روفیشنل ڈگریوں کی بڑھتی تعداد ، بے روزگاری اور ویٹرنری پروفیشن

Higher Education,Increase in Professional Degrees,Unemployment,More Candidates Than Seats

پروفیشنل ڈگریوں کی بڑھتی تعداد ، بے روزگاری اور ویٹرنری پروفیشن
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
جس معاشی اورسماجی نظام میں تعلیم کا مقصد درجہِ انسانیت کی بہتری کے برعکس روزگار کا حصول اور اس سے بھی بڑھ کر دولت کمانا ہو وہاں تعلیمی شعبوں کی معاشی اہمیت کو نظر اندا ز نہیں کیا جا سکتا ۔ اس نکتہ کی اہمیت اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب بات پروفیشنل ایجوکیشن کی ہو رہی ہو۔
پچھلے پندرہ سالوں میں ہم نے ہائر ایجو کیشن کو عام کرنا تھا مگر بد قسمتی سے یہ آوارہ ہو گئی۔ بغیر پلاننگ کے نئی یونیورسٹیاں بنتی رہیں، ایک ایک یونیورسٹی کے کئی کئی کیمپسز کھلتے گئے، سکول کالجوں میں اور کالج یونیورسٹیوں میں بدلتے رہے۔ پی ایچ ڈیز اندھا دھند بڑھتے گئے۔ پرائیویٹ یونیورسٹیاں کھولنا سب سے آسان اور منافع بخش کاروبار بن گیا۔ نئی نئی ڈگریاں متعارف ہوتی رہیں یہ سوچے بغیر کہ اس شعبے سے متعلقہ ماہرین کی پاکستان میں ضرورت ہے بھی یا نہیں اور اگر ہے تو کتنی ہے۔ نتیجتاََ انجینئر ، فارماسسٹس، ایگریکلچرسٹ اور ددیگر پروفیشنلز کی تعداد حد سے زیادہ بڑھ گئی جبکہ روزگار کے مواقع اس تناسب سے نہ ہونے پر بیروزگاری میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوتا گیا۔ جب احساس ہوا حکومت کو کہ یہاں ٹیکنیکل اور پروفیشنل ہیومین ریسورس کی پیداوار قابو میں نہیں رہی اور بد قسمتی سے ان کے شایانِ شان روزگار کے مواقع بھی نہیں ہیں تو حل یہ نکالا کہ ڈاکٹر اور ڈینٹسٹ کے علاوہ جتنے بھی پروفیشنل ڈگری ہولڈرز ہیں وہ جنرل ڈگری ہولڈرز کی طرح محکمہ تعلیم میں ایجوکٹر بھرتی ہو جائیں۔ مگر یہ سلسلہ بھی کچھ زیادہ دیر چل نہ سکا۔
تعلیم کو عام ہونا چاہئے مگر اس سلسلے میں فوکس جنرل ایجوکیشن پر رہنا چاہئے۔ ایک جنرل ڈگری ہولڈر کے لئے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر سینکڑوں مواقع ہوتے ہیں جہاں وہ اپنی قابلیت کے مطابق ایڈجسٹ ہو سکتا ہے۔ مگر اس کے بر عکس پروفیشنل ڈگریز میں اداروں اور سیٹوں کی تعداد کو ضرورت کے مطابق بڑھانا چاہئے۔ ایک پروفیشنل گریجویٹ کی تیاری میں محنت کے ساتھ ساتھ ریاست کے ریسورسز بھی بہت زیادہ خرچ ہوتے ہیں اور اگر یہ اپنے خاص شعبہ میں کام نہیں کرتا تو اس میں محنت اور وقت کے ساتھ ساتھ قومی وسائل کا بھی ضیاع ہے۔ اگر پروفیشنلز اور پی ایچ ڈیز پیدا کر کے ان کو سڑکوں پر رولنا ہے ، تو یہ قوم کی کوئی خدمت نہیں بلکہ دھوکہ ہے۔ہمیں ہر سال کتنے انجینئر،ویٹرنری ڈاکٹر، فارماسسٹ، ایگریکلچرسٹ، فوڈ سائنٹسٹ، فزیو تھراپسٹ، بائیوٹیکنالوجسٹس وغیرہ کی ضرورت ہے ،ایمانداری سے اسے کیلکولیٹ کر لینا چاہئے اور اس کے مطابق ہر سال داخلے دینے چاہئیں۔ اسی طرح اپنے زمینی حقائق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جن پروفیشنل ڈگریز کی ضرورت نہیں انہیں بند کر دینا چاہئے ۔
پاکستان کی تمام پروفیشنل یونیورسٹیز اور پروفیشنل ڈگریز کو ایک دفعہRevisit کرنا ہوگا۔ ہر یونیورسٹی کا اپنا اپنا مینڈیٹ ہے اور گھما پھرا کر دوسرے شعبہ جات کااپنے شعبے سے تعلق جوڑنے کا ڈرامہ بند کرتے ہوئے ہر یونیورسٹی کو اپنے اسی مینڈیٹ سے براہِ راست متعلقہ ڈگریاں جاری کرنی چاہئیں ۔ یونیورسٹیز کو پرائیویٹ لمٹیڈکمپنیاں نہ بنایا جائے ۔۔ ہائر ایجوکیشن پالیسی میں یہ بنیادی تبدیلی لانا ضروری ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کا کام پیسے کمانا اور حکومتی خزانے بھرنا نہیں ۔ ان کا پرافٹ لاس سے کوئی تعلق ہی نہیں ہونا چاہئے۔ یہ حکومت کا کام ہے کہ ہائر ایجوکیشن کے لئے فنڈز مہیا کرے۔ ا گر سوچ میںیہ بنیادی تبدیلی آ گئی تو پھرڈیپارٹمنٹس کا انسٹیٹیوٹس ، انسٹیٹیوٹس کا فیکلٹیز، کالجز کا یونیورسٹیز ، اور چند کریڈٹ آرز کے کورسز کا فل ڈگریوں میں بدلنے کے ساتھ ساتھ نئے نئے کیمپسز اور ایک ہی شہر میں کئی کئی یونیورسٹیوں کے کھلنے کا سلسلہ خود بخود بند ہو جائے گا جبکہ یونیورسٹیاں ڈگریوں اور داخلوں کی تعداد میں اضافے کی بجائے کوالٹی پر توجہ دیں گی۔
اگر ہم پاکستان میں ویٹرنری ایجوکیشن کی بات کریں تو گزشتہ دس پندرہ سالوں میں خوب مزاق ہوا۔ اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ ویٹرنری گریجویٹس کی ضرورت ہے بھی یا نہیں، ویٹرنری تعلیمی اداروں کے نئے کیمپسز کھلنے لگے اور بہت سی یونیورسٹیوں نے اینیمل سائنسز،پولٹری سائنس ، ڈی وی ایم اور دیگر متعلقہ ڈگریاں شروع کر دیں۔ان میں سے صرف ایک ڈگری کو حکومتی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان ڈگریوں کے گریجویٹس کا ملازمت کے حصول کے لئے فیلڈ میں براہِ راست مقا بلہ بھی ہوتاہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اینیمل اور ویٹرنری سائنسز سے متعلقہ گریجویٹس کی تعداد اتنی زیادہ ہوگئی کہ معاملہ collateral damage کی طرف جا رہا ہے۔ان گریجویٹس کے مقابلے میں سرکاری سطح پر آسامیاں نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ انڈسٹری اگرچہ موجود ہے مگر اتنی بڑی نہیں کہ ان کو سما سکے ۔ سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور آزاد کشمیر میں ویٹرنری بے روزگاری حد سے زیادہ ہے کہ یہاں سرکاری ملازمتیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور پرائیویٹ سیکٹر بھی بہت بڑا نہیں۔ ادھر پنجاب میں اگرچہ سرکاری ملازمتیں تو آجاتی ہیں مگر یہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ پھر پاکستان بھر سے بہت بڑی تعداد پنجاب کے پرائیویٹ لائیوسٹاک اور پولٹری سیکٹر کا رخ کرتی ہے ۔اب ڈیمانڈ کے مقابلے میں سپلائی زیادہ ہونے کے باعث صورتحال ایسی ہے کہ بہت سے لوگ بیچارے بارہ بارہ ہزار، پندرہ پندرہ ہزار کی نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں۔
پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل جس کا کام پاکستان میں ویٹرنری ایجوکیشن کی کوالٹی کو دیکھنا تھا ، اس معاملے میں irrelavent ہے۔ اس ادارے کا سٹوڈنٹس اور پروفیشنلز سے پیسے اکٹھے کرنے اور انہیں ڈرانے دھمکانے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔ یہ لوگ کوالٹی کا ڈرامہ تو رچاتے ہیں مگر اس کا مقصد محاظ آرائی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔PVMC نے چند سال پہلے پابندی لگائی کہ نئے ادارے ڈی وی ایم کی ڈگری شروع نہ کر سکیں مگر یہ پابندی مبینہ طور پر کونسل کے ایک اعلیٰ ترین عہدیدار کے اپنے پرائیویٹ کالج کھلنے کے بعد لگائی گئی اور اس پابندی کو استعمال کیا گیا کہ پاکستان کا کوئی اور پرائیویٹ ادارہ اس ڈگری کا آغاز نہ کر سکے۔ اب غالباََخود ہی اس پابندی کو ہٹا لیا ہے کہ بہاولپور میں ایک نئی ویٹرنری یونیورسٹی اور پرانی یونیورسٹی کا ایک نیا کیمپس کھلنا ہے۔ دوسری جانب کونسل Parallel Degrees کا مسئلہ بھی حل نہیں کروا سکی سوائے اس کے کہ ڈی وی ایم کے علاوہ کسی کو رجسٹر نہیں کیا جاتا اور ا س کا نقصان سامنے ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں رش بڑھ رہا ہے۔
سب سٹیک ہالڈرز کو بیٹھ کر یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سے متعلقہ جتنی بھی ڈگریاں چل رہی ہیں، انا اور ہٹ دھرمی کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے، انہیں تسلیم کر لیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ہر ایک میں ضرورت کے مطابق داخلوں کی تعداد مختص کر دی جائے۔ یہی کام باقی پروفیشنل ڈگریوں سے متعلقہ کونسلز کو بھی کرنا چاہئے۔ہاں ا گر معاملات اسی طرح چلتے رہے تو پھربڑے نقصان کے لئے تیار رہنا چاہئے