گندم خریداری مہم اور ویٹرنری ڈاکٹرز کی ڈیوٹیاں 

گندم خریداری مہم اور ویٹرنری ڈاکٹرز کی ڈیوٹیاں
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب 
ہسپتال اور ان سے ملحقہ ڈسپنسریاں ۔۔ انسانوں نہیں بے زبانوں کی ۔۔ ویٹرنری ہسپتال، ویٹرنری ڈسپنسریاں اور ان میں بیٹھے ویٹرنری ڈاکٹر ۔۔ بے زبانوں کے مسیحا ۔۔ محنتی بنیادی طور پر ۔۔ کام ہے ہی محنت والا ۔ ۔ ان کی سرگرمیاں بیکار نہیں ۔ ۔ ان کی خدمات فضول نہیں۔
محکمہ لائیوسٹاک پنجاب کا ایک ویٹرنری آفیسر جو صبح آٹھ بجے گھر سے نکلتا ہے، سرکاری تنخواہ کے ساتھ سرکاری اوقات میں کام کرنے کا پابند، مگر کام پرائیویٹ سیکٹر کی طرح کرتا ہے، واپسی کا کوئی وقت نہیں۔ کام کر کے دیکھایا ہے اور سب کے سامنے کیا ہے۔ اب ایک اعتماد کا رشتہ قائم ہو گیا۔ رشتہ چھوٹے فارمر کے ساتھ ۔ چھوٹا فارمر جس کی گائے بھینس بکری اس کا کل اثاثہ ہے۔ صرف اس کا اثاثہ نہیں بلکہ اس قوم کا اثاثہ ہے ۔ ایک دو بڑے شہروں کی لمبی چوڑی سڑکوں کے اطراف میں بنے پلازوں اور عالیشان شاپنگ مالوں کی بلندیوں سے چکرائے ہوئے دماغوں میں اس فارمر کی سوچ کہاں آئے گی۔ ان روشنیوں سے چندھیائی ہوئی آنکھوں کو صرف اپنے قریب قریب چٹی چمڑی والی گائیوں کے بڑے بڑے شیڈ ہی نظر آئیں گے ۔۔ یہ نظر چھوٹے فارمر تک نہیں جا سکتی۔ یاد رکھیے گا کہ کارپوریٹ سیکٹر کے بڑے بڑے فارم کم ہیں، انگلیوں پر گنے جا سکیں۔ لائیوسٹاک سیکٹر کی اصل بنیادتو چھوٹا فارمرہے ، ایک دو دس جانوروں والا اور ساتھ میں درمیانے او ر چھوٹے درجے کے فارم۔ یہ شاید پورے لائیوسٹاک سیکٹر کا نوے فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔ ویٹرنری ڈاکٹر اس چھوٹے فارمر کی بقا کے لئے کھپ رہا ہے۔
جانوروں کی ویکسی نیشن ۔۔۔ ان کا علاج ۔۔ جعلی کھل ، ونڈے کے خلاف مہم ۔۔ غیر معیاری سیمن کی پکڑ دھکڑ ۔۔ جانوروں کی تقسیم ۔۔ کٹا پال سکیم ۔۔ ناقص گوشت کے خلاف کارروائی ۔۔ مادہ جانوروں کی سلاٹرنگ کی روک تھام ۔۔ بریڈ امپروومنٹ کے منصوبے ۔۔ مویشی پال کی تربیت ۔۔ موبائل ویٹرنری ڈسپنسری کے ذریعے گھر گھر علاج کی سہولت ۔۔ ریکارڈ کے اندراج کے ساتھ ساتھ کاغذی کارروائی ۔۔ اور اب مارکیٹنگ بھی ۔۔ یہ سب بے کار نہیں۔ اگر یہ سب فضول ہے تو پھر ٹھیک ہے، ویٹرنری ڈاکٹر کو گندم مہم پر ضرور بھیجو۔ رمضان بازاروں میں ڈیوٹیاں لگاؤ۔ کوئی ضرورت نہیں ان ہسپتالوں کی ۔ جانور مرتے ہیں تو مر جائیں۔ لائیوسٹاک سیکٹر ختم ہوتا ہے تو ہو جائے۔ہاں اگر یہ سب اہم ہے تو پھر اسے اپنا کام کرنے دو۔
گندم کی کٹائی کے دوران حکومت گندم خریدتی ہے۔ خریداری مرکز پر گندم پہنچانے کے لئے حکومت ایک خاص قسم کی بوری دیتی ہے جسے عام زبان میں باردانہ کہا جاتا ہے۔ پہلے باردانہ کی تقسیم کا عمل پٹواری وغیرہ کے ذریعے ہوتاتھا۔ اعتراض تھا کہ یہ عمل منصفانہ نہیں ہوتا ۔ بجائے یہ کہ پٹواری کو مجبور کرنے والے پر ہاتھ ڈالا جاتا، حل یہ نکالا کہ گزٹڈ آفیسر کو باردانہ کی تقسیم کی ذمہ داری دے دی جائے۔ جب متعلقہ محکمے کے پاس ان افسران کی تعداد نہ ملی تو پھر ادھر ادھر دیکھا جانے لگا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ گندم نے ہر سال کٹنا ہے۔ اگر حکومت کو اس سلسلے میں افسران کی ضرورت ہے تو متعلقہ محکمے یا ضلعی حکومتیں اپنا ہیومین ریسورس پورا کریں۔ دوسری بات یہ کہ جب کوئی بڑا آدمی باردانہ کی تقسیم کے دوران اپنے اثر و رسوخ استعمال کرتا ہے تو سامنے چاہے پٹواری ہو یا افسر، وہ بے بس ہوگا۔ اس لیے بندے آگے پیچھے کرنے کی بجائے، ان کو نکیل ڈالی جانی چاہئے جو باردانہ تقسیم کرنے والے پر ہر طرح کا زور آزماکر غریب کا حق کھاتے ہیں۔ بڑے بڑے اداروں کے اعلیٰ افسران کے ٹیلی فون سے لیکر چوہدریوں کے غنڈے اور اسلحہ، ہر طرح کا حربہ آزمایا جاتا ہے ۔ ان حالات میں بیچارا افسر کیا کر ے گا۔ خصوصاََ جب ماحول ایسا ہو کہ پاکستان کا سابق صدر اعلیٰ ترین افسر کے بارے خود کہے اور برملا کہے کہ ”اس کی کیا مجال یہ میرے خلاف کارروائی کرے”۔ اب یہی فارمولہ چھوٹے اپنے بڑوں سے سیکھ کر اپنے لیول کے افسروں پر لگاتے ہیں ۔ ہاں اگر کوئی ہمت والادبنگ افسر آ بھی جائے تو اس پر کرپشن کے کیسز بنا کر خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ عائشہ ممتاز کی مثال سامنے ہے۔
محکمہ لائیوسٹاک کے افسران کی سرگرمیاں انتہائی اہم ہیں۔ ان کے ڈاکٹروں کو گندم مہم پر بھیجنا ا ن افسران کے ساتھ نہیں بلکہ پوری قوم کے ساتھ زیادتی ہے۔ محکمہ نے خوب زور لگایا ، مو جودہ سیکرٹری نے گندم خریداری مہم اور رمضان بازار ، دونوں کی دفعہ حکومت کو بتایا کہ ہمارے افسران محکمانہ سرگرمیوں میں مصروف ہیں، مگر وزیرِ اعلیٰ کے سامنے شاید کسی کی نہیں چلتی ۔ گزشتہ دو تین سالوں سے ویٹرنری ڈاکٹروں کو ہسپتالوں سے نکال کر بوریاں تقسیم کرنے پر لگا دیا جاتا ہے۔ پہلے سال تو اچھی خاصی تعداد میں افسروں کو اس سپیشل ڈیوٹی پر بھیجا، پھر تعداد کم ہوتی گئی۔ اس سال بھی ڈاکٹروں کی ڈیوٹیاں لگی ہیں۔ بڑی عاجزانہ گزارش ہے کہ یہ ان کا کام نہیں، یہ اپنے کام میں مصروف ہوتے ہیں۔ ہاں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ویلے لوگ ہیں، انہیں جہاں مرضی پھینک دو، تو پھر ٹھیک ہے ایک مہینے کے لئے ہسپتال بند کر دیا کریں۔ بلکہ یہ محکمہ ہی بند کر دیں۔ مشینی دودھ پر تو اس قوم کو لگا ہی دیا ہے ، اب کوئی مشینی گوشت بھی نکل آئے گا ۔ باقی پیار سے رکھے کتے بلیوں کا مسئلہ رہا ، ان کا علاج لوگ پرائیویٹ ڈاکٹر سے کروا لیا کریں گے۔