این اے آر سی لینڈ مافیہ کی نظروں میں

NARC Land Issue with CDA

ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
NARC لینڈ مافیا کی نظروں میں
ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے کالی سڑک کے دونوں طرف نظر یں دوڑائیں، لہلاتی ہریالی بڑی تیزی سے آج دو میناروں کی حفاظت میں موجود داخلی راستے کے پیچھے سینکڑوں خاکی قطعوں سے گھرے عالی شان بنگلوں اورچمکتی کوٹھیوں میں بدلتی جا رہی ہے۔ انٹرٹینمنٹ میڈیاکی بے لگامی نے اس قوم کو ایسے احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیا ہے کہ اللہ نے جو دیا وہ کبھی اچھا نہیں لگتا اور اپنے سے بڑے کے پاس موجود، دل کو چھوتا ہے۔ اسی کمترہونے کے احساس کا نتیجہ ہے کہ آج آبائی علاقوں سے نکل کرلوگ شہروں کے اطراف میں موجود سونا اگلتی زمینوں کو مسلسل تباہ کئے جا رہے ہیں۔یہی احساس ہے جس کی بدولت لینڈ مافیا کو کھیلنے کا موقع ملا ہوا ہے۔ کتنا آسان ہے کہ کسی بھی جگہ کو قابو کریں ، کٹنگ کریں، ایک آدھ قطعہ حکمران طبقے میں سے کسی کو تحفے میں دیں اور پھر جو جی میںآئے کرتے چلے جائیں۔حکمران خاموش، ان کوکیا فرق پڑتا ہے ۔ ایک زرعی ادارے کی زمین تو بڑی چھوٹی چیز ، ان کا بس چلے سارے ملک کی کٹنگ کر کے پلاٹوں میں بیچ دیں۔ ملک میں ان کا ہے ہی کیا، لوٹی ہوئی دولت باہر، بچے باہر، خاندان باہر، علاج باہر، کاروبار باہر، خوشیاں باہر، غمیاں باہر۔ بھٹو، شریف، خان، الطاف جئیں ، عوام مرے۔ شریف برادران قربانیاں دیتے ہیں جمہوریت کے لئے اور جمہوریت نام رکھا ہے اپنی ذاتی کاروبار کا۔ اس جمہوریت کو بچانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائیں گے ۔زرداری کا کیا ذکر کریں کہ ان کی پارٹی کی مثال تو شوگر کے ایسے مریض کی سی ہے جو آہستہ آہستہ اپنے جسم کو کٹواتا چلا جائے مگر میٹھے کی ضد نہ چھوڑے۔ اور عمران خاں صاحب، کیا اچھا ہوتا اگر ایان کو علی کو پکڑنے والے افسر کے قتل پر دھرنا دیتے، لکڑی چوروں کے خلاف دھرنا دیتے، سیلاب میں اپنی زمینیں بچانے والوں کے خلاف دھرنا دیتے، جاگیرداروں کے ظلم و ستم کے خلاف دھرنا دیتے ، لینڈ مافیا کے خلاف دھرنا دیتے۔ مسائل پر دھرنا نہیں دیں گے کیونکہ ان کا دھرنا تو امپائر کے اشارے کا محتاج ہوتا ہے۔
اطراف میں کھڑی فلک بوس عمارتوں سے نام نہاد اشرافیہ کی لالچی نظریں اس وقت تک NARC کے سبزے پر پڑتی رہیں گی جب تک یہ یہاں موجود ہے۔ پیکٹ بند خوراکیں اور ڈبے بنددودھ پینے والوں کو یہ احساس ہو ہی نہیں سکتا کہ زراعت کی کیا اہمیت ہے۔ ۔ اگرچہ خامیاں موجود ہیں مگر پھر بھی اسلام آباد میں موجود کئی اداروں سے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ کونسل NARC) ) کارکردگی اور قومی خدمت میں آگے ہے۔ اس قوم نے یک زبان ہو کر CDAکے فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن، پاکستان کسان اتحاد، کسان بورڈ، پاکستان ویٹرنری ایسوسی ایشن ، میڈیا اور سیاستدانوں کی پر زور مخالفت کے بعد وفاقی وزیر سکندر حیات بوسن نے یقین دہانی تو کروا دی ہے کہ NARC کی زمین ادارے کے پاس ہی رہے گی مگر باہمی اتحاد کی ضرورت ابھی بھی باقی ہے۔ امید ہے کہ یہ قومی اثاثہ لینڈ مافیا سے بچ جائے گا۔