نیشنل ویٹرنری جاب فیئر

National Veterinary Job Fair

National Veterinary Job Fair
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
یہ تاثر کہ کسی کے “آنے یا جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا”غیر متنازع نہیں۔ فرد کی اہمیت کو کسی طرح سے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ افراد ہی ہیں جو کسی ادارے کو بناتے ہیں، محنت سے چلاتے ہیں اور پھر کہیں کا کہیں لے جاتے ہیں اور دوسری جانب افراد ہی اداروں کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ ادارے افراد کو کام کرنے کے لئے پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں مگر اس پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کا انحصار افراد ہی پر ہوتا ہے۔ درست کہ ادارے افراد بناتے ہیں مگر افراد بنانے والے ایسے اداروں کو چلاتے تو افراد ہی ہیں ۔ دنیا کی تاریخ اٹھا لیں، اگر چند درجن نام ہسٹری سے نکال لئے جائیں تو تاریخ باقی نہیں بچتی ۔
کوئی قوم ہو یا قومی ادارہ، محض ایک فرد کے آنے یا جانے سے حالات یکسر بدل سکتے ہیں ۔ زندہ مثال ہے ہماری فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف کی۔ اعلیٰ قومیں اور بڑے ادارے اپنے افراد کی قدر کرتے ہیں۔ ان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے لئے ترقی کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں احترام دیتے ہیں اور ان کیلئے سہولیات کا انتظام بھی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ ادارے خصوصاََ نجی کمپنیوں کے سرمایہ کار مالکان جو اس فقرے کو استعمال کرتے ہوئے کہ”کسی کے آنے یا جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا” اپنے ہیومین ریسور س کی قدر نہیں کرتے ، کسی نہ کسی مقام پر پچھتاتے ضرور ہیں۔ جو لوگ میرے شعبہ سے منسلک ہیں ، یاد کر سکتے ہیں کہ ڈاکٹر حامد جلیل کے جانے کے بعد پنجاب ایگریکلچر اینڈ میٹ کمپنی کے ساتھ ساتھ کیا کیا ہوااور آجکل دیکھ بھی سکتے ہیں کہ محکمہ لائیوسٹاک پنجاب میں ایک فرد نے کس طرح سب کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اسی طرح ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کی مثال ؛ خاندان میں ایک شخص ویٹرنری ڈاکٹر بنا، باپ اور بھائیوں کے ساتھ ملکر کاادارہ بنایا، خوب محنت کر کے اس کو چلایا، مارکیٹ میں نام بنایا ۔۔ پھر فیملی ایشوز کی وجہ سے اسے الگ کر دیاگیا۔ جب وہ نہ رہا تو کمپنی بھی ویسی نہیں رہی۔
ڈاکٹر وسیم شوکت کا شمار پاکستان کے ان نوجوان ویٹرنری پروفیشنلز میں ہوتا ہے جوجس ادارے میں ہوں وہاں کی ضرورت بن جاتے ہیں۔بچہ سمجھ کر ان جیسے لوگوں کو وہ اختیارات اور مراعات تو نہیں ملتیں مگر ہوتے یہ ادارے کی جان ہیں۔پرائیویٹ سیکٹر سے جب ڈاکٹر صاحب نے یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کے بزنس انکیوبیشن سنٹر کو Join کیا تو امید تھی کہ جس کام میں یہ شامل ہوں گے تھوڑا ہٹ کے اور بہتر ہو گا۔یہی وجہ ہے کہ اس سال کے Job Fair میں بہتری نظر آئی۔
دیگر ویٹرنری تعلیمی اداروں کے برعکس یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور اپنے سابق طلباء و طالبات کو نئی ملازمتوں کے بارے آگاہ رکھتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہر سال Job Fair کا انعقاد بھی کرتی ہے ۔ پہلی دفعہ کے جاب فیئر میں توانتظامیہ نے بھر پور دلچسپی لی اور آرگنائزر نے بھی خوب محنت کی۔ مگر اس کے بعد ہونے والے یہ سالانہ میلے اتنے کامیاب نہ رہے اور اس کی بڑی وجہ انتظامیہ کی عدم دلچسپی تھی۔ اس طرح کے Events کی کامیابی کا اندازہ لوگوں کی دلچسپی سے لگایا جا سکتا ہے اور لوگوں کی دلچسپی کا انحصار شریک کمپنیوں پر ہوتا ہے۔ اس سال کے جاب فیئر میں Irrelavent کمپنیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ وقت پر اعلان، مؤثر تشہیر ، بہتر انتظام، کمپنیوں کی بھر پور شرکت اور طلباء کی دلچسپی سے میلے میں انفرادیت ظاہر تھی۔ مگر بہتری کی گنجائش ابھی بھی موجود ہے۔
تجویز ہے ماننا یا نہ ماننا آپ کی مرضی ! یونیورسٹی میں ہونے والے جاب فیئر میں بہت سے طلباء و طالبات سٹالز visit کرتے ہیں مگر ان میں سے دلچسپی صرف ان کی ہوتی ہے جو ڈگری کر چکے ہوں یا ڈگری کے آخری مراحل میں ہوں۔ اس سے یہ میلہ چند سو لوگوں تک محدود ہو جاتا ہے۔ یونیورسٹی پاکستان کی واحد ویٹرنری یونیورسٹی ہونے کے ناتے دل بڑا کرے اور اس جاب فیئر کوNational Veterinary Job Fair قرار دیتے ہوئے باقی ویٹرنری تعلیمی اداروں کے تعاون سے اسے سب کے لئے Open کردے ۔باقی ادارے اسکی تشہیر کرنے کے ساتھ ساتھ دلچسپی رکھنے والے اپنے طلباء و طالبات کو ٹرانسپورٹ مہیا کرے ۔ اس سے یہ میلہ ایک National Event کی شکل اختیار کر جائے گاجس میں ہزاروں لوگوں کی دلچسپی ہو گی۔ جب سال میں ایک دفعہ ایک ہی میدان میں پاکستان بھر سے ٹیلنٹ جمع ہو گا تو ہر کمپنی اس جاب فیئر کا حصہ بن کر بہترین لوگ تلاش کرنے کی کوشش کرے گی۔ تعصب سے بالا تر ہونا مشکل ہے مگر ڈاکٹر وسیم شوکت کے لئے نا ممکن نہیں۔