کمالیہ میں ویٹرنری ڈاکٹر پر ہاتھ اٹھ گیا ۔۔ شدید مذمت 

Misbehaviour by Assistant commissioner

کمالیہ میں ویٹرنری ڈاکٹر پر ہاتھ اٹھ گیا ۔۔ شدید مذمت 
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
ہسپتالوں کی ڈیوٹیاں ۔۔ موبائل ڈسپنسریوں پر گردشیں ۔۔ ویکسی نیشن مہم ۔۔ نو دو اگیارہ پر ردعمل ۔۔ بیواؤں کی تلاش ۔۔ جانوروں کی تقسیم ۔۔ ادویات کا حساب کتاب ۔۔ ونڈے کی مارکیٹنگ اور حفاظت ۔۔ چیک پوسٹوں پر ناکے ۔۔ ڈیٹا کی اینٹری ۔۔ ہر سال گندم ڈیوٹی والی سرگرمی ۔۔ فیڈ ایکٹ پر عملدرامد ۔۔ بریڈ امپروومنٹ ایکٹ پرایکشن ۔۔ ساتھ میں رمضان کی ڈیوٹی ۔ آج جو محکمہ لائیوسٹاک کے افسران نے اپنا اور اپنے محکمے کا وقار بلند کیا ہے وہ ان کی دن رات کی محنت کا نتیجہ ہے۔ لیکن اس سب کے بدلے اگر تھپڑ ملیں تو یہ منظور نہیں۔
کمالیہ کے رمضان بازار میں ڈیوٹی پر معمور دو افسرتھے،ایک ایک شفٹ میں ۔ گوشت کا ایک سٹال، حکم ہے کہ سامنے جالی لگی ہو ۔مبینہ طور پر مذکورہ بازار میں سٹال پر کپڑے کی جالی لگی تھی۔ ہلکی تھی اس لئے ہوا میں بے قابو ہوئی اور کہیں گوشت سے ٹکرا گئی۔ خون کے کچھ دھبے لگ گئے اس کپڑے پر۔ اسسٹنٹ کمشنر کمالیہ نے رمضان بازار کا دورہ کیا۔ بڑے پاک صاف ہوتے ہیں نہ یہ بیورکریٹ، سفید چادر کی طرح۔ اس لئے شاید وہ خون کی دھبے پسند نہیں آئے۔ ڈاکٹر سلیم صاحب آن ڈیوٹی تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے جالی دار کپڑے کے گندے ہونے کی نشاندہی کی ۔ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ میں اسے صاف کروا دیتا ہوں ۔ ان الفاظ کے ردِ عمل میں مبینہ طور پر ڈاکٹر صاحب کو دو تھپڑ دے مارے اور ساتھ میں دھمکیاں بھی دیں۔
یہ بیورو کریسی نہیں بدمعاشی ہے، غنڈہ گردی ہے۔ کیا کبھی چیف منسٹر نے اپنے کسی دورے کے دوران اس افسر کے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔ اگر کسی جگہ کوئی چیز ناگوار گزرتی ہے تو اس پر کارروائی کرو، اس پر تحریری جواب طلب کر لو، لیکن پرتشدد رویہ نہیں۔ ان افسران کو پاکستان کی کریم سمجھا جاتا ہے۔ اپنے علم، عقل، بصیرت میں انہیں ممتاز سمجھا جاتا ہے، بھائی علم اور عقل تمیز بھی سیکھاتی ہے، اخلاق کا پہلو بھی پیدا کرتی ہے۔ اگر اسی طرح کے لوگوں کو اسسٹنٹ کمشنر لگانا ہے تو پھر کیوں سلیکشن اور امتحان کے لمبے چوڑے پروسیس میں پڑا جاتا ہے، ایسا کام تو بدمعاش بھی کر سکتے ہیں۔ تفصیلا ت مطابق اس سے پہلے یہی اسسٹنٹ کمشنر اسی رمضان بازار میں ایک اور ڈاکٹر سے بھی بدتمیزی کر چکے ہیں۔ اس طرح کے شاہی افسر جب کسی افسر کے ساتھ پر تشدد رویہ اختیار کرتے ہیں تو اس سے صرف اس افسر کی بدنامی نہیں ہوتی بلکہ پورے ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی ہوتی ہے۔ اس طرح کے واقعات کو کسی طرح بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اس واقعے کی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے۔ میں پہلے بھی گزارش کر چکا ہوں کہ ویٹرنری افسر کا ہرگز یہ کام نہیں کہ رمضان بازار میں بیٹھا رہے۔ اس ڈیوٹی پر کسی ذیلی سٹاف ممبر کو بیٹھایا جا سکتا ہے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ایک افسر کسی تحصیل کے سات آٹھ بازاروں کی مانیٹرنگ کر لے ۔ مگر گوشت والے پھٹے اور اس کے قصائی کا چوکیدار بن کر بیٹھنا مناسب نہیں۔ محکمہ کو رمضان بازاروں کی ڈیوٹیاں ہرگز قبول نہیں ہونی چاہئیں۔
اگر سیکرٹری لائیوسٹاک محکمہ کے افسران سے دن رات کام لینا جانتے ہیں تو پھر انہیں ان کی عظمت کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ ان افسران کی عزت اور ان کے وقارکی حفاظت کرنا محکمہ کی ذمہ داری ہے۔ سیکرٹری لائیوسٹاک کو معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اس پر شدید اور مؤثر ردعمل دیکھانا چاہئے۔ معاملے کو اعلیٰ حکام تک پہنچانے اور اس جیسے اعلیٰ افسروں کے ہاتھوں کو روکنا بہت ضروری ہے۔اس واقعے پر ایسی کارروائی
کی ضرورت ہے کہ ایک مثال بن جائے۔