بھیڑوں کے خارشی طفیلیات – مائیٹس

GCLI Sexed Semen for Cows and Buffaloes

Mange Mites in Sheep | Sheep Mange Parasites (Mites) | بھیڑوں کے خارشی طفیلیات – مائیٹس

There are different types of Mange Mites in Sheep which cause itching. They have different structure. They attack on the skin specially in rainy season. Itch Mite Sheep treatment is also common at local level. These cause economic losses and also affects the skins. Mange Mites in Sheep in English and Urdu information.  | بھیڑوں کے خارشی طفیلیات – مائیٹس | Authors: Aiman Batool, Dr. Sohail Sajid, Saba Mehnaz

Kisan Dost Cattle Feed for Meat and Dairy Farming
Virtual Veterinary Expo Live

سلاٹر ہاؤس فضلے کا کھاد کے طور پر استعمال اور پیرا سائیٹس کا کنٹرول، ویٹرنری کالج نارووال میں سیمینار

کانگور بخار آگاہی، سندھ پریس کلب اور محکمہ لائیوسٹاک جام شورو کے اشتراک سے تقریب

Introduction of External Parasites and Mange Mites

External parasites include ticks, mange mites, flies, fleas, and mosquitoes. These parasites attack their hosts in different ways. External parasites spend their entire life on the host and grow by feeding on it, while some spend part of their life on the host and the rest in the surrounding environment. These parasites not only affect national livestock production but also carry harmful pathogens, negatively impacting both production and animal health. Mange mites live on the skin of animals and adversely affect both the skin and overall health of the animal.

Mange mites are found not only in Pakistan but also in many countries worldwide. Developed countries such as the United Kingdom and the United States have taken special measures to control them, but complete eradication has not been achieved. In developing countries like Pakistan, Bangladesh, and India, their impact is much greater, leading to reduced production every year and negatively affecting exports.

Mange mites cause damage from birth to growth stages. They affect the animal’s skin and reduce its beauty, which ultimately lowers its market value. This results in economic loss for both the owner and the country. These parasites can also infect humans. Transmission occurs through close contact with animals, their waste, or their skin. They can also spread from human to human through daily-use items such as combs, towels, and clothes.

Structure of Mites inSheep 

External parasites are very small in size. Their body is segmented and covered with a hard chitin layer. They have eight legs with brown hairs. Their shape is oval, and their color is yellowish-white. The size of male mites is about 0.5 mm, while female mites can be up to 0.65 mm. They have two antenna-like structures on their head.

Life Cycle of Mange Mites in Sheep 

Mange mites spend most of their life on the host. Their saliva contains enzymes that help them feed on the animal’s skin. As they feed, they create tunnels in the skin where the female lays eggs. These eggs are small, numerous, and white in color. Under suitable conditions, the eggs hatch and begin their life cycle.

The larvae have six legs; the front four legs have suckers, while the rear two have hairs. After a few days, the larvae develop into nymphs with eight legs, where the rear four legs have hairs.

The adult mite is brown in color and lives by burrowing into the skin. If it fails to do so, it dies quickly. It feeds on the animal’s skin, and initially, the animal may not feel itching, but symptoms appear later. The interval between egg-laying cycles is 12–15 days, while the total life span of mange mites is 30–40 days.

Types of Mange Mites in Sheep

There are four main types of mange mites that cause itching in sheep:

  • Psoroptic
  • Sarcoptic
  • Chorioptic
  • Demodectic

Each type affects the animal differently. Psoroptic mites are the most common and difficult to control. The other three types generally cause less damage.

Sarcoptic mites mainly affect the face and head. Chorioptic mites are found on the legs, especially in hairy areas, causing irritation in the upper skin layers. Demodectic mites attack hair follicles and skin pores, resulting in small nodules on the skin.

Attack and Effects of Mange Mites

Mange infestations are most common during the rainy season. These parasites attack the animal’s skin and feed on it. Their bites cause itching and wounds. Fluid may ooze from the wounds and, upon drying, forms scabs. The edges of these scabs appear red, shiny, and moist, indicating parasite infestation.

The affected area gradually spreads, and the wool of sheep becomes dull and starts falling off.

Treatment of Mange Mites in Sheep

In rural areas, due to lack of proper veterinary facilities, people often use kerosene oil or turpentine oil on affected areas, which is not an appropriate treatment. Some also use ash, which is ineffective.

The most satisfactory treatment is the use of a lime sulfur solution. The animal is dipped in the solution in such a way that its head remains above water. This treatment is applied after infestation and repeated on the 12th day.

Other treatments include:

  • Nicotine sulfate solution
  • Benzene hexachloride powder applied to affected areas
  • Ivermectin injection

Preventive Measures

  • Isolate infected animals from healthy ones
  • Maintain proper cleanliness of animal housing
  • Replace bedding before introducing new animals
  • Whitewash the walls of animal sheds with lime
  • Dip animals in antiparasitic solutions
  • Use deworming and antiparasitic medicines regularly
  • Ensure sunlight exposure to keep wool dry

Conclusion

The purpose of this awareness article is to educate common people in simple language so they can understand and manage mange mite infestations effectively. Awareness helps farmers protect their animals from parasites and use proper treatments in time.

If animals show signs of infestation, they should immediately consult a nearby veterinary hospital for proper diagnosis and treatment. Further guidance and research projects are being developed at the University of Agriculture to control these parasites, strengthen sheep health, and improve exports, ultimately contributing to the country’s economy.

ایمن بتول ، ڈاکٹر سہیل ساجد، صباء مہناز 

بیرونی طفیلیات میں چیچڑ ، خارشی طفیلیات ، مکھیاں پسو اور مچر شامل ہیں۔ مختلف انداز میں یہ اپنے میزبان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بیرونی طفیلیات ساری زندگی اپنے میزبان پر گزار دیتے ہیں اور اس سے اپنی خوراک حاصل کرکے نشوونما پاتے ہیں۔ کچھ طفیلیے زندگی کا کچھ حصہ میزبان پر گزارتے ہیں اور باقی اردگردکے ماحول میں گزار دیتے ہیں۔ ان طفیلیوں کے حملہ آوار ہونے سے نہ صرف ملکی پیداوار پر اثر ہوتا ہے،بلکہ اپنے ساتھ موزی قسم کے جراثیم بھی لاتے ہیں۔ جس کی پیداوار کے ساتھ ساتھ جانور کی صحت پر برااثر ہوتا ہے۔خارشی طفیلیے جانور کی کھال پر رہتے ہیں۔ جو نہ صرف جانور کی کھال بلکہ اس کی صحت پر برا اثر ڈالتے ہیں۔
خارشی طفیلیات پاکستان کے ساتھ ساتھ بہت سے ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک جیسے کہ برطانیہ اور امریکہ وغیرہ میں ان کے خاتمے کیلئے خصوصی اقدامات کیے جاتے رہے ہیں مگر مکمل طور پر اس پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ ترقی پذیر مالک میں جیسے پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں ان کا اثر بہت زیادہ ہے۔ جسکی وجہ سے ہر سال پیداوار میں کمی واقعی ہو رہی ہے اور اس سے ہماری برآمدات پربھی بہت برااثر ہوتا ہے۔
خارشی طفیلیات پیدائش سے لیکر افزائش تک نقصان پہنچاتی ہیں۔ ان سے جانوروں کی کھال متاثر ہوتی ہے ا ور ساتھ ہی ساتھ ان کی خوبصورتی بھی ماند پڑ جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے فروخت کرتے وقت جانور کی قیمت کم ہو جاتی ہے۔ جس سے مالک اورملک دونوں کو نقصان ہو تا ہے۔ یہ طفیلیات نہ صرف جانوروں میں بلکہ انسانوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ جن کے منتقل ہونے کا صاف ذریعہ جانوروں کے حد سے زیادہ قریب ہونا ،ان کے فضلے اور کھال کے زیادہ قریب ہونے اور ان کو ہاتھ لگانا شامل ہیں۔ یہ طفیلیے انسانوں سے انسانوں میں بھی بذریعہ روز مرہ کی اشیاء مثلاً کنگھی ،تولیہ اور کپڑوں وغیرہ سے منتقل ہوتے ہیں۔

ساخت:
بیرونی طفیلیے دیکھنے میں بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ ان کا جسم قطعہ دار ہوتا ہے۔ اور جلد پر کائٹین کی سخت پرت ہوتی ہے۔ جسم پر آٹھ ٹانگیں ہوتی ہیں۔ جن پر بھورے رنگ کے بال ہوتے ہیں۔ یہ شکل کے لحاظ سے انڈہ نما ہوتی ہیں۔ اور ان کا رنگ زردی ماڈل سفید ہوتا ہے۔ نرطفیلیے کا سائز۵۔۰ملی میڑاور مادہ طفیلیے کا سائز ۶۵۔۰ ملی میٹرتک ہوتا ہے۔ ان کے سر پر دو مونچھیں ہوتی ہیں۔ جنہیں انٹیلیا کہتے ہیں۔
دورحیات:
بیرونی خارشی طفیلیات اپنی زیادہ تر زندگی میزبان پر گزارتے ہیں۔ ان کے لعلب میں ایسے خامرے ہوتے ہیں۔ جو جانور کی کھال کو کھانے میں مدددیتے ہیں۔ جس جس جگہ سے یہ کھال کو کھاتے ہیں، ادھر سرنگ سی بن جاتی ہے اور مادہ انہی سرنگوں میں انڈے دیتی ہے۔ جو سائز میں چھوٹے اور تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں اور سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔ مناسب ماحول ملنے پر یہ انڈے ٹوٹ جاتے ہیں اور باقاعدہ زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔
لاروے کی چھ ٹانگیں ہوتی ہیں جن میں سے اگلی چار ٹانگوں پر سکرزاور پچھلی دوٹانگوں پربال ہوتے ہیں۔ لاروا چند دنوں بعد بچہ(نمف) میں بدل جاتا ہے۔ جسکی آٹھ ٹانگیں ہوتی ہیں۔ جن میں سے پچھلی چار پر بال ہوتے ہیں۔
جوان بورے رنگ کا ہوتا ہے۔ جو جلد میں گڑھا بنا کر رہتا ہے۔ اگر یہ ایسا نہ کرے تو یہ جلدی مر جاتا ہے۔ یہ جانور کی کھال کھاتا رہتا ہے اور جانور کو پتہ نہیں چلتا اور نہ ہی خارش ہوتی ہے۔ مگر بعد میں اس کے اثرات شروع ہو جاتے ہیں۔ ایک دفعہ انڈہ دینے سے دوسری دفعہ انڈہ دینے تک کا دورانیہ بارہ سے پندرہ دن تک ہے۔جبکہ خارشی طفیلیات کی زندگی کا کل دورانیہ۳۰ سے ۴۰ دن تک کا ہے۔
خارشی طفیلیات کی انواع:
خارشی طفیلیات جو کہ بھیڑوں میں خارش پیدا کرتی ہیں ان کی چارانواع ہیں جن میں بسورپیٹک ،سار کو پیٹک ،کوری بیٹک اور ڈیموڈٹیک شامل ہیں۔ یہ چاروں انواع اپنی نوعیت اور خصوصیات کے مطابق جانور کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ عام طور پر سب سے زیادہ پائی جانے والے خارشی طفلیےے پسوریٹک ہیں جو کہ بڑی مشکل سے قابو میں آتی ہیں۔ باقی کی تین انواع بہت کم نقصان پہنچاتی ہیں۔ سارکو پیٹک خارشی طفیلیے زیادہ تر چہرے اور سر کی جلد کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ کوری اور پیٹک جانوروں کی ٹانگوں کے اس حصہ پر پائی جاتی ہیں۔ جہاں پر بال ہوتے ہیں، جلد کے اوپری حصہ میں خارش اور الرجی پیداکرتی ہیں۔ ان طفیلیوں کی چھوتی قسم ڈیماڈ یٹک جو کہ بالوں کے خلیوں اور جلد کے مساموں پر حملہ آور ہوتے ہیں اس کے اثر کی وجہ سے جلد پر چھوٹے چھوٹے دانے بنتے ہیں۔
خارشی طفیلیوں کا حملہ اور اس کے اثرات:
زیادہ تر خارشی طفیلیے کی وجہ سے بیماریاں برسات کے موسم میں ہوتی ہیں، یہ جانور کی جلد پر حملہ کرکے خوراک کا بندوبست کرتی ہیں۔ ان کے کاٹنے کی وجہ سے جلد پر خارش ہوتی ہے اور زخم بن جاتا ہے۔ جہاں سے مواد خارج ہوتا ہے اور خشک ہونے پر کھرنڈبن جاتا ہے۔ اس کھرنڈ کے کنارے سرخ، چمکدار اور گیلے ہوتے ہیں جس سے پتہ چل جاتا ہے۔ کہ طفیلیے حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ متاثرہ حصہ آہستہ آہستہ بڑھتا جاتا ہے اور بھیڑوں کی اون بے جان ہو کر گرنا شروع ہو جاتی ہے۔
علاج:
دیہی علاقوں میں ادویات کی سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے لوگ خارشی طفیلیوں کو قابو میں پائے کیلئے مٹی کا تیل اور تارپین کا تیل متاثرہ حصوں پر لگاتے ہیں جو کہ مناسب علاج نہیں ہے۔ بعض لوگ راکھ کا استعمال بھی کرتے ہیں جو موافق علاج نہیں ہے۔خارشی طفیلیوں پر قابو پانے کیلئے لائم سلفر کا محلول ہی اطمینان بخش علاج ہے اس میں لائم سلفر کا محلول بنا کر جانور کو اس مں اسطرح ڈبویا جاتا ہے کہ اس کا منہ باہر رہے اور یہ عمل حملہ کے بعد کیا جاتا ہے اور اس کو بارہومیں دن دہرایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ
۔ نکوٹین سلفیٹ کا محلول بھی علاج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
۔ بیننر بن بیگزا کلورائڈ کا پاؤڈر متاثرہ حصہ پر لگاتے ہیں
۔ آئیور میگلٹین کا انجگشن بھی علاج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
احتیاطی تدابیر:
متاثرہ جانور کو دوسرے جانوروں سے الگ کر دینا چاہیے۔
جانوروں سے باڑہ کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔
باڑہ میں نیا گروہ لا نے سے پہلے بچھائی کو تبدیل کیا جائے۔
باڑہ کی دیواروں کو چونے سے رنگ دیا جانا چاہیے۔
کرم کش محلول میں جانوروں کو ڈبونا چاہیے۔
کرم کش ادویات کا استعمال کرناچاہیے۔
سورج کی روشنی مہیا کرنی چاہیے تاکہ بالوں میں نمی نہ رہ جائے۔
یہ آگاہی مضمون لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ عام آدمی جو کہ طبی باتوں کو نہیں سمجھ پاتا اس کو آسانی سے سمجھایا جاسکے اور اس کے شعور کو اجاگر کرکے اسے خارشی طفیلیات کے طبی علاج سے متعارف کرایا جاسکے تاکہ وہ جانوروں کو بیماری پیدا کرنے والے طفیلیات سے محفوظ رکھ سکے اور بروقت جراثیم کش ادویات کا استعمال کرنے۔ اگر جانوروں میں طفیلیات کا حملہ ہو چکا ہو تو ظاہری علامات دیکھ کر فی الفور قریبی شفاء خانہ حیوانات میں موجود ڈاکٹر سے رجوع کرنے اور مناسب علاج کروائے۔ مزید رہنمائی کیلئے جامعہ زرعی کے شعبہ طفیلیات پر قابو پانے کیلئے بہت سارے منصوبے تیار کئے جا رہے ہیں۔ تاکہ مستقبل میں بھیڑوں کو خارشی طفیلیات سے بچایا جائے، مضبوت بنایا اور بھیڑوں کی برآمدات میں اضافہ کرکے ملک کی معیشت کو آگے لایا جاسکے۔

Goodman's - AI Total - Bovine Genetics
author avatar
Editor In Chief
Dr. Jassar Aftab is a qualified Veterinarian having expertise in veterinary communication. He is a renowned veterinary Journalist of Pakistan. He is veterinary columnist, veterinary writer and veterinary analyst. He is the author of three books. He has written a number of articles and columns on different topics related to livestock, dairy, poultry, wildlife, fisheries, food security and different aspects of animal sciences and veterinary education.
Scroll to Top