بلھے شاہ، شاعری اور پیغام ۔۔ مضامینِ نو، ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب

IPEX 2026 - International Poultry Expo 2026 Banner
GCLI Sexed Semen for Cows and Buffaloes

بلھے شاہ، شاعری اور پیغام : انسانیت، سچ، خود احتسابی اور معاشرتی اصلاح کا ابدی درس – ڈاکٹر جاسر آفتاب

میلے، ڈھول، دھمال اور مباحثے۔۔۔ ان سب سے اہم بلھے شاہ کا کلام اور اس کے ایک ایک لفظ میں پوشیدہ انسان کے لیے اہم ترین مگر مشکل سبق ہے۔ ظلم، ناانصافی، جھوٹ، تکبر، حرص اور منافقت کے خلاف آواز اٹھاتی یہ شاعری انسان کو انسانیت کا پیغام دیتی ہے۔ بلھے شاہ کا درس نیت کی درستگی اور خود احتسابی کا ہے۔ وہ بگاڑ جو آج معاشرے میں رچ بس چکا ہے، بلھے شاہ نے اس کی نشاندہی بہت پہلے کر دی۔ Bullay Shah and Message of Baba Bulleh Shah Poetry. He is renowned Punjabi Sufi Poet. His darbar is in Kasur City. His poetry has deep meaning of humanity.  | بلھے شاہ کی شاعری اور بلھے شاہ کا پیغام ۔۔ مضامینِ نو، ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب

Poultry Vaccines for Poultry - CAVAC Vaccines in Pakistan by LCI

معاشرتی بگاڑ اور سچ کی بے قدری

بلھے شاہ اپنے دور کے معاشرتی زوال کی تصویر کچھ یوں کھینچتے ہیں:

اپنیاں دے وچ الفت ناہیں، کیا چاچے کیا تائے
پیو پتراں دا اتفاق نہ کوئی، دھیاں نال نہ مائے
سچیاں نوں پئے ملدے دھکے، جھوٹے کول بھائے
الٹے ہور زما نے آئے

Virtual Veterinary Expo Live

(آپس میں محبت نہیں، والدین اور اولاد میں اتفاق نہیں، سچے لوگوں کے لیے دھکے ہیں، اور جھوٹوں کو عزت اور مرتبے مل رہے ہیں۔)

ایک جگہ کہا:

جھوٹ آکھاں تے کجھ بچ دا اے
سچ آکھاں بھانبڑ مچدا اے

(جھوٹ بولوں تو بچت ہوتی ہے، اگر سچ بولوں گا تو آگ لگے گی اور بچنا مشکل ہو گا۔)

ناقص تعلیم اور معاشرتی زوال

رشوت ستانی، بدعنوانی اور کمیشن خوری سے لے کر دولت لوٹنے والوں کی لوٹ مار کے تحفظ تک، ان سب میں بڑا کردار پڑھے لکھے لوگوں کا ہے۔ موجودہ تعلیم اور تعلیمی نظام، چاہے وہ دنیاوی ہو یا دینی، اس کے ثمرات آج ہمارے سامنے ہیں۔ ایسے ہی پڑھے لکھے لوگوں کے بارے میں بلھے شاہ نے کہا تھا:

میں پا پڑھیاں توں نسناں ہاں
عالم فاضل میرے بھائی
پا پڑھیاں میری عقل گوائی

یہ اس دور کی پا پڑھائی (ناقص تعلیم) کا نتیجہ ہے کہ آج کے نوجوان پڑھنے لکھنے کے بعد دولت کی حوس میں مبتلا ہو کر احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کی تعلیم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی چھین لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بیس سال بعد ایک مقدس گائے اس ملک میں سامنے لائی جاتی ہے اور ہر دور کے نئے پا پڑھے (ایک چوتھائی پڑھے) اسے مقدس مان کر پرانی گائیوں کو گندا کہتے ہیں اور نظام کو اسی طرح گھسیٹنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ پھر یہی پرانا نظام نئی مقدس گائے کو اگلے بیس سالوں میں گندا کرتا ہے، وہ نظام جسے پا پڑھے (ناقص تعلیم یافتہ) پہچانتے نہیں۔

انسان کی حقیقت اور دنیا کی بے ثباتی

بلھے شاہ انسان کو انسان کی اصل حقیقت بھی بتاتا ہے اور اسے احساس دلاتا ہے کہ یہ دنیا فانی ہے۔

توں کدھروں آیا، کدھر جانا، اپنا دس ٹِکانا
جس ٹھانے دا توں مان کریں، تیرے نال نہ جا نا
ظلم کریں تے لوک ستاویں، کسب پھڑیو لُٹ کھانا
کر لے چودھڑ چار دیہاڑے، اوڑک توں اُٹھ جانا

(یہ جو تم ظلم کرتے ہو، لوگوں کو ستاتے ہو اور لوٹ مار کرتے ہو یہ چند دن ہی ہو سکتا ہے، آخر تم کو اٹھ جانا ہے۔)

 

انا، تکبر اور عبادت کی حقیقت

انا، تکبر اور حرص بارے بھی بلھے شاہ کی شاعری میں پیغام ملتا ہے۔ ان بارے بابا جی نے فرمایا:

مکے گیاں گل مُکدی ناہیں، جچر دلوں نہ آپ مکائیے
گنگا گیاں تے پاپ نہیں جھڑدے، بھانویں سو سو غوطے لائیے
گیا گیاں گل مُکدی ناہیں، بھانویں کنے پنڈ پھر آئیے
بلھا شاہ گل مُکدی تاں ہی، جد میں نوں کھڑیاں لٹائیے

(چاہے جتنی مرضی عبادتیں کر لیں لیکن جب تک تکبر اور انا کو ختم نہیں کیا جاتا، انسان اپنا مقام حاصل نہیں کرسکتا۔)

اسی طرح ایک جگہ کہا:

ماٹی ماٹی نوں مارن لگی، ماٹی دے ہتھیار
جس ماٹی پر بُہتی ماٹی، تس ماٹی ہنکار

(یعنی مٹی ہی مٹی کو مار رہی ہے اور مٹی کے ہی ہتھیار ہیں۔ جس مٹی پر زیادہ مٹی چڑھ جاتی ہے وہ متکبر بن جاتی ہے۔)

دولت، عیش و عشرت اور انسان کی حقیقت

دنیا کی عیاشیوں میں مست انسان کو بلھے شاہ اس کی حیثیت یاد دلاتے ہوئے کہتا ہے کہ:

کھاویں راس، چباویں بیڑے، انگ پوشاک لگایا ای
ٹیڑھی پگڑی، اکڑ چلیں، جُتی پیر اڑائیا ای
پَل دا ہیں توں حجم دا بکرا، اپنا آپ کُہاویں گا
حجاب کریں درویشی کولوں، کد تک حکم چلاویں گا

(یعنی دولت اڑاتے ہو، بہترین لباس پہنتے ہو، ٹیڑھی پگڑی پہن کر اکٹرتے ہوئے چلتے ہو اور پاؤں میں مہنگی جوتی پہنتے ہو۔ تم صرف ایک بکرے کے جسم کی مانند ہو جس نے آخر قربان ہو جانا ہے۔ تم درویش سے کب تک منہ چھپاؤ گے اور کب تک اپنا حکم چلاؤ گے۔)

لالچ کی تباہ کاری

اسی طرح لالچ بارے بلھے شاہ نے کہا:

حرص حیراں کر سٹیا اے تینوں، اپنا آپا بھلایا سُو
پادشائیوں سُٹ کنگال کیتو، کر لکھ توں ککھ ویکھایا سُو
مدھ متڑے شیر، تند کچی پیریں پا کے نبھ بہایا سُو
بُلھا شاہ تماشڑے ہور ویکھوے، مُندر نُوں کجڑی پایا سُو

(یعنی لالچ نے تجھے اپنا آپ بھلا دیا ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جس نے بادشاہوں کو کنگال کر دیا۔ لالچ ایسے انسان کو تباہ کرتا ہے جیسے نشے میں چُور شیر کو کچے دھاگے سے باندھ کر بٹھا دیا ہو یا سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہو۔)

انسان کا اصل مقصد: دوسروں کے کام آنا

بلھے شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ انسان کا اصل کام دوسروں کے کام آنا ہے، اس بارے بلھے شاہ کا ایک شعر ہے۔

بلھے نالوں چُلھا چنگا، جس پر طعام پکائی دا
رنگھڑ نالوں کھنگر چنگا، جس پر پیر گھسائی دا

(یعنی انسان سے اچھا چولہا ہے جس پر لوگ کھانا پکاتے ہیں اور ضدی انسان سے بہتر پتھر ہے کہ جو پاؤں گھسانے کے تو کام آتا ہے۔)

اصل جہاد: نفس کے خلاف جنگ

بلھے شاہ نے منافقت کو ختم کرتے ہوئے اپنا آپ ٹھیک کرنے، اپنی نیت کو صاف رکھنے اور نفس کے خلاف لڑنے کا درس دیا۔ بلھے شاہ نے کہا:

بلھیا جے تُوں غازی نینائیں، لک نبھ تلوار
پہلوں رھنگڑ مار کے، پچھوں کافر مار

(اگر تم نے غازی بننا ہے تو کمر سے تلوار باندھو، پہلے اپنے نفس کو مارو اور پھر کسی کافر کو مارو۔)

منافقت، لوٹ مار اور جھوٹی توبہ

آج کا یہ دور جس میں لوگ لوٹ مار کر کے خوب مال کماتے ہیں اور پھر اس مال سے فلاحی کام کرتے ہیں یا مذہبی مجالس کا اہتمام کرتے ہیں۔ دوسری جانب لوٹ مار، ناانصافی، رشوت ستانی، حق تلفی اور ظلم و ستم کا سلسلہ بھی جاری رکھتے ہیں اور پھر توبہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں بارے بلھے شاہ نے کہا:

جتھے نہ جاناں اوتھے جائیں، مال پرایا منہ دھر کھائیں
کُوڑ کتاباں سرِتے چائیں، ایہہ تیرا اعتبار
نت پڑھناایں استغفار، کیسی توبہ ہے ایہہ یار

(جہاں جانے سے روکا جائے وہیں جاتے بھی ہو، لوگوں کا مال بھی کھاتے ہو، جھوٹے کھاتے تیار کرتے ہو۔ پھر توبہ کرتے اور یہ سب چھوڑتے بھی نہیں، یہ کیسی توبہ ہے۔)

اختتامیہ

آخر میں بلھے شاہ کے دو اشعار۔۔

بلھیا کنک، کوڈی، کامنی، تینوں کیہہ تلوار
آئے تھے نام جپن کو، اور وچے لیتے مار

(گندم، دنیاوی مال اور حسین عورت یہ تینوں تلوار کی مانند انسان کے دشمن ہیں۔ تمہیں تو اللہ کی عبادت کے لیے بھیجا گیا ہے لیکن تم اور کاموں میں مشغول ہو۔)

اور آخر میں:

بلھا قصر نام قصور ہے، اوتھے مونہوں نہ سکن بول
اوتھے سچے گردن مارئیے، اوتھے جھوٹے کرن کلول

(یعنی اس شہر میں لوگ منہ سے کچھ نہیں بول سکتے، یہاں پر سچے کی گردن اتار دی جاتی ہے اور جھوٹے ناز نخرے کرتے پھرتے ہیں۔)

بہتر کوالٹی میں پڑھنے کےلئے کالم پر کلک کریں

حسینیت، یزیدیت اور ہم

Message of Baba Bulleh Shah Poetry.

Bullay Shah Kasur Poetry

Goodman's - AI Total - Bovine Genetics
author avatar
Editor In Chief
Dr. Jassar Aftab is a qualified Veterinarian having expertise in veterinary communication. He is a renowned veterinary Journalist of Pakistan. He is veterinary columnist, veterinary writer and veterinary analyst. He is the author of three books. He has written a number of articles and columns on different topics related to livestock, dairy, poultry, wildlife, fisheries, food security and different aspects of animal sciences and veterinary education.

Share Link Please, Don't try to copy. Follow our Facebook Page

Scroll to Top