ویٹرنری ڈاکٹر پر تشدد اور ضلع کے اعلیٰ افسروں کی بے حسی 

Dr. Jassar aftab column

ویٹرنری ڈاکٹر پر تشدد اور ضلع کے اعلیٰ افسروں کی بے حسی

Attack on Veterinary Doctor and response of district officers in Arifwala | ویٹرنری ڈاکٹر پر تشدد اور ضلع کے اعلیٰ افسروں کی بے حسی

پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم پرحملہ، ویٹرنری ڈاکٹر شدید زخمی

Attack on veterinary doctor | ویٹرنری ڈاکٹر پر تشدد

ویٹرنری ڈاکٹر پر تشدد اور ضلع کے اعلیٰ افسروں کی بے حسی 
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
تین دن سے فارم پر آ رہے تھے کہ کچھ جانور بیمار پڑ گئے ۔ ۔ اُس دن ایک جانور مر گیا ، پوسٹ مارٹم کرنا تھا ۔ ۔ مالک مرضی کی رپورٹ لکھوانے پر بضد اور ڈاکٹر کی جانب سے قواعد و ضوابط کی گردان ۔۔ مالک چودھراہٹ کے نشے میں دُھت ؛ اصول، قاعدے، قانون، ضابطے سے بے بہرا ۔۔ ڈاکٹر کی گردان کو بکواس گردانتے ہوئے خواہش کی تکمیل کے لئے دباؤ بڑھا ۔۔ ڈاکٹر سرکاری فرائض کی ادائیگی میں ڈنڈی مارنے کو تیار نہیں ۔۔ تمام حربے ناکام تو پھر طیش ۔۔ دس سے زائد افراد کا سرکاری ڈاکٹر پر حملہ ۔۔ خوب تشدد ۔ ۔ جان چھڑا کر بھاگنے کی کوشش کی تو حویلی کو تالا لگ گیا ۔۔ سنگل سے باندھنے اور جان سے مارنے کی دھمکی ۔ ۔ آخر ویٹرنری ڈاکٹر نکل پایا ارد گرد کے لوگوں کی مداخلت سے ۔۔ پھر تھانہ، ہسپتال اور پولیس کی روایت۔۔۔
ساڑھے نو بجے کا وقت، 20 جولائی کی صبح مبینہ طور پر یہ واقعہ پیش آیا۔ 20کے بعد 21 آ گئی، صبح ساڑھے نو بھی دوبارہ بج گئے مگر خاموشی۔ بتیس گھنٹے تک FIR نہ درج ہو سکی۔ ڈاکٹراور ان کے ایک دو ساتھیوں نے تھوڑی ہمت کی اور تشدد کا اظہار کرتی تصاویر سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائیں۔ یہ تصاویر مجھ تک 21 جولائی کو شام 6 بجے پہنچیں۔ معاملے کی تحقیق کے بعد خبر فائل کی۔ آٹھ بجے محکمہ لائیوسٹاک کے سیکریٹریٹ نے نوٹس لیا۔ رات پونے نو بجے کے قریب سیکرٹری لائیوسٹاک پنجاب سے رابطہ ہو ؛ دفتر میں تھے ۔ انہوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بات میرے علم میں ابھی آئی ہے، بدمعاشی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہو گی، ابھی ایکشن ہو گا۔ رات ساڑھے اگیارہ بجے ڈاکٹر آصف ساہی نے فون پر بتایا کہ FIR درج ہو جائے گا اور ساڑھے بارہ بجے ہو گئی ۔
واقعہ چھوٹا نہیں، بڑا ہے۔ ایک اٹھارویں گریڈ کے افسر کو باندھ کر تشدد کا نشانہ بنانا، بہت بڑا واقعہ ہے۔ عارفوالہ جنگل نہیں، نہ ہی پاکپتن کا ضلع کسی بنانا ریپبلک کا حصہ ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں، معاملہ جتنا بھی الجھا ہوا ہو، افسر کی غلطی ہو یا نہ ہو ۔۔ تشدد کسی صورت بھی برداشت نہیں ہو سکتا۔میں اس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔ خیر معاملہ اب قانونی مراحل میں داخل ہو چکا ہے ۔ ظالم کو سزاضرور ملے گی ۔۔ قانون قدرت ہے، آج نہیں تو کبھی نہ کبھی ضرور۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بتیس گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کسی بڑے افسر نے سنجیدگی کا اظہار نہیں کیا۔ وہ شخص چار دن تک ہسپتال میں پڑا رہا اور ضلع کے اعلیٰ افسر نے اس کی تیمارداری تک نہیں کی۔ وہ بیچارا پردیسی، کرائے کے مکان پر اپنی فیملی کے ساتھ رہائشی، تنہا ہسپتال میں سسکتا رہا ،کسی نے اس کی فیملی کو دلاسہ تک نہ دیا۔ ہاں ایک ڈپٹی ڈائریکٹر ایک دو افسروں کے ہمراہ ضرور ہسپتال آئے، ویٹرنری افسر بھی اپنی جگہ کوشش کرتے رہے مگر ضلع کے اعلیٰ افسران کی جانب سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ وہ تو اللہ بھلا کرے سیکرٹری لائیوسٹاک نسیم صادق کا کہ جونہی اس شخص تک اطلاع پہنچی، اس نے فوراََ ایکشن لیتے ہوئی نہ صرف متعلقہ ضلع کی اعلیٰ ترین قیادت سے ذاتی طور پر بات کی بلکہ اپنے محکمے کے ضلعی اعلیٰ افسران کی بھی خوب کھینچائی کی کہ وقت پر آگاہ کیوں نہیں کیا گیا۔
جب آپ کو کسی ضلع کا افسر لگایا جاتا ہے تو آپ کا کام صرف فارم بھر کے اوپر بھیجنا نہیں ہوتا ۔ آپ کی حیثیت ایک فیملی کے سربراہ کی سی ہوتی ہے۔ آپ کو اپنے افسران کے ساتھ سٹینڈ لینا پڑتا ہے۔ ہوسکتاہے کہ بعض دفعہ آپ اپنے کسی افسر کی کارکردگی سے خوش نہ ہوں، یا آپ اس کے رویے سے تنگ ہوں، یا وہ نااہل ہو، یا کام چور ہو، یا ویسے ہی آپ کو اس کی شکل پسند نہ ہو ۔۔ ہزار نہیں لاکھ اختلافات ہوں مگر اس سب کے باوجود اگرکسی افسر پر کوئی برا وقت آئے تو اس کے ساتھ کھڑا ہونا آپ کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔یہاں تو انتہا ہو گئی، مگر سنجیدگی کا اندازہ ہی نہیں۔
ہو سکتا ہے کہ واقعہ کے دن اس ضلع کا ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیوسٹاک کسی ذاتی مسئلے میں الجھا ہو مگر اس کے نیچے تو افسر موجود ہیں، انہیں ڈائریکشن دے دیتا ۔کم از کم ڈائریکٹر جنرل یا سیکرٹری کے نوٹس میں تو معاملے کو لاتا ۔اس ڈویژن میں ایک ڈائریکٹر ہے ، وہ مدد کے لئے آگے بڑھ لیتا۔ بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ ابھی (میرے کالم لکھنے) تک اس ضلع کا ایڈیشنل دائریکٹر روایتی حربے استعمال کر رہا ہے۔ اسے میز پر فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ چاہئے۔ وہ اپنے اس ڈاکٹر کے ساتھ ڈی پی او تو دور تھانے تک جانے کو تیار نہیں ۔ محترم یا محترمہ! محسوس کریں کہ آپ کے ضلع میں آپ کے افسر کو بند کر کے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، وہ بزرگ بھی ہے اور گریڈ بھی اٹھارواں رکھتا ہے۔ دماغ میں یہ بات بیٹھائیں کہ آپ کے افسر پر ظلم کی انتہا ہوئی ہے ۔آپ کو تو ضلع سر پر اٹھا لینا چاہئے تھا، سارے پنجاب میں آپ کی آواز گونجنی چاہئے تھی۔ آپ کو تو نیند نہیں آنی چاہئے تھی۔ آپ کے حلق سے تو لقمہ نہیں اترنا چاہئے تھا۔آج ایک افسر کے ساتھ ایسا ہوا ہے کل کو کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، یہ پروفیشن پرتشدد ہے۔ میں تو توقع کر رہا تھا کہ بطور خاتون آپ اس کے بیوی بچوں کو جاکر تسلی دیتیں،مگر آپ کو تواحساس ہی نہیں۔
میری سیکرٹری لائیوسٹاک سے گزارش ہے کہ جہاں وہ اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹر کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں وہاں متعلقہ ایڈیشنل ڈائریکٹر کی بے حسی کا بھی سختی سے نوٹس لیں ۔یہ سرکار کا نہیں انسانیت کا معاملہ ہے۔

Bell Button Website Jassaraftab

Read Previous

سانحہ احمد پور شرقیہ ۔۔ غربت یا لالچ؟

Read Next

قربانی کے جانور اور چند احتیاطیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Share Link Please, Don't try to copy. Follow our Facebook Page