جانوروں کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں 

World Animals Day,Working animals rights,Save Cats And Dogs.Save Horse abd Donkeys

جانوروں کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں 

ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
جانوروں کا عالمی دن دنیا بھر میں منایا جاتا ہے، 4 اکتوبر ا س کے لئے مختص کر رکھا۔ مقصد اس دن کو منانے کا یہ ہے کہ جانورجو ہمیں مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچاتے ہیں،ان کے حقوق کے لئے آگاہی پیدا کی جائے۔
جب بھی جانوروں سے پیار اور ان کے حقوق بارے بات کی جاتی ہے تو ہمارے ذہن میں یکسر پالتو جانور جیسے کتے بلی وغیرہ کا خیال آجاتا ہے ۔ اس کے برعکس وہ جانور جو براہِ راست ہم کھاتے ہیں یا جن کی مصنوعات ہماری خوراک کا حصہ بنتی ہیں یا وہ جانور جو کسی محنت مشقت کے کام میں شامل ہو کر ہماری فلاح کا ذریعہ بنتے ہیں ، انہیں ہم بھول جاتے ہیں۔ اسی طرح چڑیا گھر وں کے باسیوں اور جنگلی جانوروں کے بارے بھی عام طور پر نہیں سوچا جاتا۔
ڈاکٹر ثناء شاہ زیب نے بڑی پیاری بات کی کہ اگر ہم کسی بیرون ملک سے گائے لانے کا سوچتے ہیں تو اس سے پہلے ہمیں یہ دیکھ لینا چاہئے کہ کیا ہم اس کے لئے مناسب خوراک، رہائش اور ماحول کا انتظام کر پائیں گے۔ایسا تو نہیں کہ پردیس میں آ کر وہ ذلیل ہوتی رہے گی اور پھر تڑپ تڑپ کر مر جائے گی۔ صرف یہی نہیں بلکہ جانوروں سے متعلقہ کوئی بھی سیٹ اپ بنانے یا کاروبار شروع کرنے سے پہلے اس بات کا سوچنا بہت ضروری ہے کہ ان کی دیکھ بھال ہمارے لئے ممکن ہو سکے گی یا نہیں۔ جانور کو مشین تصور کر تے ہوئے اپنانے سے بہتر ہے کہ نہ اپنایا جائے۔ جانوررکھنے سے پہلے جانور رکھنے کی اہلیت کا ہونابہت ضروری ہے، اس اہلیت میں علم، تجربہ، مزاج اور سہولیات کی فراہمی سب شامل ہیں۔
َ پاکستان میں گدھوں گھوڑوں خچروں کی بڑی تعداد موجود ہے جو براہِ راست مال بردار ی میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان کی بہت بڑی تعداد بھٹوں کا بھی حصہ ہے جہاں پر یہ اینٹوں کی تیاری میں بنیادی اور اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ وہی اینٹیں ہیں جو ہمارے بنگلوں، پلازوں اور شاپنگ مالوں کو چمک دمک میں چھپ جاتی ہیں اور ہمیں یاد نہیں رہتی۔ اسی طرح اینٹوں کے ساتھ ساتھ ہم ان مزدوروں اور ان کے گدھوں گھوڑوں خچروں کو بھی بھلا دیتے ہیں جوآگ جیسی گرمی میں بھی تپتے بھٹوں پر اپنے روزمرہ کے فرائض سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ ان کے حقوق کا خیال رکھنا ان جانوروں کے غریب وارثوں سے زیادہ بھٹہ مالکان اور متعلقہ سرکاری اور نجی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
جنگلات، درختوں کے ساتھ ساتھ زرخیز زمینوں کو تیزی سے ہاؤزنگ سکیموں میں تبدیل کرتے جا رہے ہیں۔ یہ کھیت اور درخت جہاں براہِ راست انسان کو فائدہ پہنچا تے ہیں وہاں ہزاروں جانوروں اور پرندوں کا مسکن بھی ہوتے ہیں۔اس سلسلے میں اداروں کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی سوچنا چاہئے کہ جس سر سبز زمین کو رہائش میں تبدیل کر رہے ہیں ، اس سے کس حد تک بچا جا سکتا ہے۔ اس تیزی سے پھیلتی تباہی کو کنٹرول کرنے کا واحد حل یہی ہے کہ تیزی سے بڑھتے انسانی لالچ کو کنٹرول کیا جائے۔
چڑیا گھر ، والڈ لائف پارکس اور Hilly areas کی سیر کے دوران ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہماری کسی سرگرمی سے جانور پریشان نہ ہوں۔ ان جانوروں کو تنگ کرنا، انہیں پتھر مارنا، خود سے کچھ کھانے کو دینا وغیرہ جانوروں کے حقوق پامال کرنے کے مترادف ہے ۔ اس سلسلے میں انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنا چاہئے تاکہ جانوروں کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ دوسری جانب تلور سمیت دیگر بہت سے جانوروں اور پرندوں کی نسلوں کو خطرہ ہے ۔ان کی بقا کے لئے ضروری اقدامات اٹھانا اور لوگوں میں شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی جانوروں کا عالمی دن ہر سال منایا جاتا ہے اور اس سلسلے میں ویٹرنری تعلیمی اداروں، چڑیا گھروں اور دیگر متعلقہ اداروں میں سیمینارز اور آگاہی واک وغیرہ کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ اس سال بھی اسی طرح کی سرگرمیاں نظر آئیں لیکن ہٹ کر جو چیز دیکھنے کو ملی و ہ پاکستان ٹیلی ویژن کے مارننگ شو میں اس حوالے سے ایک سیگمینٹ تھا۔ قوی امید ہے کہ اس پرگرام کے نشر ہونے میں سید نعیم عباس کا بنیادی کردار ہو گا۔ نعیم عباس ڈیویلپمنٹ پریکٹیشنر ہیں اور جانوروں اور خصوصاََ کام کاج والے جانوروں کے حقوق کی آگاہی بارے مختلف سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔اس مارننگ شو میں نعیم عباس اور ڈاکٹر ثناء شاہ زیب کے ساتھ ساتھ اینیمل رائیٹس ایکٹوسٹ انیزہ خاں نے شرکت کی ۔ ڈاکٹر ثناء پاکستان کی وہ پہلی لیڈی ویٹرنری ڈاکٹر ہیں جنہوں نے کمرشل ڈیری فارم پر مرد وں کے شانہ بشانہ کام کیا ۔ ان کے بعد اس رایت کو ڈاکٹر نتاشہ غفور نے برقرار رکھا ہوا ہے جو گزشتہ چند سالوں سے پاکستان کے سب سے بڑے کمرشل ڈیری فارم پر اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں اور مستقبل میں بھی اسے جاری رکھنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہیں۔ پاکستان کی پروفیشنل ڈگری ہالڈز کے لئے ڈاکٹر نتاشہ جیسی نوجوان لڑکیاں مشعلِ راہ ہیں۔
جگن کاظم کا Pets کے ساتھ ساتھ Working Animals کے رائٹس کے لئے آواز اٹھانا قابلِ ستائش ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے چوٹی کے نجی ٹی وی چینلز کو بھی ریٹنگ کی دوڑ سے تھوڑا باہر نکل کر جانوروں کے حقوق بارے پروگرام ترتیب دینے چاہئیں ۔ جانور بدلے میں اشتہار تو نہیں دے سکتے ، ہاں دعائیں ضرور دیں