Hagia Sophia History and Global Debate
Hagia Sophia History in Urdu | History and Facts about Sophia Mosque (Aya Sophia history) and role of Tayyab Erdogan. Government converted building the building again as mosque. This has the background. It has linkage with Usmania Caliphate and even Roman Empire. This column elaborates its history | آیا صوفیہ کی تاریخ اور حقائق ۔۔ مضامینِ نو
خشک سالی کے باعث ترکی کی جھیل پر ہزاروں فلیمنگوز ہلاک
آیا صوفیہ کی مسجد میں تبدیلی، حقائق اور تاریخ
کشمیر، نیا نقشہ اور سیاست ۔۔ مضامینِ نو، ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
آیا صوفیہ، تاریخ اور حقائق
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
دو انتہائیں، ایک جانب آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد کی غرض سے کھولنے کی شدید مخالفت اور دوسری جانب مسلمانوں میں اس عمل کی زبردست پذیرائی۔ یقیناََ یہ اہم کہ اس عمارت کی تاریخی، مذہبی اور سماجی لحاظ کے ساتھ ساتھ سیاسی اہمیت بھی ہے مگر یہ بھی اہم کہ طیب اردگان کون ہیں اور ان کی جانب سے عجائب گھر کو مسجد میں بدلنے کا فیصلہ اس وقت کیوں کیا گیا؟
360 عیسوی میں بطور چرچ کھلنے والی عمارت ہنگامہ آرائی کے دوران جلنے کے بعد 405 سے 415 کے دوران دوبارہ تعمیر کی گئی جو کہ ایک دفعہ پھر فسادات کی نظر ہو کر جل گئی۔ واقعہ کے چند ہفتے بعد ہی 532 میں مشرقی رومن سلطنت کے بادشاہ نے شاندار عمارت کی تعمیر کا آغاز کیا جو مختلف تبدیلیوں سے گزرتے ہوئے آج بھی آیا صوفیہ کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس عمارت کا بطور چرچ افتتاح 537 عیسوی میں ہوا۔
آیا صوفیہ جیسی تاریخی عمارت نے سلطنت روم کا عروج دیکھا اور زوال بھی، بلکہ سلطنت کا اختتام بھی اسی عمارت پر ہوا۔ پھر یہی عمارت خلافتِ عثمانیہ کے عروج وزوال کی گواہ بھی بنی۔ مذہبی حیثیت سے قائم کی گئی، دنیا کے تاریخی سیاسی عروج و زوال کی یاد دلاتی، یہ عظیم عمارت آج پھر مذہبی اور عالمی سیاسی تناظر میں انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
رومی سلطنت کے بادشاہوں کی جانب سے تعمیر کی گئی یہ عمارت تقریباََ900 سال سے زائد عرصہ تک عیسائیوں کی مذہبی عبادت گاہ کی حیثیت سے قائم رہی۔ 1453میں اس تاریخی عمارت نے ایک تاریخی موڑ کا سامنا کیا۔عثمان خاندان کی جاری فتوحات کے نتیجے میں قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کی فتح مشرقی روم کی سلطنت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی اور سلطنت عثمانیہ ایک مضبوط اسلامی سلطنت کے طور پر سامنے آ ئی۔ فاتح سلطان مہمت نے آیا صوفیہ کی عظیم عمارت کو مسجد میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا اور یہ مسجد عیسائیوں پر مسلمانوں کی فتح کی علامت کی حیثیت اختیار کر گئی۔
وقت نے سلطنت عثمانیہ کو بھی زوال دکھایا اور پھر اس نے اختتام بھی دیکھا۔مختلف جنگوں اور اندرونی بغاوتوں کے باعث بیسویں صدی کے آغاز تک سلطنت بہت کمزور اور محدود ہو چکی تھے۔ پہلی جنگ عظیم میں شکست اور پھر عربوں کی بغاوت نے سلطنت کو آخری حد تک کمزورکر دیا۔ آخر کار 1922میں سلطنت عثمانیہ کا باقاعدہ خاتمہ ہو گیا اور1923 میں ترکی بطور جمہوری ریاست دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔ مصطفےٰ کمال اتاترک ترکی کا پہلا صدر بنا۔
مذہب کو سیاست اور حکمرانی سے الگ کرنے کا نعرہ لگاتے ہوئے کمال اتاترک نے سیکولر ترکی کی بنیاد رکھی اور جدت کو عروج تک پہنچانے کے لئے ترکی کو اس کی روایات کے برعکس ایک ایسے دور میں دھکیل دیا جس سے ترکی نے جدید ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر اپنا وجود تو تسلیم کروا لیا مگر عوامی جذبات کے منافی بہت سے متنازعہ اور لادینی اقدامات بھی اٹھا ئے۔ یا تو اپنے سیکولر نظریات کی بنیاد پر یاپھر ترکی کو کسی اور عالمی جنگ سے دور رکھنے یا عمارت کی فنڈنگ کے مسائل حل کرنے کی غرض سے اتاترک نے آیا صوفیہ کو 1935 میں مسجد سے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا۔ اس کی وجہ کچھ بھی ہو مگر یہ اقدام ”ترکی بطور سیکولر ریاست“ کی بڑی علامت بن گیا۔ مسجد کا میوزیم میں تبدیل ہو جانا سلطنت عثمانیہ کے اختتام کی بھی علامت تھا۔
ترکی کے آئین کے مطابق یہ ایک سیکولر ریاست ہے اور فوج سیکولر آئین کے تحفظ کی خود کو ذمہ دار سمجھتی ہے۔ جب کسی نے بھی سیکولرزم کو چھیڑنے کی کوشش کی تو فوج نے مداخلت کی مگر طیب اردگان کے سامنے یہ مداخلت ناکام ہو گئی۔ سٹوڈنٹس پولیٹکس سے سیاست کا آغاز کرنے والے رجب طیب اردگان نے عملی سیاست میں بھی قدم رکھا اور پہلی دفعہ 1994 میں بطور میئر استنبول شہرت پائی۔ اس دوران مذہبی سیاسی تقریر کی بنیاد پر انہیں جیل میں بھی وقت گزارنا پڑا۔2001 میں ایک نئی سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی اور ترکی میں نئے سیاسی دور کا آغاز ہوگیا۔ تین دفعہ وزیر اعظم بننے اور ایک دفعہ صدارت کی کرسی سنبھالنے کے بعد طیب اردگارن نے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے ترکی میں ریفرنڈم کے ذریعے صدارتی نظام قائم کر دیا۔
آیا صوفیہ کو مسجد کے طور پر کھولنے کا مطالبہ ترک عوام کا بہت پرانا ہے۔ اس مناسبت سے گزشتہ چند سالوں کے دوران منظم قانونی لڑائی بھی جاری رہی۔ اس عمارت سے ترکی کے مسلمان انتہائی عقیدت رکھتے ہیں اور اسے عیسائیوں کے خلاف فتح کی علامت قرار دیتے ہیں۔ انہی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے طیب اردگان نے عدالتی فیصلے کے بعد اس عمارت کو مسجد کے طور پر کھولنے کا اعلان کیا۔
اس فیصلے کو نہ صرف ترکی بلکہ ترکی سے باہر مسلمانوں کی جانب سے سے بھی سراہا گیا۔ دوسری جانب اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے اور ترکی کو اس حوالے سے عالمی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ ترکی اور دیگر ممالک کے سیکولر حلقوں اور عیسائی مذہبی و سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اس فیصلے پر شدید غم اور غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔
ترکی کی حکومت نے اس اقدام کو داخلی مسئلہ قرار دیتے ہوئے ہر قسم کے دباوء کو نظر انداز کر دیاہے۔ اسی حوالے سے ایک موقف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ فاتح سلطان مہمت نے اپنی ذاتی دولت سے یہ عمارت عیسائیوں سے خریدی اور پھر اسے مسجد بنایا۔ اس مناسبت سے اس دور کا ایک مبینہ معاہدہ بھی منظر عام پر لایا گیا ہے۔
آیا صوفیہ کا مسجد کا سٹیٹس بحال کرنا، اس کا مذہبی پہلو کے ساتھ ساتھ ایک سیاسی پہلو بھی ہے اور اس کا تعلق طیب اردگان کی ذات اور ان کے اقتدار کے ساتھ ہے۔ مسلسل حکمرانی کے بعد طیب اردگان کو ترکی میں شدید اندرونی سیاسی مسائل کا سامنا ہے۔اپنی سیاسی پوزیشن کو مزید کمزور ہونے سے بچانے اور اقتدار میں طوالت کے لئے طیب اردگان کو عوامی جذبات اور حمایت کے ضرورت ہے۔ اس عمارت کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کر کے طیب اردگان عوامی جذباتی حمایت حاصل کرنے میں تو کامیاب ہو گئے ہیں مگر یہ وقت ہی بتائے گا کہ یہ پاپولر فیصلہ ان کے اقتدار کو بچا پائے گا یا نہیں۔