آئی پی سی منسٹری کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ اور پی وی ایم سی پر قابض مافیا ۔۔ مضامینِ نو، ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب

آئی پی سی منسٹری کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ اور پی وی ایم سی پر قابض مافیا
مضامینِ نو، ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب

PVMC and IPC Connection IPC Ministry Irregularities

آئی پی سی منسٹری کی فیکٹ فائنڈ نگ رپورٹ ا ور پی وی ایم سی پر قابض مافیا
مضامینِ نو، ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب

یہ مافیا اس قدر اطمینان کے ساتھ ادارے کو یرغمال بنائے ہوئے ہے کہ ان کو پختہ یقین ہے۔۔ یقین اس بات کا کہ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ یا تو کاغذ پورے کرنے کے ماہر ہیں، یا ہر سطح پر قیمت لگانے کا فن جانتے ہیں، یا پھر ہر اٹھنے والے سوال کو مینیج کرنے کی طاقت رکھتے ہیں؛ کہ مبینہ مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کا ایک تسلسل جاری ہے مگر پھر بھی یہ اپنی جگہ موجود ہیں۔
ڈھٹائی اور بے شرمی کی حد یہ ہے کہ اپنی جگہ ”اس طرح رہنے پر“ فخر محسوس کرتے ہیں۔ سورہ التکاثر میں ایسے ہی لوگوں کیلئے پیغام ہے مگر یہ سمجھتے نہیں۔
یقیناََ ہر قسم کے مافیاز بڑے طاقتور ہوتے ہیں۔ ویل کنیکٹڈ ہونے کے ساتھ ساتھ ویل اسٹیبلشڈ بھی ہوتے ہیں۔ سسٹم میں اگر کسی جگہ سوال اٹھ بھی جائے تو سوال گھوم کر انہی کے لوگوں کے پاس آجاتا ہے اور پھر اس کا جواب بھی انہی کی مرضی کے مطابق لکھا جاتا ہے۔ سوال اٹھانے والے بھی بے بس اور سوال کو سمجھنے والے بھی۔ رہا مسئلہ میڈیا کا تو یہ تو کھیل ہی پیسے کا ہے۔ اسے مینیج کرنا سب سے آسان ہے۔ سوال اٹھانے والے آپ ہی کے حق میں خبریں لگا کر آپ ہی کی نام نہاد کامیابیوں کے گن گانے پر مجبور ہوں گے یا پھر الگ ہو جائیں گے۔
وقت بدل گیا ہے۔ اس پرانے فرسودہ اور حقیقی نظام کے مقابلے میں ایک متوازی ورچوئل نظام کھڑا ہو گیا۔ اس انٹرنیٹ کے جال اور سٹیزن میڈیا نے سب بدل دیا۔ بڑے بڑے طاقتور لوگوں کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملتی اور ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ قبروں تک یہ رسوائی ان کے ساتھ چلتی ہے۔ لاہور میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کی میت کے ساتھ ہونے والے واقعے میں سیکھنے کو بہت کچھ ہے مگر سیکھتے نہیں، کہ مجبور ہیں۔
طاقت کا اصول ہوتا ہے کہ اس میں مسلسل اضافہ ہونا چاہئے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ آخر کاریہی اصول تباہی کا سبب بنتا ہے۔ سمجھدار لوگ طاقت کے حصول کے بعد اسے سنبھالتے ہیں، مگر بے وقوف لوگ خود کو فرعون سمجھتے ہوئے اسے بڑھانے میں لگ جاتے ہیں۔ پھر ان کا حشر برا ہوتا چلا جاتا ہے مگر انہیں محسوس نہیں ہوتا، اور یہ اسے خود کی طاقت میں اضافہ تصور کرتے ہوئے مدہوش رہتے ہیں۔
پی وی ایم سی پر قابض مافیا طاقتور ضرور ہے مگر اس قدر نہیں کہ ان کے ساتھ پاکستان کا نظام کھڑا ہو جائے۔ جیسے جیسے ریئکٹ کرتے چلے جا رہے ہیں، ویسے ویسے ان کے معاملات مزید اوپر جا رہے ہیں۔ یہی ان کے انجام تک پہنچنے کا سفر ہے۔ حد ہوتی ہے نہ کہ ایک سسٹم کو چند افراد نے گزشتہ بیس سال سے ہاسٹیج بنایا ہوا ہے۔ حد میں وسعت تب تک ہوتی ہے جب تک روکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ وقت بدل چکا ہے، مگر سمجھ نہیں آئے گی۔
پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل سے متعلقہ شکایات جہاں کہیں بھی جاتیں، گھوم کر منسٹری آف انٹر پروونشل کو آرڈینیشن میں آ جاتیں۔ پھر یہاں سے گھوم کر واپس پی وی ایم سی میں چلی جاتیں، اور یہاں سے پھر واپس منسٹری کی جانب۔ اس چکر میں بیچارہ شکایت کرنے والا اس قدر چکرا جاتا کہ اسے بیٹھنا پڑتا۔ اب اس چکر کی اپنی توانائیاں جواب دینے لگی ہیں۔
منسٹری میں ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی گئی جس نے پی وی ایم سی کے خلاف درج متفرق شکایات میں سے چند ایک کو چنا اور رپورٹ جنوری 2021 میں اس وقت کے سیکرٹری کو پیش کر دی۔ کمیٹی نے انکوائری کی اور کچھ شکایات کو مواد نہ ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیا، جن میں سے ایک معاملہ ابھی عدالت میں ہے، اس پر ہرگز بات نہیں کی جاسکتی۔
اگریہ معاملہ عدالت میں نہ بھی ہوتا تو میں کم از کم اس پر بات نہ کرتا اور نہ ہی کبھی کی، کہ انتہائی حساس اور ذاتی نوعیت کے پہلو اس کے ساتھ جڑے ہیں۔ ہاں ایک گزارش ضرور ہے کہ زندگی گزرنے کے ساتھ ساتھ عمر کا ایک حصہ ضرور ایسا آ جاتا ہے جہاں دوسروں کی بجائے انسان کو اپنی عزت خود کرنا ہوتی ہے، مقصد جس کا ماضی کو بھلاتے ہوئے لوگوں کی نظروں میں خود کے احترام میں مزید اضافہ کرنا ہوتا ہے۔
خیر چھوڑیں، اس فیکٹ فائندنگ رپورٹ میں شناختی کارڈ والی مبینہ جعلسازی والا بھی معاملہ تھا جسے مناسب مواد نہ ہونے کی وجہ سے انکوائری میں شامل نہ کیا گیا۔ ویسے اگر دوبارہ کسی کو مواد چاہئے ہو تو میرے سے رابطہ کر لیں۔
اس رپورٹ میں باقی معاملات کو انتہائی ٹھنڈے انداز میں مزید تحقیقات کے سپرد کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی، جن میں سے اکثر تحقیقات منسٹری ہی نے کرنی تھیں اور کچھ پی وی ایم سی سے متعلقہ لوگوں نے خود۔ اس کے بعد ان نکا ت پر کیا پیش رفت ہوئی، کہیں منظر عام پر نہیں آئی۔
کل روزنامہ جناح میں حالیہ مبینہ آڈٹ رپورٹ سے متعلقہ چھپنے والی تفصیلات نے اس فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ، جس کی توثیق اس وقت کے سیکرٹری نے کر رکھی تھی، بھانڈہ پھوڑ دیا۔
اس رپورٹ سے متعلقہ بہت سے نکات کو انتہائی سنجیدگی سے ٹیک اپ کیا گیا اورشدید اعتراضات اٹھائے گئے۔ یہاں تک کہ پندرہ لاکھ کا معاملہ جو کہ غیر ملکی مہمان کے وزٹ سے متعلقہ تھا اور جسے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے مواد نہ ہونے کی وجہ سے نظر انداز کر دیا تھا اور سیکرٹری نے بھی اس کی توثیق کر دی تھی، اس پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سنجیدہ اور غیر جانبدار فورم پر ان ”حقائق“ کو جاننے کی کوشش کی جائے جن کی بنیاد پر اس ”حقائق کو تلاش کرنے والی کمیٹی“ نے ”حقائق“ کو نظر انداز کرتے ہوئے ہوئے ممکنہ طور پر ”حقائق“ چھپائے۔ دیکھنا ہو گا کہ اس قدر سنگین نوعیت کے معاملات کو بھی منسٹری میں سنجیدہ نہیں لیا جاتا رہا اور لوگوں کو بچایا جاتا رہا۔ ویسے تو اس نظام میں مافیاز کے لئے بہت سپیس ہے مگر پھر بھی ایک اعلیٰ ترین مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی سے پی وی ایم سی پر قابض مافیا اور منسٹری میں بیٹھے افراد کے ممکنہ گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔
آخر میں عاشر عظیم کی ایک بات شیئر کرتا چلوں کہ بلائیں بہت خطر ناک ہوتی ہیں مگر وہ بلا جس کے ساتھ پیٹ لگا ہو، وہ جلد نہیں تو دیر سے ضرور قابو میں آ جاتی ہے۔ اگر کوئی ایسی بلا سامنے آ جائے جس کو پیٹ نہ لگا ہو یا جو خود کو اپنے پیٹ سے آزاد کر لے، تو وہ بہت ہی خطر ناک ہوجاتی ہے۔ البتہ اسے قابو کرنا بھی مشکل نہیں ہوتا۔ ایسی بلا کو قابو کرنے کیلئے اس کی بوتل کو قابو کیا جاتا ہے۔
ہر کسی کی کوئی نہ کوئی بوتل ہوتی ہے، جب بوتل قابو میں آجائے، تو بلا کچھ بھی نہیں رہتی ہے۔ ہاں کچھ بلائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو طاقت تو بہت رکھتی ہیں مگر خوف کی سلاخوں میں قید ہوتی ہیں یا پھر مصلحت کا لبادہ اوڑھے رکھتی ہیں۔
ویٹرنری پروفیشن اور لائیوسٹاک سیکٹر میں بھی بہت بڑی بڑی بلائیں موجود ہیں جو اس مافیا کو نہ صرف نکیل ڈال سکتی ہیں بلکہ اِن کو اِن کے انجام تک بھی پہنچا سکتی ہیں مگر بد قسمتی سے کچھ پیٹ سے مجبور ہیں، کچھ بوتل سے؛ اور کچھ خوف اور مصلحت کے ہاتھوں بے بس ہیں۔