پنجاب کی لائیوسٹاک پالیسی اور محکمہ کی سالانہ کارکردگی

Livestock punjab policy,L&DD first Policy,Annual report,

پنجاب کی لائیوسٹاک پالیسی اور محکمہ کی سالانہ کارکردگی
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
پلنداسامنے پڑا ہے، بیس سے زائد کتابچے اورساتھ میں ایک سمری ۔۔محکمہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ پنجاب کی سالانہ کارکردگی ہے۔ پڑھ لی، اب اس پر بات بھی ہوتی رہے گی وقتاََ فوقتاََ ۔۔ مگر پڑھے بغیر ان کتابچوں کو محض دیکھنے سے کم از کم یہ تاثر ضرور ملتا ہے کہ کچھ کام ہوا ہے۔ جب کچھ نہیں ہوتا تو چھپایا جاتا ہے یا پھر بہت تھوڑا دکھایا جاتا ہے۔ محکمہ نے اپنی پچھلے سال کی کارکردگی کو عام کر کے اچھی روایت ڈالی ہے ۔ اس کارکردگی کو اب دیکھا بھی جاسکتا ہے اور پرکھا بھی۔
علم نہیں تھا کہ حکومت کیا چاہتی ہے ، محکمہ کی سمت کیا ہے، افسران کی بصیرت کیا اور لائیوسٹاک کا مستقبل کیا ؟ محنت ہوئی اور ٹھیک ٹھاک ہوئی، پھر حکومتِ پنجاب کی جانب سے لائیوسٹاک اینڈڈیری ڈیویلپمنٹ پالیسی کا ڈرافٹ سامنے آگیا۔ سٹیک ہالڈرز کی مشاورت کے بعد اسے ختمی شکل ملی اور پھر منظوری کے مراحل سے گزرنے کے بعدگزشتہ سال پنجاب کی پہلی لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ پالیسی بن گئی۔ اسی کاوش نے پنجاب کو لائیوسٹاک کی پالیسی بنانے والے پہلے صوبے کا بھی اعزاز دیا ۔ اچھا ہوا کہ ایک سمت تو متعین ہو گئی محکمہ کی ، چاہے غلط یا درست ایک الگ بحث ۔ ابھی حالات جیسے بھی ہوں قیادت جو بھی ہو ، محکمہ اسی فریم ورک میں رہتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کا ذمہ دار ہے اور جوابدہ بھی ۔ ہاں اگر سمت کسی طرح suit نہیں کرتی تو حل پالیسی میں تبدیلی کے علاوہ کچھ نہیں یا پھر اسے نظر اندازکر دینا ایک راستہ ہے۔
بیس سے زائد کتابچے اور ہر کتابچہ محکمہ کے کسی خاص شعبہ کی تفصیلی کارکردگی پر مشتمل ۔ خوبصورتی یہ ہے کہ ہر شعبہ سے متعلق پہلے سے موجود خامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو بہتر کرنے کیلئے جو اقدامات اٹھائے گئے اور ان اقدامات کے جو نتائج حاصل ہوئے، سب کا ذکر ہے۔ اسی کے ساتھ 101صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ ان بیس سے زائد رپورٹوں کا خلاصہ ہے۔اردو زبان میں مختصر خلاصے پر مشتمل ایک کتابچہ الگ سے ہے۔ محکمہ کی جانب سے کتابچوں کا یہ سیٹ وفاقی وزرا،گورنر، صوبائی اراکینِ اسمبلی، اسمبلی سٹاف، چیف سیکرٹریز،پاکستان بھر کے مختلف محکموں کے سیکرٹریز، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے ساتھ ساتھ لائیوسٹاک سے متعلقہ اداروں اور دیگر سٹیک ہالڈرز تک پہنچایا گیا ہے۔ یہ رپورٹیں اصلی حالت میں محکمہ کی ویب سائیٹ www.livestockpunjab.gov.pkپر بھی موجود ہیں جہاں سے ہر کوئی حاصل کر سکتا ہے جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی انہیں سرکولیٹ کیا جاتا رہا ہے۔
اگر کبھی پالیسی پڑھنے کا اتفاق ہو تو اس کے صفحہ نمبر 63 پر چیپٹر نمبر 8 میں درج ہے کہ محکمہ اپنی کارکردگی سالانہ بنیادوں پر اسمبلی میں پیش کرے گا، تاریخ میں پہلی دفعہ اس انداز سے محکمہ کی کارکر دگی کا سامنے آنا اسی تناظر میں ہے۔محکمہ لائیوسٹاک پنجاب کی جانب سے کارکردگی کو منظر عام پر لانا کم از کم یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ محکمے نے اپنے لئے جو سمت متعین کی ،اس کی جانب نہ صرف گامزن ہے بلکہ اس کے لئے سنجیدہ بھی ہے۔
پڑھنے کی عادت ختم ہوتی جارہی ہے ہم میں، امید ہے کہ ان رپورٹوں کو بھی بہت زیادہ لوگوں نے نہیں پڑھا ہو گا بلکہ پڑھنے کی کوشش بھی نہیں کی ہو گی کہ کافی وقت درکار ہے۔ پڑھنا چاہئے ، خاص طور پر ان لوگوں کو جو دل سے لائیوسٹاک سیکٹر کی ترقی چاہتے ہیں۔ صرف پڑھنا نہیں بلکہ اس شعبہ کے ماہرین کو پڑھنے کے بعد اپنی تجاویز اور آراء بھی دینی چاہئیں کہ بہتری کی گنجائش ہر جگہ ہوتی ہے اور کہیں غلط بھی ہوا ہوتا ہے ۔جنرل میڈیا کے لوگوں کو بھی ان رپورٹوں کا مطالعہ کرتے ہوئے نہ صرف اس کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہئے بلکہ کارکردگی پر تجزیہ بھی دینا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان رپورٹوں سے باہر نکل کر عملی طور پر بھی اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ جو کچھ کہا گیا، کیا وہ حقیقت میں بھی ہے یا صرف الفاظ تک ہی محدود ہے ؟
لائیوسٹاک سیکٹر کا براہِ راست تعلق ہماری نیشنل فوڈ سیکیورٹی سے ہے اور اس کے لئے تمام صوبوں کی کارکردگی کا بہتر ہونا بہت ضروری ہے۔ کارکردگی تو چلیں بعد کی بات، اس سے قبل تمام صوبوں کی نہ صرف سمتوں کا درست ہونا بلکہ سب کی سمت کا ایک ہونا سب سے ضروری ہے۔ اس لئے باقی صوبوں کو بھی اپنی لائیوسٹاک پالیسی مرتب کرنی چاہئے تاکہ ہر کسی کی سمت متعین ہو سکے ۔ دوسری جانب یک سمت ہونے کے لئے صوبوں کی باہمی مشاورت بھی بہت ضروری ہے۔
پالیسی سے متعلقہ ایک تجویز محکمہ لائیوسٹا ک پنجاب کے لئے ہے کہ تمام ویٹرنری تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور آخری سال میں پڑھنے والے طلباو طالبات کے ساتھ الگ الگ سیشن کئے جائیں جہاں ان لوگوں سے پالسی پیپرز پر تفصیلی گفتگو ہو۔