جانوروں میں لیپروسکوپی ۔ ڈاکٹر ضیاء کا کارنامہ

Online pets store,Leproscopy ,Equine Hospital ,Distinguished Lady Vets

جانوروں میں لیپروسکوپی ۔ ڈاکٹر ضیاء کا کارنامہ
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
پچھلے دنوں ڈاکٹر جواداحمد کا سٹیٹس پڑھا، خوشی ہوئی ، بہت خوشی۔ صاحب کو اپنے ادارے کے لئے ڈاکٹر ز اور ویب ڈیزائنر درکار تھے۔ کوئی بڑی بات نہیں کہ اداروں ہی کو لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر یہاں بڑی بات ہے کہ نوجوان ہیں، اور صاحب بن گئے۔ جانوروں کے ڈاکٹر بنے اور پھر سرکار کی نوکری کی آس میں جلنے کی بجائے کچھ مختلف کرنے کا سوچا۔ رکھتے تو کتوں بلیوں میں دلچسپی تھے مگر حسبِ حالات کوئی کلینک بنانے کی بجائے اسی شعبہ میں ممتاز ہونے کا ارادہ کیا۔ بس پھر Value addition کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے علوم میں مہارت حاصل کرنے کی راہ پر نکل پڑے اور ویب ڈیزائننگ میں بہت آگے تک گئے۔ ایک نیا آئیڈیا آیا۔ ۔ ویٹرنری سائنسزاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ملاپ سے ایک آن لائین پیٹس سٹور بنانے کا خیال۔ ایک ایسا سٹور جہاں گھر بیٹھے بلی کتوں والے اپنے پیاروں کے لئے ضرورت کی اشیاء خرید سکیں اور پھر یہ ویب سائیٹ والا ادار ہ انہیں ہوم ڈلیوری کی سروس بھی فراہم کر ے۔ اسی خیال کی تکمیل میں یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے بزنس انکیوبیشن سنٹر نے تعاون کیا اور سونے پر سہاگا ان دنوں اس ادارے کے انچارج ڈاکٹر وسیم شوکت تھے۔ تعصب سے بالاتر قابل افراد کی راہنمائی اور ڈاکٹر وسیم شوکت کی ذاتی کاوش سے ڈاکٹر جواد کا یہ آئیڈیا حقیقت میں بدلا اورآج وہ پاکستان کے پہلے آن لائن پیٹس سٹور www.petsone.pkکو کامیابی سے چلا رہے ہیں۔
ایک اور بڑا کارنامہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے نوجوان ویٹرنری ڈاکٹر ضیاء محی الدین کا ہے جنہوں نے عملی میدان میں اپنی قابلیت کے جوہردیکھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے سرجن بننے کی ٹھان لی۔ صرف سرجن نہیں بلکہ جانوروں کی سرجری میں کچھ ایسا کرنے کا ارادہ کیا جو کہیں نہ ہواہو ، جو کسی نے نہ کیا ہو۔ پھر جانوروں میں لیپروسکوپی کرکے ممتاز ہو گئے ۔
ایک مخصوص کیمرے کو جسم کے اندر داخل کر کے اندرونی اعضاء کا معائنہ اینڈو سکوپی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو بیماریوں کی تشخیص اور کم سے کم چیر والی سرجری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ جسم کے مختلف حصوں میں اس کے استعمال سے اس کی اصطلاح بھی بدل جاتی ہے، جیسے جوڑوں کی اینڈوسکوپی کو آرتھروسکوپی، سینے کے اندرونی اعضاء کے لئے اس کے استعمال کو تھوریکوسکوپی جبکہ پیٹ کے اندرونی معائنے کو لیپروسکوپی کہہ دیتے ہیں۔ لیپرو سکوپی ایسی ٹیکنالوجی ہے جس میں چیڑپھاڑ کم سے کم کرتے ہوئے پیٹ میں ضرورت کے مطابق سوراخ کرکے ایک کیمرا داخل کر دیا جاتا ہے۔ پھر اسی کیمرے کی مدد سے جسم کے اندرونی اعضاء کا معائنہ کیا جاتا ہے اور انہیں سوراخوں سے دیگر مخصوص اوزاروں کو جسم میں لے جاکر سرجری کر لی جاتی ہے۔ بہت سی بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے جیسے جسم سے اپینڈکس یا اووریز کو نکالنا وغیرہ۔ انسانوں میں تو عام ہے مگر پاکستان کے جانوروں میں نہیں۔
ڈاکٹر ضیاء نے اپنے اس سفر کا آغاز کردیا۔ اپنی پریکٹس سے کچھ رقم جمع کی ، کچھ فیملی سے پیسے ادھار لئے اور تلاش میں نکل گئے۔ فیصل آباد کے کچھ سرجن سے ٹیکنالوجی سیکھنے کی درخواست کی مگر انکار ہوا۔ ایک نے اجازت دی مگر ڈیمانڈ اتنی بھاری رقم کی کہ ممکن نہ تھا۔ آخر بہت سے کوششوں کے بعد ایک صاحب نے لیپروسکوپی کے دوران بطور Observer کھڑے ہونے کی اجازت دے دی۔ یہ تھا اہم موقع ۔۔ بس ڈاکٹر ضیاء نے اپنی observation، ریسرچ اور سٹڈی کے ذریعے یہ کام سمجھ لیا۔ عملی طور پر جب کام شروع کرنے کا وقت آیاتو آلات نہیں تھے، اگر تھے تو انہیں چلانے والا کوئی نہیں۔خیر ادارے میں موجود کچھ گرد آلود آلات کو صاف کرکے اور کچھ آلات کرائے پر لے کر کام شروع کر دیا۔
مشکلات پیش آئیں، بڑوں کی جانب سے رکاوٹیں بھی ڈالی گئیں، حوصلہ شکنی بھی ہوئی مگر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی، ڈاکٹر اسعد منظور، ڈاکٹر مصباح اعجاز اور اس ادارے کے چند دیگر اساتذہ کی جانب سے مکمل تعاون اور اندر کے جنون نے انہیں کامیاب کیا۔ یہ سب کچھ ڈاکٹر ضیاء نے اپنی ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن کی ڈگری کے ایک سال بعد کیا۔ آج ڈاکٹر ضیاء فیصل آباد اور گردو نواح میں ایک کامیاب ویٹرنری سرجن کی حیثیت سے اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ ایک ایسا ویٹرنری سرجن جسے لیپرو سکوپی جیسی ٹیکنالاجی پر بھی عبور ہو اور اب وہ قومی سطح پر بطور ویٹرنری سرجن ابھر رہا ہے۔
لائیوسٹاک سیکٹر کے متعلقہ اداروں خصوصاََ محکمہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ پنجاب کو ڈاکٹر ضیاء کے لئے کسی نیشنل ایوارڈ کی سفارش کرنی چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی پہلی ویٹرنری یونیورسٹی کی حیثیت سے یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کواپنے کانووکیشن میں انہیں گولڈ میڈل پہنانا چاہئے ۔ جس ادارے میں یہ کارنامہ سرانجام دیا گیاوہاں بھی اس نوجوان پر فخر کرتے ہوئے گولڈ میڈل کا اعلان ہونا چاہئے ، فیکلٹی گولڈ میڈل اور یونیورسٹی گولڈ میڈل دونوں ۔
ڈاکٹرضیاء مستقبل میں گھوڑوں کی سرجری کے لئے پاکستان میں انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کا ہسپتال بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ ہے آئیڈیا کروڑوں کا۔ نیو ٹی وی کو چاہئے کہ ڈاکٹر جواد کی طرح ڈاکٹر ضیاء کو بھی اپنے پروگرام ” آئیڈیا کروڑوں کا ” میں بلائیں اور اسے پاکستان کی خدمت کرنے کا موقع فراہم کرے۔ اسی طرح ویٹرنری پروفیشن میں اور بہت سی ایسی کہانیاں اورایسے آئیڈیاز ہیں جنہیں سکرین پر لایا جا سکتا ہے جیسے فیصل آباد میں اپنے مد د آپ کے تحت پیٹس کلینک بنانے اور پھر اسے کامیابی سے چلانے والی ڈاکٹر سحر عامر کی کہانی ، پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ڈاکٹر وردا گِل کے آئیڈیاز ،امارات میں کام کرنے والی گھوڑوں کے شعبے کی ممتاز نوجوان پاکستانی ایکسپرٹ ڈاکٹر عمارا فیاض اور نوجوان انٹرنیشنل ڈیری مارکیٹنگ ایکسپرٹ ڈاکٹر ملک محمد علی کی کہانیاں وغیرہ۔ اس ٹیلنٹ کو قوم کے سامنے لانے میں ” آئیڈیاز کروڑوں کا”ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔