باردانہ اور محکمہ لائیوسٹاک ۔۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے گزارش

باردانہ اور محکمہ لائیوسٹاک ۔۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے گزارش
کھانے کا وقت تھا ۔۔ پہلے بھی الجھ چکے مگر اس بار تیاری مکمل تھی ۔۔ کچھ لوگ آئے، تین تھے یا چار ۔۔ غصے میں تھے ۔۔ مسئلہ الیکشن کی تیاریاں اور ووٹرز کی ناراضگیاں ۔۔ چاہا کہ باردانہ مل جائے وہ بھی اپنی مرضی سے ۔۔ افسر اُن کے مزاج کا نہیں ۔۔ جواب میں باردانہ دینے کی یقین دہانی توکروائی مگر ایک مقررہ تاریخ کے بعد ۔۔ صاحب صرف پرائرٹی رجسٹر میں نام کے اندراج پر خوش نہیں اورفوراََ باردانہ لینے پر بضد ۔۔ افسر نے مجبوری بتائی ۔۔ جائز طور پر حصے کا باردانہ ملنے کا وعدہ بھی ہوا ۔۔ مگر ابھی چاہئے اور قانونی حق سے زیادہ چاہئے ۔۔ فون کال کے ذریعے ملنے والی دھمکیوں کا بھی جب اثر نہ ہوا تو پھر آپے سے باہر ۔۔ مبینہ طور پر گالی گلوچ، دھمکیاں اور مارنے کی کوشش ۔
مبینہ طور پر یہ واقعہ ضلع ساہیوال میں ہڑپہ کے قریب ایک چک کا ہے جہاں ڈاکٹر حافظ شکور معاویہ ایک سنٹر میں باردانہ کی تقسیم کی ڈیوٹی پر تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے وقتی طور پر ایک کمرے میں کنڈی لگا کر جان تو بچا لی مگر بعد میں خاموش نہ رہے۔ محکمہ لائیوسٹاک کے افسران اکٹھے ہوئے اور ڈپٹی کمشنر کو سیاسی اثر و رسوخ والے ان افراد کے بارے بتایا۔ موقف یہ تھا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے ورنہ احتجاجاََکوئی ڈاکٹر سنٹر پر ڈیو ٹی نہیں کرے گا۔افسران کی اس یکجہتی کا اثر ہوا اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کی ذاتی مداخلت سے ایف آئی آر تھانہ ڈیرہ رحیم ساہیوال میں درج ہو گئی۔
دوسری جانب جڑانوالہ ضلع فیصل آباد میں ڈاکٹرسہیل ندیم کو اینٹی کرپشن والوں نے اٹھایا ہے۔ الزام یہ کہ باردانہ کی تقسیم میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور رشوت لی۔ میں کسی طرح بھی ان ڈاکٹر صاحب کو ڈیفینڈ نہیں کروں گا۔ اگر کسی نے رشوت لی ہے تو اس کی شفاف انکوائری ہونی چاہئے اور اسے سزا ملنی چاہئے۔ مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ معاملے کی انکوائری عام انداز میں نہ ہو۔ غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں کہ رشوت لی بھی گئی یا پھر واقعہ کے پیچھے کچھ اور ہے۔ کیا کسی طرح سے اس ڈاکٹر کو پھنسایا تو نہیں گیا۔
پہلی انویسٹی گیشن محکمہ لائیوسٹاک پنجاب خود کرے ۔ محکمہ کے اعلیٰ افسران پر مشتمل کمیٹی معاملے کی تہہ تک جائے اور جاننے کی کوشش کرے کہ رشوت کا یہ الزام درست ہے یا غلط۔ اگر یہ الزام درست ہے تو پھر معمول کی کارروائی ہوتی رہے۔ لیکن اگر اس بات کا یقین ہو جائے کہ اس کے پیچھے محرکات کچھ اور ہیں اوراس شخص کو پھنسایا جا رہا ہے تو پھر محکمہ سٹینڈ لے۔ اس صورت میں سیکرٹری لائیوسٹا ک پنجاب نسیم صادق ذاتی طور پر اس معاملے کو اعلیٰ حلقوں میں اٹھائیں ۔ یاد رکھیں کہ اگر اس طرح کے واقعات کو نظر انداز کر تے گئے تو افسران کے لئے مسائل بھی پیدا ہوتے رہیں گے اور محکمہ مفت میں بدنام ہوگا۔
پہلے بھی گزارش کر چکا ہوں کہ یہ کام ہے نہیں ان کا ۔ یہ ٹیکنیکل افسران سائنس کے لوگ ہیں۔ محنتی ہیں ، امن کے رنگ والا سفید کوٹ پہن کر ایک مخصوص کام کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ان کو جب الٹے کاموں پر لگائیں گے تو ان سے manage نہیں ہو گا۔ ان سے مسائل پیدا ہوں گے ۔ ایک مہینے کی ڈیوٹی کے بعد اپنے ہسپتالوں میں آ کر یہ جانوروں کا علاج کریں گے یا چوہدریوں، وڈیروں ، اعلیٰ عہدوں پر فائز زمینداروں اور سیاسی جاگیرداروں کی چالاکیوں کو بھگتتے ہوئے کورٹ کچہریوں کے چکر لگائیں گے۔ ان کا جو کام ہے وہ انہیں کرنے دیں۔ متعلقہ محکموں کے پاس اگر افسران کی تعداد کم ہے تو اسے پورا کر لیںیا جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی سافٹ ویئر بنا لیں کہ باردانہ کی تقسیم خودکار طریقے سے شفاف انداز میں ہو جائے مگر اس کے لئے نیت ٹھیک کرنا پڑے گی۔ خیر جو مرضی کریں مگر محکمہ لائیوسٹاک کے شریف ڈاکٹروں سے یہ کام نہ لیں۔ تجربہ کر کے دیکھ لیں، کسی دن محکمہ فوڈ یا ریوینیو کے کسی افسر کو کسی ویٹرنری ہسپتال میں لگا کر دیکھیں۔ چند دن میں کسی نہ کسی جانورکی ٹکر یا دلتی سے زخمی ہو کر ایمرجنسی میں پڑا ہوگا، وہ اس لئے کہ یہ اس کا کام نہیں ۔بڑی سادہ سی بات ہے جس کا کام اسی کو ساجھے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے گزارش ہے آپ کا محکمہ لائیوسٹاک اور آپ کے اس محکمے کے ویٹرنری ڈاکٹر سخت محنت اور نیک نیتی کے ساتھ غریب مویشی پال حضرات کی خدمت کے ذریعے لائیوسٹاک سیکٹرکی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان افسران کی طرف سے گراس روٹ لیول تک پہنچنے والی سروسز میں خلل ڈالنے کا نوٹس لیا جائے ۔ اگر یہ بوریاں تقسیم کریں گے یا رمضان بازاروں میں ڈیوٹیاں دیں گے تو غریب کے جانور کا علاج کون کرے گا؟ محکمہ کے ڈاکٹروں نے آپ کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے کام کر کے دیکھایا ہے۔ اب ضروری ہے کہ ان کودلجمعی کے ساتھ وہ کام کرنے دیا جائے جو وہ کر سکتے ہیں۔ امید ہے کہ آپ اس معاملے کا نوٹس لیں گے کیونکہ ویٹرنری ڈاکٹرز کی جانب سے دی جانے والی سروسز کوآپ کسی طرح سے بھی فضول نہیں سمجھتے۔ گزارش یہ بھی ہے کہ دونوں ڈاکٹروں کے ساتھ ہونے والے واقعات کا بھی نوٹس لیا جائے ، متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اوراسسٹنٹ کمشنرز معاملات سے پوری طرح آگاہ ہیں۔