ناپسندیدہ فیس بک سٹیٹس پر انتظامیہ کی کارروائی

Social media comments, university

ناپسندیدہ فیس بک Status پر انتظامیہ کی کاروائی
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
“دو تین دن سے جاری کسان میلے کی حالت دیکھ کر عجیب مخمصے کا شکار ہوں کہ بازاری لغویات اور پڑھی لکھی فضولیات میں کیا فرق ہے ۔۔ کسان کے نام پہ ہونے والے میوزک کنسرٹس کس طرح دیہاتی طرز زندگی کی عکاسی کرتے ہیں؟ اور کس طرح ہائی امپیکٹ فیکٹر والے اساتذہ کلاسوں کی بجائے سٹالز پہ علم کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ اوپر سے صاحبزادہ صاحب کا فکر اقبال پہ لکچر ۔۔۔۔۔ سبحان اللہ ۔۔۔۔۔ جب درسگاہیں رقص گاہیں بن جائیں تو کہاں کا اقبال اور کہاں کی تحقیق ۔۔۔ صرف لفظی ڈھکو سلے ۔۔۔ مگر ہاں کسان کو جشن منانا چاہئے کے ابھی ان کے خیر خواہ زندہ ہیں اور ناچ رہے ہیں ۔۔۔۔ تمام غیر ملکی مہمانوں کا شکریہ کے کسانوں کی بجائے وہ کثرت سے نمایاں دکھائی دئے ۔۔۔ اور ہاں اقبال کی فکر اب شاید ناقص لگے کیونکہ اس کی فکر سے عالمی فنڈز نہیں ملتے۔ ”
یہ میری نہیں بلکہ الیکٹرانک میڈیا پر گردش کرتے پی ایچ ڈی کے طالبعلم سید کاشان حیدر گیلانی کے الفاظ ہیں جو انہوں نے یونیورسٹی کسان میلے کے بارے فیس بک پر چھوڑے ؛انتظامیہ کو ناگوار گزرا تو مبینہ طور پر معذرت کی اور آئندہ نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کروادی مگر پاکستان کی دوسری بڑی اور دنیا کی سو یونیورسٹیوں میں شمار ہونے کا دعوعٰ کرنے والی جامعہ زرعیہ فیصل آبادنے عدم برداشت کی ایسی مثال قائم کی کہ اپنے اس طالبعلم کو یونیورسٹی سے ہی نکال دیا۔
یہ الگ بحث کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں میوزیکل پروگرام ہونے چاہئیں یا نہیں اور غیر نصابی سرگرمیوں خصوصاََ انٹرٹینمنٹ کی تقریبات کے حق میں رائے رکھنے والے درست ہیں یا اس کی مخالفت کرنے والے مگر یہ واضح ہے کہ اس پر اپنی رائے کا اظہار کرے والے کا مستقبل تباہ کر دیناہرگز قبول نہیں۔
جامع زرعیہ فیصل آباد میں ہم نصابی اور غیرنصابی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے مختلف سوسائٹیز اور کلب موجود ہیں جو یونیورسٹی میں محفل نعت و قرات سے لیکر ڈراموں کے مقابلے اور رنگا رنگ کے ثقافتی پروگرام تک کا انعقاد کرتی ہے۔ دیگر سرکاری جامعات کی طرح یہاں بھی ان سرگرمیوں کے بارے مختلف طلباء و طالبات اور اساتذہ کی مختلف رائے ہے۔ کچھ لوگ ان سرگرمیوں کوسٹوڈنٹس کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے بہت ضروری قرار دیتے ہیں ، ایک گروہ ان کو برا تو نہیں کہتا مگر اس ضمن میں حدود و قیود کا خیال رکھنا ضروری سمجھتا ہے، محض کتاب اور لیبارٹری کو سب کچھ سمجھنے والوں کے نزدیک یہ کھیل تماشہ فضول اور اس میں الجھنا محض وقت کا ضیاع ہے دوسری جانب ایک ذہن انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے انہیں معاشرتی بگاڑ کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ اگر یونیورسٹی کی انتظامیہ کسی تقریب کا اانعقاد کرے اور کوئی بزورِ بازو اسے روکنے کی کوشش کرے ، اس پر تو انتظامیہ کے حرکت میں آنے کا جواز بنتا ہے مگر کسی تقریب کے بارے مختلف رائے رکھنے اور کسی جگہ اس پرتنقید کرنے والے کے خلاف ایکشن لینا سراسر زیادتی ہے۔
یونیورسٹی ایک قومی ادارہ ہے اور اس میں ہونے والی سرگرمیوں پر یونیورسٹی طلباء و طالبات اور اساتذاہ سمیت کوئی بھی اپنی رائے دے سکتا ہے مگر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں گزشتہ چند سالوں سے یہ کلچر فروغ پا چکا ہے کہ اپنے مخالفین کا جینا حرام کر دو۔ اگر کوئی شخص وائس چانسلر کے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کرتا تو پوری انتظامیہ ہاتھ دھو کر اس کی پیچھے پڑ جاتی ہے اور پھر اس شخص کو تباہ کرنے میں ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس خطرناک جنگ میں یونیورسٹی کے بہت سے ڈیپارٹمنٹس اور ان کے طلباء و طالبات کو بھی ٹھیک ٹھیک نقصان براشت کرنا پڑتاہے ۔
سوشل میڈیا کسی کے باپ کی جاگیر نہیں اگر کاشان نے یونیورسٹی کی سرگرمیوں کے بارے کوئی بات کی تو وہ اس کی رائے ہے اور اس نے اپنی رائے کے لئے جس فورم کا انتخاب کیاوہ بھی ہر شخص کے لئے Open ہے۔اظہارِ رائے کی آزادی سب کا حق ہے۔ ہاں انداز اور الفاظ کے چناؤ پر اعتراض ہو سکتا ہے اورمگر اس کی اتنی بڑی سزا نہیں کہ آپ ایک طالبعلم کا مستقبل ہی تباہ کر دیں ۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی Disciplinary Advisory Committee کا یہ فیصلہ انتہائی مضحکہ خیز اور بچگانہ ہے جس پر اسے شرم آنی چاہئے ۔
بہت ضروری ہے کہ معاملے کی گہرائی تک جایا جائے اورپتہ لگایا جائے کہ محض فیس بک کے ذاتی اکاؤنٹ کی ٹائم لائن پر معمولی سی تنقید کو بنیاد بنا کر یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک طالبعلم کو یونیورسٹی سے کس طرح فارغ کر دیا۔ کیا اس کے پیچھے ذاتی رنجش کا معاملہ ہے یا ڈیپارٹمنٹس کی باہمی چپکلش میں ایک طالبعلم کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے یا پھر اتنے بڑے اداروں کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے انوکھے لاڈلوں کی قوت برداشت کا جنازہ نکل چکا ہے کہ جو کوئی ان کے ہاں میں نہ ملانے کی جرات کرے اس کا گلا ہی دبا دیا جائے۔
گورنر پنجاب اور ویز اعلیٰ پنجاب سے درخواست ہے کہ اس واقع کا نوٹس لیں اور تحقیقات کروائیں کہ اس چھوٹی سی بات پر ایک طالبعلم کو اتنی بڑی سزا دینے والی کمیٹی کا فیصلہ کسی قانون قاعدے کے مطابق ہے ۔اگر طالبعلم کا جرم اس سزا کے قابل ہو تو برقرار رکھا جائے، اگر انتظامیہ نے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہو تو پھر کاشان کو نہیں بلکہ سزا دینے والوں کو گھر بھیجا جائے ۔