لائیوسٹاک ایسوسی ایٹ ڈگری اور ویٹرنری پروفیشن

مضامینِ نو 
لائیوسٹاک ایسوسی ایٹ ڈگری اور ویٹرنری پروفیشن
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب 
یہ موقف بے وزن نہیں کہ پیرا ویٹرنری ایجوکیشن سے متعلقہ تعلیمی کورس میں وقت کے ساتھ ساتھ بہتری آنی چاہیے جس طرح ویٹرنری گریجویٹس کے کورس میں آئی مگر اس موقف کی آڑ میں متوازی کورسز کا آغاز کرنا ہر گز درست نہیں۔ اس کا مستقبل میں نقصان ہو گا بالکل اسی طرح جیسے ویٹرنری گریجویشن کے متوازی مختلف ناموں سے ڈگریاں شروع کر کے ہوا۔
گزشتہ دنوں یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کے ادارہ فروغِ تعلیم و توسیع کی جانب سے ایک اشتہار سامنے آیا جس میں ’’لائیوسٹاک ایسوسی ایٹ ڈگری‘‘ کے نام سے ایک نئی ڈگری کے آغاز کا اعلان کیا گیا ۔ تعلیم اس کے لئے ایف ایس سی (پری میڈیکل) مانگی گئی جبکہ اس دو سالہ ڈگری کی بنیاد پر ڈی وی ایم میں داخلہ دینے کی بات بھی ہوئی۔ ظاہری طور پر یہ ڈگری ویٹرنری اسسٹنٹس جیسے افراد کی پیداوار کے لئے بنائی گئی لگتی ہے۔حقائق سے منہ موڑتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو یہ ایک اچھاقدم ہے کہ میڈیکل کے شعبہ میں نرسوں کے لئے ایف ایس (پری میڈیکل) کے بعد چار سال تک کی ڈگری متعارف کروا ئی گئی اور اس میں ایم ایس کے پروگرام کا بھی آغاز ہوا۔ لیکن ویٹرنری پروفیشن اور اس سے متعلقہ تلخ حقائق کو اگر مدنظر رکھا جائے تو یہ انتہائی غیر مناسب فیصلہ ہے جس کی بنیاد بادی النظر میں مفاد پرستی کے علاوہ کچھ بھی نہیں دکھتی۔
اس وقت پنجاب میں بہت سی یونیورسٹیوں نے ڈی وی ایم کی ڈگریاں شروع کر رکھی ہیں ۔ ڈی وی ایم کے ساتھ ساتھ ایسی ڈگریاں بھی موجود ہیں جو بلاواسطہ یا بالواسطہ اس ڈگری سے متصادم ہیں۔ اب ان ڈگریوں کے نتیجے میں ہرسال یونیورسٹیوں سے سینکڑوں کی تعداد میں گریجویٹس نکلتے ہیں۔ دوسری جانب سرکاری نوکریاں ان کے مقابلے میں اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں۔ نتیجتاََبڑی تعداد میںیہ نوجوان پرائیویٹ اداروں کا رخ کرتے ہیں۔ زیادہ تعداد میں پروفیشنلز اور مقابلے میں پرائیویٹ نوکریوں کی کمی، ان بیچاروں کو دس دس ،پندرہ پندرہ ہزار پر نوکری کرنا پڑتی ہے۔ دوسری جانب تعلیمی ادارے حالات سے ستائے ان نوجوانوں کو entrepreneurship جیسی ڈرامے بازیوں میں الجھا کر سہانے خواب دیکھاتے ہیں۔ انتہائی احترام کے ساتھ گزارش ہے کہ اگر اتنی ہی دلکشی ہے اسentrepreneurship میں تو چھوڑیں یونیورسٹی کی نوکری اور کریں کوئی چھوٹا کاروبار شروع۔ اپنے بچوں کے لئے تو یہ صاحبان پیدائش کے بعد ہی یونیورسٹی میں لیکچرار لگانے کی پلاننگ شروع کر دیتے ہیں اور پھر وقت آنے پر ہدف کے حصو ل کے لئے ہر طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں جبکہ غریبوں کے بچوں کو چھوٹے کاروبار کا درس دے کر ان کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں۔ صاحب جی’’ مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے‘‘ ۔۔۔یہ دلکش اصطلاحات تو بڑی دور کی چیزیں ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان تماشوں میں الجھے نوجوانوں کو ہوش تب آتا ہے جب دھکے پڑتے ہیں عملی زندگی کے۔ سیدھی بات ہے کہ ایک پروفیشن میں جتنی ضرورت ہے اتنے پروفیشنل گریجویٹس پیدا کرو اور ان کی کوالٹی پر توجہ دو۔کیوں قوم کا پیسہ اور نوجوانوں کا وقت ضائع کرتے ہو۔
ادھر پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل، علم نہیں کہ کس چیز کے پیسے اکٹھے کرتی ہے اور نہ ہی اس بات کا علم کہ اس ادارے نے ویٹرنری پروفیشن اور ویٹرنری ایجوکیشن کے لئے آج تک کیا کیا۔ ہاں قانون اور اصول کے نام پر سفید پوش اور غریب گھرانوں کے سینکڑوں بچوں کے لئے مسائل ضرور پیدا کئے ہوئے ہیں بلکہ ان کے مستقبل داؤ پر لگائے گئے ہیں اور اس میں ان ویٹرنری تعلیمی اداروں کا بھی برابر کا ہاتھ ہے۔
ابھی یہ نئی دریافت سامنے آئی ہے ایف ایس سی کے بعد لائیوسٹاک ایسوسی ایٹ۔ عجیب آئیٹم ہو گی یہ۔ اسے بتایا جائے گا کہ تم پیرا ویٹ ہو۔ اُدھر ایف ایس سی کے بعد داخلہ ملنے پر وہ اپنے آپ کو ویٹرنری اسسٹنٹ سے اوپر اور ویٹرنری ڈاکٹر کے قریب کی چیز سمجھے گا۔ جب اسے ڈی وی ایم میں داخلہ دیں گے تو زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی ایف اسی (پری ایگریکلچر) جیسے مسائل جنم لیں گے۔ دوسری جانب بطور ویٹرنری اسسٹنٹ سرکاری نوکری میں قانونی پیچیدگیاں آڑے آئیں گی۔آخر میں یہ بھی پرائیویٹ سیکٹر کا رخ کرے گا یا پھر پریکٹس کرے گا۔ نتیجتاََ پرائیویٹ سیکٹر جو ابھی ڈاکٹر کو دس پندرہ ہزار روپے دے دیتا ہے ،وہ بھی نہیں دے گا کہ اسے ویٹرنری ایسوسی ایٹ مہیا ہوچکا ہو گا۔ آخر کارڈی وی ایم اور دیگر متعلقہ گریجویٹس کے لئے مسائل پیدا ہوں گے اور پروفیشنل بیروزگاری میں مزید اضافہ ہو گا۔ دوسری جانب ویٹرنری اسسٹنٹس اور لائیوسٹاک ایسوسی ایٹس کے مابین الگ محاظ کھل جائے گا۔ ہاں اس سے فائدہ یونیورسٹی کو ضرور ہو گا کہ ان کی ایک ڈگری میں اضافہ ہو جائے گا اور مالی اہداف پورے کرنے میں تھوڑی آسانی رہے گی۔
متعلقہ اداروں کو حقائق کے قریب تر ہونا چاہئے اوریہ ایسوسی ایٹ ٹائپ کی نئی ڈگری ہرگز نہیں شروع کرنی چاہئے۔ اگر اتنا ہی احساس ہے ویٹرنری پروفیشن کا تو پہلے سے موجود ویٹرنری اسسٹنٹ کے ڈپلومے کو بہتر کر لیں۔ ٹھنڈے کمروں کی بڑی میزوں پر پڑی گرم چائے اور شیشے کی پلیٹوں میں سجی دلکش بیکری کے سامنے بیٹھ کر دی جانے والی پریزنٹیشنوں میں تو اس طرح کے اقدامات بڑے اچھے لگیں گے اور دلائل دے کر یہ ثابت بھی کر دیا جائے گا کہ لائیوسٹاک سیکٹر بلکہ ملک و قوم کی بقا اسی ایک ڈگری میں ہے مگر حقیت میں زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو یہ پروفیشن اور قوم کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہو گی۔ بلکہ یہ ڈگری نوجوانوں کے لئے ایک دھوکے کے مترادف ہو گی بالکل اسی طرح جس طرح سبز باغ دیکھتے ہوئے مختلف ڈگریوں میں نوجوان داخلے تو لے لیتے ہیں اور پھر بعد میں حقیقت کھلنے پر دونوں ہاتھوں سے اپنے بالوں کو پکڑ کر چیخیں مارتے ہیں۔ دوسری جانب یونیورسٹیوں والے انہیں entrepreneurship ، self motivation اور creativity جیسے سیراب کی جانب دھکیل کران کا تماشا دیکھتے ہیں اور خود وائس چانسلر ، ڈین، چیئرمین اور دیگر سیاستوں میں کھیل کر انجوائے کرتے ہیں اور پھر اقتدار کے مزے لیتے ہیں۔