نسیم صادق اور پی وی ایم اے کا احتجاج

نوٹ: یہ کالم 2015 میں لکھا گیا

Nasim Sadiq & PVMA - Urdu Column by Dr. M Jassar Aftab

ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
سائیکل جو عرصہ دراز سے کسی پرانے سٹور میں پڑی رہے، چلنے کے قابل نہیں رہتی؛ زنگ آلود گرد سے بھری، ہوا نکلے ٹائر، نسواری چین ، جام پیڈل اور نہ مڑنے والا ہینڈل۔ صاف کرنا ،پھر ریگ مار سے زنگ اتارنا ، سارے بیرنگ بدلنا ، نئی گولیاں ڈالنا ، گریس کرنا اور رواں کرنے کے لئے سٹینڈ پر کھڑی کرکے ایک ہاتھ سے پیڈل کو گھماتے دوسرے ہاتھ سے چین پر کالا تیل ڈالنااس سائیکل کو چلانے کے لئے بہت ضروری ہے تاکہ سڑک پر آنے سے پہلے اس کا چین “چیں چیں” اور پہیے “کھٹ کھٹ “کرنا بند کردیں۔ آج اگر کوئی شخص عرصہ دراز سے الٹے پلٹے محکمے کوسیدھا کر کے چلانے کی کوشش کر رہا ہے تو زنگ آلود گرد جمے کاہل افسروں کی چیخیں تو نکلیں گی بالکل اسی طرح جس طرح بیکار پڑی سائیکل کو رواں کرتے نکلتی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آئے روز ٹرانسفر سرا سر زیادتی ہے، یہ بات بھی بالکل صحیح ہے کہ گھر کے قریب پوسٹنگ سے ذہنی سکون ملتان ہے اور اس سے بھی انکار نہیں کہ ذہنی سکون کی بدولت افسران اپنے کام کو بڑے اچھے انداز سے سر انجام دے سکتے ہیں۔مگر ان سب باتوں پر توجہ دینا تب جائز بنتا ہے اگر محکمہ لائیوسٹاک نے پنجاب میں دودھ کی نہریں بہا دی ہوں، تمام افسران انتہائی ایمانداری اور جانفشانی سے اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے ہوں، ہر ہسپتال آباد ہو، ریسرچ سنٹرز میں ہونے والی ریسرچ کا دنیا بھر میں چرچا ہو ، سرکاری فارم حکومتی خزانے میں اہم حصہ ڈال رہے ہوں، کہیں کسی مافیا کا وجود نہ ہو، رشوت اور کمیشن کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا ہو، مویشی پال حضرات اور سرمایہ کاروں کو محکمہ سے بیش بہا فوائد ملتے ہوں ، لوگوں کو کوالٹی دودھ اور گوشت مہیا ہو رہا ہو، پرائیویٹ پولٹری اور ڈیری سیکٹر سرکاری افسران سے راہنمائی لیتے ہوں اور ہر جگہ محکمہ لائیوسٹاک کی دھومیں ہوں۔خدا کے لئے اگر دہائیوں بعد کسی نے ڈیپارٹمنٹ کی سمت کودرست کرنے کا سوچا ہے تو اسے اپنے طریقے سے کرلینے دیں، اس کے کام میں ٹانگ نہ اڑائیں۔ آپ کے پاس بہت عرصہ تھا، اس دوران کچھ کر لیتے، اب اُس کی باری ہے، اسے کرنے دیں۔ ہاں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا محکمہ بالکل ٹھیک کام کر رہا تھا اور نسیم صادق نے آ کر اسے تباہ کردیا ہے تو پھر باہر آئیں، سارے محکمے کو تالے لگائیں اور سیکرٹری کو گھر جانے پر مجبورکر دیں، سب آپ کے ساتھ ہوں گے۔ مگر یہ آپ اس وقت کرسکتے ہیں جب خود صاف ستھرے اور کھرے ہوں ۔
ایک ویٹرنری ڈاکٹر جو پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا ہے، صبح 8بجے موٹر سائیکل پر سوار ، سارا دن کبھی ادھر کبھی ادھر، نہ کھانے کی ہوش نہ پینے کا خیال، نہ گرمی کا احساس نہ بارش کی فکر، ذہن پر ٹارگٹ سوار، دھوپ میں جلتا بارش میں بھیگتا سخت محنت کرکے مہینے بعد پچیس یا تیس ہزار تنخواہ کے ساتھ بوس کی جھاڑیں لیتا ہے جبکہ دوسری جانب ایک ویٹرنری آفیسر اس سے زیادہ تنخواہ اور پھر جو دل میں چاہا کیا ، ،سکون ماحول اور موجیں،ساتھ میں چھوٹا موٹا ذاتی کاروبار، افسری کے چسکے الگ سے ،نہ ڈیوٹی پر جانے کی فکر نہ نوکری کے چلے جانے کا خیال، جو مرضی کریں مہینے بعد تنخواہ جیب میںآ ہی جائے گی؛ آج تھوڑا کام کرنا پڑ گیا ہے تو بانگڑیں نکل گئی ہیں۔
نسیم صادق سے تکلیف ان کو ہے جن کی ناجائز روٹیاں بند ہوئی ہیں، جن کے ذاتی کاروبار ٹھپ ہوئے ہیں، جن کے چوہدراہٹ ختم ہوئی ہے، جن سے سالہا سال کے قبضے چھینے گئے ہیں ، جن کی جیب میں اب منتھلی نہیں آتی ، جن کے مافیازاب باقی نہیں رہے یا پھر جن کو کام کرنے کی عادت ہی نہیں۔ محکمہ بھرا پڑا ہے ان محنتی اور قابل افسروں سے جو کام کرتے ہیں یا کم از کم کرنا چاہتے ہیں، اسی لئےّ آج نہ تو عتاب کا شکار ہیں اور نہ ہی پریشان ہیں۔ ان افسران میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے جن میں کام کرنے کا جذبہ تو پہلے دن ہی سے ہے مگر پرانے سسٹم کے ہاتھوں مجبور کچھ کر نہیں پاتے تھے۔ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کے ساتھ زیادتی ہو گئی ہو مگر محکمہ کے وسیع ترمفاد میں اسے کچھ دیر برداشت کر لینا چاہئے۔ امید ہے کہ چند ہفتوں میں ٹرانزیشن فیز ختم ہو جائے گا اور یہ خوف کی فزا بھی کم ہو جائے گی۔
پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن نے جو سیکرٹری لائیوسٹاک کے خلاف احتجاج کا عندیہ دیا ہے وہ پرو فیشن کے ساتھ زیادتی ہے۔ ایک بات واضح ہے کہ ایسوسی ایشن کی عزت اسی وقت ہو گی جب ویٹرنری ڈاکٹرز کی عزت ہو گی اور ویٹرنری ڈاکٹرزکی عزت اس وقت ہو گی جب اس شعبہ میں کام ہو گا ۔ اگر ویٹرنری پروفیشنلز اپنا کام نہیں کریں گے تو سب کی بے عزتی ہے۔ پی وی ایم اے کا تو فرض ہے کہ وہ ویٹرنری پروفیشن کے مفادات کے لئے کام کرے نہ کہ اس پروفیشن کو بدنام کرنے والے مٹھی بھر کاہل افسروں کی سپورٹ کرتے ایک اچھے مشن میں رکاوٹ بننے لگے۔ ایسوسی ایشن محکمہ کے افسران کے لئے ٹریننگز کا انعقاد کرے، ان کے بچوں کی تعلیم وتربیت کے لئے منصوبہ جات شروع کرے، ان کے لئے رہائشی کالونیاں بنوائے، سرکار سے ان کی مراعات میں اضافے کا مطالبہ کرے، پرائیویٹ سیکٹر میں ویٹرنری پروفیشنلز کے مسائل کو حل کروائے، انفراسٹرکچر کی بہتری کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالے اور سب سے بڑھ کر ایسوسی ایشن کو حقیقی معنوں میں فعال کرکے نوجوانوں کو آگے لے کر آئے۔ان کاموں سے نہ صرف ممبران کی خدمت ہو گی بلکہ ایسوسی ایشن کا وقار بھی بلند ہو گا۔
دیکھیں توجہ اس بات پر دیں کہ عزت محنت میں ہے۔چند دن پہلے خوشنود علی خاں اپنے ٹی وی پروگرام میں محکمہ لائیوسٹاک کا ذکر کر رہے تھے۔ اونٹوں کی حالیہ ہلاکتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس سارے معاملے کا بغور جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ متعلقہ محکمے نے انتہائی ذمہ داری کا ثبوت دیاہے۔ان حالات میں محکمہ کے ڈائریکٹرز کا خود فیلڈ میں جانا اور اعلیٰ افسران پر مشتمل ٹیموں کی ورکنگ قابلِ ستائش ہے۔ ساری صورتِ حال کو دیکھ کر مجھے پہلی بار اس بات کا احساس ہوا کہ حکومتِ پنجاب میں کوئی ایسا محکمہ بھی موجود ہے جو واقعی ہی محنت اور لگن سے کام کرتا ہے اور جس کے افسران انتہائی ذمہ داری سے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ ایک بڑے ٹی وی چینل پر ہمارے محکمے کے لئے ایک بڑے صحافی اور تجزیہ نگار کے منہ سے اچھے کلمات ، یقیناََمحکمہ کی موجودہ کارکرد گی کی بدولت ہیں۔ کام کیا تو عزت ملی اور آگے بھی کام کریں گے تو عزت ملے گی۔ ہاں اگر ہم کام کرنا ہی نہ چاہیں تو پھر اور بات ہے۔