نگران وزیر کا بیان اور مرغی کے گوشت کی قیمتیں

نگران وزیر کا بیان اور مرغی کے گوشت کی قیمتیں
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
نگران وزیرِ اعلیٰ پنجاب حسن عسکری رضوی کی کابینہ میں دیگر وزراء کے ساتھ ساتھ میاں نعمان کبیر بھی شامل ہیں۔ ان کے پاس ٹرانسپورٹ اور محنت و انسانی وسائل کے ساتھ ساتھ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ کے قلمدان ہیں۔ میاں نعمان کبیر بنیادی طور پر بزنس مین ہیں اور ایک مشہور بزنس گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔انہیں ایچی سن اور پنجاب یونیورسٹی جیسی عظیم درسگاہوں سے تعلیم حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ لاہور کے کاروباری حلقوں میں کافی متحرک ہیں اور 2015 میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر وائس پریزیڈنٹ رہ چکے ہیں۔ میاں صاحب کا شمار ان چار وزراء میں ہوتا ہے جن کو بعد میں کابینہ کا حصہ بنا یا گیا۔
وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد سے ہی میاں صاحب پرجوش ہیں اور اپنی تمام سرگرمیوں سے میڈیا کو بھی اپ ڈیٹ رکھتے ہیں۔چنددن قبل انہوں نے یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ انیمل سائنسز لاہور کا دورہ کیا ۔ پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کے وفد سے بھی ملاقات کر چکے ہیں اور اس ملاقات بارے ہینڈ آؤٹ جاری کیا گیا ۔ گزشتہ دنوں وہ کراچی گئے اور اس دورے کے حوالے سے بھی میڈیا کو ایک ہینڈ آؤٹ کے ذریعے آگاہ کیا گیا۔ اسی طرح محکمہ لائیوسٹاک سے بریفنگ لینے کی خبر بھی جاری کی گئی۔
چند روز قبل میاں نعمان کبیر نے نگران وزیرِ خزانہ ضیاء حیدر رضوی کے ہمراہ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کی جس کی سربراہی سابق چیئرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن اور سابق صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عبدالباسط کر رہے تھے۔اس میٹنگ کی مناسبت سے تین مختلف شکلوں میں پریس ریلیز جاری کی گئیں۔ پہلے ہینڈ آؤٹ میں بتایا گیا کہ پولٹری ایسوسی ایشن سے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور ایسوسی ایشن مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں کمی پر آمادہ ہو گئی ہے۔ دوسری پریس ریلیز تین دن بعد جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ وزیرِ لائیوسٹاک کی حکمت عملی کی بدولت مرغی کی قیمتوں میں زبردست کمی آئی ہے اور سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے میاں نعمان کبیر کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ تیسری پریس ریلیز اسی روز انہی الفاظ کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا کے لئے بطور ٹکرجاری کی گئی۔
دوسری جانب پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے میڈیا کو بتایا کہ پولٹری کی قیمتوں پر ایسوسی ایشن کا کوئی کنٹرول نہیں۔ ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس میٹنگ کے دوران ایسی کوئی بات ہی نہیں ہوئی بلکہ وہاں بتایا گیا کہ پروڈکشن زیادہ ہونے کی وجہ سے اگلے چند دنوں میں قیمتیں خود بخود کم ہو جائیں گی جبکہ قیمتیں کم یا زیادہ کرنا ایسوسی ایشن کے بس کی بات نہیں۔
چونکہ میاں نعمان کبیر بنیادی طور پر بزنس مین ہیں اور حکومتی معامالات کو شاید سمجھتے نہیں اور دوسری جانب عوامی عہدہ حاصل کرنے کے بعدعوام کے لئے کچھ کرنے کی تڑپ بھی رکھتے ہوں گے ،اس لئے انہوں نے عوام کو ریلیف دینے کی غرض سے ایسا بیان جاری کر دیا ہوگا۔ اصل میں یہاں نعمان کبیر صاحب کا بھی قصور نہیں کیونکہ حکومتی و انتظامی حلقوں کا یہ مائنڈ سیٹ ہے کہ دودھ اور گوشت لوگوں کو کم قیمت پر فروخت ہونے چاہئیں۔ اسی تناظر میں پھر ضلعی انتظامیہ کے ذریعے ان پروڈکٹس کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ اس حوالے سے سب یہ بات بھول جاتے ہیں کہ گوشت کی کوئی کانیں نہیں ہوتیں اور نہ ہی پاکستان میں دودھ کے دریا بہتے ہیں کہ جہاں سے گوشت اور دودھ نکال کر حکومت اپنی مرضی کی قیمت سے بیچتی رہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ دودھ اور گوشت کے لئے جانوروں کو پالا جاتا ہے جہاں غریب فارمر دن رات کی محنت کے بعد ان سے حاصل ہونے والی مصنوعات مارکیٹ میں لے کر آتا ہے۔ اس دوران اس کے جتنے بھی اخراجات اٹھتے ہیں وہ اپنی جیب سے مارکیٹ کے مطابق ادا کرتا ہے اور اس پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوتا۔ اسی طرح دن رات کی محنت اور کروڑوں روپے رسک پر لگانے کے بعد پولٹری فارمر برائلر کا فلا ک تیار کرتے ہیں اور تمام ادائیگیاں اوپن مارکیٹ سسٹم کے تحت کرتے ہیں۔ اب اگر کاسٹ آف پروڈکشن پر کسی کا کوئی کنٹرول نہیں تو پھر کاسٹ آف سیل پر کیسے کنٹرول ہو سکتا ہے۔دوسری جانب اگر حکومت کو پھر بھی بہت شوق ہے لوگوں کو سستا گوشت اور دودھ فراہم کرنے کا تو ضرور کرے مگر اس سلسلے میں فارمر پر بوجھ نہ ڈالا جائے بلکہ سبسڈی کے ذریعے عوام کو ریلیف دیا جائے۔
جہاں تک پولٹری مصنوعات کی قیمتوں کا تعلق ہے تو یہ واضح رہنا چاہئے کہ اس پر کسی کا کنٹرول نہیں اور خاص طور پر ایسوسی ایشن کا تو اس میں بالکل بھی عمل دخل نہیں ہوتا۔ پولٹری مصنوعات کی قیمتیں اوپن مارکیٹ میں ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے اصول کے تحت چلتی ہیں۔ اگر اس سلسلے میں ایسوسی ایشن کے اختیار میں کچھ ہوتا تو جو اڑھائی سال پولٹری انڈسٹری نے مسلسل کم قیمتوں کے باعث مار کھائی ہے اس میں کوئی نہ کوئی کردار ضرور ادا کیا جاتا۔ دوسری جانب اسی نکتہ پر کہ ایسوسی ایشن قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے، کمپیٹشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ایسوسی ایشن پر جرمانہ عائد ہوچکا ہے اور اس حوالے سے ایسوسی ایشن قانونی لڑائی لڑ رہی ہے۔ اس موقع پر وزیر لائیوسٹاک کی ایسی سٹیٹمینٹ ایسوسی ایشن کے لئے مزید مسائل پیدا کر سکتی ہے۔نگران حکومت کو چاہئے کہ اس سلسلے میں وضاحت کرے کہ آیایہ بیان غلط فہمی کی بنیاد پر دیا گیا یا اس سلسلے میں کسی جگہ کوئی حامی بھری گئی۔