوتا ہے۔ چیچڑکی مختلف اقسام میں سے ایک خاص قسم ہے جس میں یہ وائرس پایا جاتا ہے۔ یہ وائرس اس خاص قسم کے چیچڑ کے کاٹنے سے انسانی جسم میں داخل ہو کر بیماری کا سبب بنتا ہے۔ اسی طرح متاثرہ جانور کے خون وغیرہ سے بھی یہ بیماری لگ سکتی ہے۔
منڈی میں جانے کے دوران احتیاطی تدابیر
کانگو بخار کے حوالے سے احتیاط لازم ہے۔ کوشش کریں کہ دن کے وقت جانور کی خریداری کیلئے جایا جائے۔ اگر رات کے وقت خریداری کرنی ہو تو ٹارچ وغیرہ ساتھ لے کر جائیں یا موبائل فون کی لائٹ کا استعمال کریں۔ ہلکے رنگ کے کپڑے پہن جائیں تاکہ کسی بھی قسم کا پتنگا یا کیڑا اگر کپڑوں پر بیٹھے تو نظر آ جائے۔ پوری آستین والے کپڑے پہنے جائیں۔ خریدار ی کے دوران جانور کو بلا ضرورت ہاتھ نہ لگایا جائے۔ زیادہ احتیاط کی صورت میں دستانوں کا استعمال کرنا چاہئے۔ اگر جانور پر چیچڑ نظر آئیں تو منڈی میں موجودمحکمہ لائیو سٹاک کے کیمپ سے رابطہ کریں۔ چیچڑ کو ہاتھ سے نہ اتاریں اور نہ ہی اسے انگلیوں سے مسلیں۔ اسے پلاس یا کسی سخت چیز سے پکڑ کر ماریں۔
بکرا منڈی میں جاتے ہوئے جوتے بند پہنیں تاکہ جانور کے پاؤں آنے یا ٹھوکر لگنے سے زخم نہ ہو۔ اگر جوگر شوز پہن لئے جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔ بچوں کو منڈی میں لے جانے سے گریز کریں۔
قربانی کے جانور کی خریداری سے پہلے ضروری انتظامات
جانور کی خریداری پر جانے سے پہلے جانور کو باندھنے کا انتظام کر لینا چاہئے۔ یہ خاص طور پر بڑے جانور کی صورت میں بہت ضروری ہے۔ اکثر اوقات جانور گھر کے دروازے پر پہنچ جاتا ہے اور اسے باندھنے کا انتظام نہیں ہوتا جس کے باعث بعض اوقات حادثات کا سامنا بھی کرنا پڑ جاتا ہے۔ اسی طرح خریداری سے پہلے جانور کے چارے وغیرہ کا بھی مناسب انتظام کر لیں۔
قربانی کے جانور کی خریداری شرعی رہنمائی اور بہتر انتخاب
جانوروں کی خریداری کے حوالے سے جو شرعی مسائل ہیں ان سے آگاہی حاصل کر لینی چاہئے کیونکہ اکثر اوقات ایسا جانور خرید لیا جاتا ہے جو شرعی اعتبار سے قربانی کے قابل نہیں ہوتا۔ منڈی جاتے ہوئے کسی تجربہ کار شخص کو ضرور ساتھ لے کر جائیں تاکہ بہتر جانور کی خریداری مناسب قیمت میں ہو سکے۔
سب سے پہلے جانور کی عمر کا خیال رکھنا چاہئے کیونکہ شریعت میں قربانی کے جانور کے لیے مخصوص عمر مقرر ہے۔ بکرا، بکری اور بھیڑ کم از کم ایک سال کے ہونے چاہئیں، جبکہ گائے، بیل اور بھینس کی عمر کم از کم دو سال ہونی چاہئے۔ اونٹ کی عمر کم از کم پانچ سال ہونی ضروری ہے۔ جانور کی عمر کا اندازہ عام طور پر دانت دیکھ کر لگایا جاتا ہے، اسی لیے دانتوں کی اچھی طرح جانچ کرنا ضروری ہے۔ بعض اوقات دھوکہ دہی کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں، اس لیے اگر خود تجربہ نہ ہو تو کسی ماہر یا تجربہ کار شخص کی مدد حاصل کرنی چاہئے۔
اسی طرح جانور میں ایسے نقائص نہیں ہونے چاہئیں جو شرعی طور پر قربانی میں رکاوٹ بنیں۔ ایسا جانور جو ایک آنکھ سے اندھا ہو، بہت زیادہ لنگڑا ہو، اتنا کمزور ہو کہ خود چل نہ سکے، یا شدید بیمار ہو، قربانی کے لیے مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ اسی طرح اگر جانور کے کان یا دم کا بڑا حصہ کٹا ہوا ہو تو بھی شرعی مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے جانور کو خریدنے سے پہلے اچھی طرح چلوا کر دیکھنا چاہئے تاکہ اس کی چال درست ہونے کا اطمینان ہو جائے۔
جانور کی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی شرعی اہلیت۔ ایک چست، صحت مند، صاف ستھرا اور متحرک جانور بہتر انتخاب ہوتا ہے۔ اگر جانور کمزور، بے جان، یا دوسرے جانوروں سے الگ تھلگ کھڑا ہو تو یہ بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔ جانور کی آنکھیں صاف اور چمکدار ہونی چاہئیں، ناک سے غیر معمولی رطوبت نہ آ رہی ہو، سانس لینے میں دشواری نہ ہو، اور جسم پر زخم یا سوجن نہ ہو۔
بڑے جانور کو گھر لانے میں احتیاط
بڑے جانور کی خریداری کی صورت میں اسے خود گھر لانے کی کوشش نہ کریں۔ اس کے لئے یا تو کسی ایسے شخص کو ساتھ لے جائیں جسے جانوروں کو سنبھالنے کا تجربہ ہو یا جس شخص سے جانور خریدا ہو، اسے معقول معاوضہ دے کر گھر تک پہنچانے کی سروس حاصل کر لیں۔ یہ اس لئے ضروری ہے کہ اکثر اوقات یہ جانور شہر کے رش اور ٹریفک سے گھبرا جاتے ہیں اور بعض دفعہ بڑے نقصان کا سبب بنتے ہیں۔
گھر میں جانور کو محفوظ رکھنے کا طریقہ
جانور کو گھر لانے کے بعد فوراََ مناسب جگہ پر باندھ دیں۔ بڑے جانور کو خاص طور پر پھسلن والی جگہ پر ہرگز نہ باندھیں۔ اسی طرح جانور کو باندھتے ہوئے اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ یہ شدید موسمی اثرات سے محفوظ رہے۔ جگہ ہوادار اور سایہ دار ہونی چاہئے۔ کسی بند کمرے میں باندھنے سے گریز کریں۔
جگہ کے انتخاب میں احتیاط
اس بات کی بھی یقین دہانی کر لیں کہ جس جگہ جانور باندھا جا رہا ہے وہاں بجلی کا بورڈ، نوکیلی چیز یا کوئی ایسی شے تو نہیں جس سے جانور کو نقصان پہنچ سکے۔ اگر جانور گھر سے باہر باندھنا ہو تو خیال رکھیں کے قریب بجلی کا کھمبا وغیرہ نہ ہو۔ اسی طرح بجلی کے کھمبے سے بھی جانور کو نہ باندھیں۔ باہر باندھتے ہوئے اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ راستہ نہ رکے اور جانور کو بھی کسی قسم کی مشکل نہ پیش آئے۔
جانور کی خوراک اور دیکھ بھال
جانور کو تازہ چارہ کھلائیں۔ زیادہ مقدار میں دانہ، کھل، چوکر وغیرہ کھلانے سے گریز کریں کیونکہ اگر جانور نے یہ پہلے نہ کھایا ہو تو اس سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ چارے میں توڑی وغیرہ ملائی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے اگر جانور کے مالک سے پوچھ لیں کہ جانور پہلے کیا کھاتا ہے تو بہتر ہو گا۔ جانور کو گڑ، مکھن، دودھ جلیبی، سوڈا کی بوتل، شربت، جوس، پاپڑ، دودھ سوڈا، ڈرائی فروٹ اور دیگر اس طرح کی چیزیں ہرگز کھانے کو نہ دیں۔ اس سے جانور کے بیمار ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
جانور کو باہر لے جانے سے گریز
جانور کو بلا ضرورت نہ کھولیں اور باہر گھمانے کے لئے نہ لے کر جائیں۔ بڑے جانور کی صورت میں تو اس چیز کا خاص طور پر خیال رکھیں۔ اکثر لوگ شوق میں جانور کو باہر لے جاتے ہیں اور پھر تجربہ نہ ہونے کے باعث جانور کو قابو نہیں کر پاتے۔ ایسی صورت میں وہ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کا بھی نقصان کرتے ہیں۔ کئی دفعہ جانی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔
بیماری کی صورت میں کیا کریں؟
جانور کے بیمار ہونے کی صورت میں ارد گرد کے لوگوں سے مشورہ کرنے یا خود سے علاج کرنے کی بجائے قریبی جانوروں کے ہسپتال سے رابطہ کریں۔ اگر جانوروں کے ہسپتال کا علم نہ ہو تو محکمہ لائیوسٹاک کے دفتر یا ڈپٹی کمشنر یا اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر سے معلومات حاصل کر لیں۔
ذبح کے وقت احتیاطی تدابیر
جانور ذبح کرنے کے لئے کسی تجربہ کار قصائی کا انتخاب کریں۔ بڑے جانور کی صورت میں قصائی کے انتخاب میں احتیاط بہت ہی ضروری ہے کیونکہ اکثر اناڑی قصائی جانور کو قابو نہیں کر پاتے اور پھر نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ اس مناسبت سے اردگرد یا رشتے داروں میں موجود کسی ایسے شخص کو بھی بلا لیں جسے جانوروں کے سنبھالنے کا تجربہ ہو، تاکہ ذبح کرنے کے دوران وہ معاونت کر سکے۔ اونٹ کی قربانی کے لئے عام قصائی کی خدمات حاصل کرنے کا رسک نہ لیں بلکہ ایسے قصائی کو تلاش کریں جو اونٹ ذبح کرنے کا ماہر ہو۔
کھال کی حفاظت کیسے کریں؟
جانور ذبح کرنے کے لئے صاف ستھری جگہ کا انتخاب کریں۔ جانور ذبح کرنے کے بعد اس کی کھال کی خاص طور پر حفاظت کریں۔
کھال اتارتے وقت احتیاط کریں کہ اسے کٹ نہ لگیں۔ پاکستان میں ہر سال بڑی تعداد میں کھالوں کی قیمت اسی وجہ سے کم ہو جاتی ہے جس سے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح گرمی کے باعث بھی کھالیں بڑی تعداد میں خراب بھی ہو جاتی ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ کھال اتارنے کے بعد اسے پھیلا دیں اور اس پر اندر کی جانب اچھی طرح نمک چھڑک دیں۔ کھال کو لپیٹ کر یا شاپر میں ڈال کر ہرگز نہ رکھیں۔ جہاں کھال دینی ہو جلد از جلد اس جگہ تک پہنچائیں۔
صفائی اور ماحول کا خیال
عید الاضحی کے موقع پر مجموعی طور پر صفائی کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ جانوروں کی الائشوں کو کھلے عام گلی محلوں اور سڑکوں پر نہ پھینکیں۔ اس کے لئے کسی شاپنگ بیگ یا توڑے وغیرہ کا انتظام پہلے کر کے رکھیں جس میں الائشیں ڈال کر مقرر کردہ جگہ پر پھینکی جا سکیں۔
گوشت کی صفائی اور تیاری
قربانی کا گوشت خاص طور پر صاف ستھری جگہ پر بنائیں۔ اس کیلئے کوئی ایسا کپڑا یا دری وغیرہ نہ بچھائیں جس سے دھاگے یا ریشے گوشت کے ساتھ چپک جائیں۔ قالین یا دری کے برعکس کپڑے کی چادر کا انتخاب کریں۔
گوشت کی تقسیم اور سماجی ذمہ داری
قربانی کے گوشت کی تقسیم میں غریب اور مستحق لوگوں کا لازمی خیال رکھیں کیونکہ بہت بڑی تعداد میں ہمارے ارد گرد لوگ ایسے موجود ہوتے ہیں جنہیں صرف عید کے موقع پر ہی کھل کر گوشت کھانا نصیب ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کی قربانی کو قبول فرمائے۔ آمین