جانوروں کی شناخت کے لئے حکومتِ سندھ کی اتھارٹی 

Sind Govt Authority,Ear Tagging,Animals Registration

جانوروں کی شناخت کے لئے حکومتِ سندھ کی اتھارٹی 
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
نام رکھ لیتے ہیں لوگ اپنی گائے بھینس کا جیسے چنبیلی، انارکلی وغیرہ، جانور پہچانا بھی جاتاا ور پکارنے پر ردِ عمل بھی ظاہر کرتا مگر اس کا تعلق جانور اور اس کے مالک کے باہمی لگاؤ سے ہے۔ جانور کو داغنے والا طریقہ پرانا ہے کہ جسم پر کوئی نمبر یا نشان بنا دیا لوہے کی گرم سلاخ یا کسی کیمیکل کے ذریعے ۔ رنگ وغیرہ کا استعمال بھی اس سلسلے میں کیا جاتا، ٹیٹو بھی بنائے جاتے ۔ گلے میں کوئی چیز لٹکا دینے سے بھی جانو رکی نشانی ہو جاتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ لائیوسٹاک کی شناخت کے سسٹم میں بہتری سے باقاعدہ نمبر کے ذریعے جانوروں کا ریکارڈ رکھا جانے لگا۔ ریکارڈنگ کا یہ طریقہ عام طورپر لائیوسٹاک فارموں پر اپنایا جاتا ہے جہاں ہر جانور کو ایک خاص نمبر دے دیا جاتا ہے اور پھر اسی نمبر کے تحت اس سے متعلقہ معلومات یکجا کی جاتی ہیں ، جیسے دودھ کی پیداوار کا ریکارڈ، بیماری کا ریکارڈ، بچہ دینے کا ریکارڈ وغیرہ ۔ یہ نمبر جانور کے جسم پر داغ دیا جاتاہے یا کالر وغیرہ کے ذریعے گلے میں لٹکا دیا جاتاہے۔ آج کل Ear Tag بہت عام ہے جس میں پلاسٹک وغیرہ کا ایک خاص ٹکرا جانور کے کان میں نصب کر دیا جاتا ہے جبکہ اس ٹیگ پر لکھا ہوا نمبر اس کی شناخت کا کام دیتا ہے۔ یہ بہتر اور آسان طریقہ ہے جس میں نمبراور شناختی علامت کے گم ہونے کا خدشہ کم رہ جاتاہے۔جدت کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے استعمال نے یہ بھی ممکن بنا دیا ہے کہ جانورسافٹ ویئر کے ساتھ منسلک ہو جائے اور جانور سے متعلقہ ڈیٹا کمپیوٹر وغیرہ میں محفوظ ہوتا رہے۔ سافٹ ویئر سے منسلک جانور کو نہ صرف کسی بھی وقت ٹریس کیا جا سکتا ہے بلکہ اس کی حرکات و سکنات کو بھی مانیٹر کیا جاسکتا ہے۔
حکومتِ سندھ نے ایک اتھارٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو جانوروں کی رجسٹریشن اور شناخت کا نظام قائم کرے گی۔۔ اسمبلی نے بل پاس کر دیا۔ نادرا کی طرز پر کام کرنے والا یہ ادارہ سندھ بھر کی گائے، بھینسوں، بھیڑوں، بکریوں اور اونٹوں وغیرہ کی رجسٹریشن کرتے ہوئے ہر جانور کو ایک خاص نمبر دے گا۔ یہ نمبرجہاں سنٹرل ڈیٹا بیس میں محفوظ ہو جائے گا وہاں Ear Tag یا کسی اور مناسب طریقے سے جانور کے جسم کا مستقل حصہ بھی بن جائے گا ۔ اب یہ جانوردنیا بھر میں اسی نمبر سے پہچانا جائے گا۔ جانور کا مالک اس جانور کے بچہ دینے، مرنے ، اسے بیچنے یا جگہ تبدیل کرنے کی صورت میں اتھارٹی کو معلومات فراہم کرنے کا پابند ہو گا۔ اسی طرح اگر کسی جگہ جانور ذبح ہوتا ہے تو قصاب وغیرہ بھی ذبح ہونے والے جانور کی اطلاع متعلقہ اداروں کے ساتھ ساتھ اتھارٹی کودے گا۔
مشکل کام ہے کہ صوبے بھر کے ایک ایک جانور کو رجسٹر کرنا ، اسے ایک مستقل نمبر دے دینااورپھر اسی نمبر کے تحت اس جانور کی مسلسل مانیٹرنگ کرنا ، ساتھ میں صوبے میں آنے اور یہاں سے جانے والے جانوروں کا بھی ریکارڈ رکھنامگر بہت بڑا بھی کہ کسی صوبے کا ہر جانور رجسٹر ہوکر قابلِ شناخت ہو جائے۔اگرچہ حکومتِ پنجاب نے بھی جانوروں کے ڈیٹا بیس پر کافی کام کیا ہے جہاں فارمر کو دی جانے والی سروسز کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے مگر نادرا کی طرز پر جانوروں کی رجسٹریشن اور شناخت کے لئے کسی dedicated ادارے کا قائم ہونا ایک نئی مثال ہو گا۔ اگر یہ اداراہ قائم ہوجائے اور پھر ایمانداری سے کام کرے تو یہ سندھ حکومت کی نیشنل فوڈ سیکیورٹی میں بہت بڑی شراکت ہو گی۔ اس عمل سے نہ صرف جانوروں کی صحیح تعداد کا علم ہو جائے گا بلکہ جانور سے حاصل ہونے والا دودھ اور گوشت بھی Traceable ہوگا ۔ دوسری جانب لائیوسٹاک اور لائیوسٹاک پراڈکٹس کی ایکسپورٹ کو ایک نئی راہ ملے گی کہ دنیا کے لئے اعتماد کرنا آسان ہو گا۔ حکومتِ سندھ کی جانب سے اتنے بڑے ادارے کا معرض وجود میں آ نا تو سمجھ میں آتا ہے مگر اس کا درست کام کرنا ذرا مشکل لگتا ہے۔ مگر چلیں سوچ کو مثبت رکھتے ہوئے امید باندھ لیتے ہیں کہ حالات کے برعکس یہ ادارہ نیک نیتی سے بغیر کسی سیاسی مداخلت کے کام کرے گا۔
حکومتِ سندھ کو ایک بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ اس کا محکمہ لائیوسٹاک اپنی جگہ موجود ہے۔ یہ اتھارٹی ضرور قائم کی جائے مگر اس کی سرگرمیاں کسی بھی طرح سے محکمہ کی سرگرمیوں سے متصادم نہ ہوں ۔ یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ اس طرح کی اتھارٹی کا کام جانوروں کی رجسٹریشن اورشناخت کرنا ہے جبکہ جانوروں کے علاج معالجے، خوراک اورنسل کشی سے متعلقہ دی جانے والی سروسز سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے ۔ ان سرگرمیوں کے لئے محکمہ لائیوسٹاک اینڈ فشریز موجود ہے ۔
حکومتِ سندھ کو محکمہ لائیوسٹاک کے انفراسٹرکچر میں بہتری لاتے ہوئے ویٹرنری ڈاکٹروں کی مستقل بنیادوں پر بھرتیاں کرنی چاہئیں کہ یہاں ڈاکٹروں کی تعداد ضرورت سے بہت کم ہے۔ اگر سندھ کے جانور بنیادی ویٹرنری سروسز سے محروم رہے یا محکمہ کی ویٹرنری سروسز صرف کاغذوں تک محدود رہیں تو اس رجسٹریشن والی نئی اتھارٹی کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہو گا، بلکہ نقصان کا خدشہ ہے کہ یہ اتھارٹی بھی کاغذوں تک ہی محدود رہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ حکومت سندھ نئی اتھارٹی ضرور قائم کرے مگر محکمہ لائیوسٹاک کی افرادی قوت میں اضافہ کرتے ہوئے صحیح معنوں میں اس سے کام بھی لے۔