استاد اور ہتھکڑی ۔۔ کیوں کر ہو جاتا ہے!

Vice Chancellor Arrest Punjab University Issue

مضامینِ نو
استاد اور ہتھکڑی ۔۔ کیوں کر ہو جاتا ہے!
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
وائس چانسلر کو ہتھکڑی ۔۔ ایک بزرگ کیسے بھاگ سکتا، اور کوشش کرے بھی تو ممکن نہیں۔ اور اگر بھاگ بھی جائے تو کہاں جائے گا۔ یہ کون سے کوئی پیشہ ور بدمعاش تھے کہ کسی جاگیر دار یا سیاسی شخصیت کے ڈیرے پر جا کر چھپ جاتے اور نہ ہی بہت بڑے لیڈر کہ افراد کا سمندر امڈ آتا اور دوبارہ گرفتاری میں دشواری پیش آتی۔ اور جب نیت ہو تو پھر منتخب وزیرِ اعظم بھی ہٹ جاتا ہے، باہر سے واپس بھی آ جاتا ہے اور مجال کہ کہیں بھاگنے کی کوشش کرے۔ پھر کیوں استاد کو ہتھکڑی لگا کر سب کے سامنے لائے اور دنیا بھر میں رسوا بھی ہوئے۔
اب ایسا بھی نہیں کہ کوئی استاد جیسے مقدس پیشے کا لبادہ اوڑھ لے اور پھر اس کی آڑ میں ہر قسم کا ظلم اور ہر قسم کی لوٹ مار کرتا رہے۔ اگر کسی پر کہیں الزام ہے تو اس کی تحقیقات ہو نی چاہئیں او رانصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے سزا بھی ملنی چاہئے۔
بنیادی نکتہ یہ کہ ایسے واقعات جنم کیوں لیتے ہیں اور وہ کون سے عوامل ہیں جو کسی استاد کو اس مقام تک لے جاتے ہیں؟ پہلا بنیادی مسئلہ جو مجموعی طور پر معاشرے کا بھی بن چکا کہ ہر پڑھا لکھا شخص صرف علم کی پیاس بجھانے اور رزقِ حلال کے حصول تک اکتفا نہیں کرتا بلکہ طاقت اور دولت کی بے قابو تمنا بھی رکھتا ہے اور اسی کے لئے تگ و دو کرتا ہے۔ کسی بھی استاد کے لئے پروفیسر کا خطاب بہت بڑی چیز ہے مگر اس اعلیٰ ترین منصب کے ساتھ ساتھ انتظامی سیٹوں کی خواہش بھی رہتی ہے اور اس کے لئے جدو جہد کے ساتھ ساتھ سیاسی اور غیر سیاسی لوبنگ بھی ہوتی ہے۔
غلط نہیں، کہ یونیورسٹی میں انتظامی سیٹوں پر یونیورسٹی کے اساتذہ ہی نے لگنا ہے ؛مگر غلط اس وقت ہوتا ہے جب آپ ایک ہی سیٹ پر ایک ہی شخص کو لمبے عرصے کے لئے لگا دیتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ایک صاحب کسی ادارے کے سربراہ پہلی دفعہ میرٹ پر بن گئے ہوں مگر دوسرے ٹینیور کے لئے جب ایکسٹینشن لینے کی کوشش کریں گے تو گڑ بڑ اس جگہ سے شروع ہوتی ہے۔
ایکسٹینشن لینے کے لئے نہ صرف یونیورسٹی کے اندر لابنگ شروع ہو جاتی ہے بلکہ اس کے لئے سیاسی چالبازیاں بھی کھیلی جاتی ہیں۔ دوبارہ اسی سیٹ پر آنے کے لئے پھر یہ صاحب ہر اس جگہ سے اپروچ کرواتے ہیں جو اقتدار کو طول دینے میں کارگر ثابت ہو۔ اس ساری سرگرمی کے بعد جب وہ سیٹ پر دوبارہ کام شروع کرنے لگتے ہیں تو پھر وہ سب لوگ جنہوں نے ان کی مدد کی ہوتی ہے ، اپنی توقعات لگا لیتے ہیں اس سیٹ سے۔ پھر ان کو نہ صرف ان لوگوں کی خواہشات کو پورا کرنا پڑتا ہے بلکہ حکومت کی بھی ہر وہ بات ماننی پڑتی ہے جس سے حکومت کو سیاسی فائدہ تو ہو رہا ہو مگر ادارے کے لئے نقصان دہ ہو۔
پھر نئے سے نئے کیمپس بھی کھلتے ہیں، غیر متعلقہ ڈگریوں کا آغاز بھی ہوتا ہے، ایک ہی ڈگری مختلف ناموں پر مشتمل نئی ڈگریوں میں بھی تقسیم ہوتی ہے اور چھوٹے چھوٹے کالج بھی چند دنوں میں جامعات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس سے پھرمعیارِ تعلیم بھی گرتا ہے، میرٹ کی دھجیاں بھی اڑتی ہیں، بد انتظامی کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں، بے ضابطگیاں بھی ہوتی ہیں اور پھر مالی بے ضابطگیوں جیسے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔
بات یہاں تک نہیں رکتی ، بلکہ دوسرے ٹینیور کے دوران مفاد پرست عناصر کی بہت بڑی تعداد بھی ایسے لوگوں کے ساتھ منسلک ہو چکی ہوتی ہے۔دوسری جانب ان لوگوں کے اعلیٰ حلقوں میں تعلقات بھی مضبوط ہو چکے ہوتے ہیں ۔اقتدار کا چسکا بھی الگ لگ چکا ہوتا ہے۔ پھر یہ تیسرے ٹینیور کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اور اس کے لئے ادارے کی ساکھ تک کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ اگر کسی طرح تیسرا ٹینیور بھی مل جائے تو پھر تباہی ہی تباہی ہوتی ہے۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آبادکے سابق وائس چانسلر کی مثال سامنے ہے۔ کلیجے میں ٹھنڈ یہاں بھی نہیں پڑتی اور بدترین حالات میں اپنی achievements پر مشتمل پریزنٹیشنیں دے کر چوتھے ٹینیور کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔
پاکستان میں استاد کے وقار کو برقرار رکھنے کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے سیاسی و انتظامی اثر و رسوخ کو ختم کیا جائے اور یہاں تمام انتظامی سیٹوں پر تعیناتیاں میرٹ پر ہونی چاہئیں، حتیٰ کہ ڈین اور چیئرمین تک کی تعیناتیوں پر بھی کسی قسم کی مصلحت سے کام نہیں لیا جانا چاہئے کیونکہ یہی سے طاقت کے لالچ کی پیداوار کا آغاز ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اصول بھی بنا لینا چاہئے کہ کوئی شخص چاہے کتنا ہیcompetent کیوں نہ ہو اور چاہے اس نے ادارے کو کتنا ہی مضبوط کیوں نہ بنا دیا ہو ، اسے اس سیٹ پر ایکسٹینشن نہ دی جائے یا دوبارہ سلیکٹ نہ کیا جائے اور میرٹ پر آنے والے کسی اگلے بندے کو لایا جائے۔ نہ صر ف وائس چانسلر بلکہ ڈین ، پرنسپل، چیئرمین وغیرہ کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کی ہر انتظامی سیٹ پر یہی اصول لاگو ہونا چاہئے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی ایک ٹینیور کے لئے کوئی کمزور شخص بھی آجائے لیکن اگر میرٹ پر وقت کے ساتھ ساتھ شفلنگ ہوتی رہے تو پھر سسٹم اتنا مضبوط بن جاتا ہے کہ کسی ایک شخص کے آنے یا جانے سے کوئی بہت زیادہ فرق نہیں پڑتا۔
ہاں اگر کسی جگہ ایسا مسئلہ ہو کہ اس ادارے میں ایک شخص کے علاوہ کوئی آدمی ہی نہیں جسے اس سیٹ پر لگایا جا سکے، تو پھر اس ادارے کے سسٹم کو پرکھنا چاہئے کہ اس میں کسی جگہ بے انصافی، زیادتی اور ظلم تو نہیں ہوتا رہا کہ کسی کو ابھرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا یا قابل شخص ادارے کو مسلسل چھوڑ کر جاتے رہے، یا پھر ادارہ ایک شخص کے علاوہ کسی اور کی گرومنگ ہی نہیں کر سکا کہ کوئی انتظامی سیٹ سنبھال سکے۔