انڈے کا عالمی دن

World Egg day,Importance of Egg,History of Poultry,

انڈے کا عالمی دن
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لئے وٹامن ڈی انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور انڈا وہ واحد نیچرل فوڈ ہے جس میں یہ قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔ یہ محض خوراک نہیں بلکہ ” غذائی پیکج” ہے جو پروٹین کے ساتھ ساتھ اہم نمکیات اور وٹامنز سے بھر پور ہے۔ اس میں موجود غذائی اجزاء مضبوط پٹھوں، صحت مند دماغ اور بہتر یاداشت کے لئے معاون ہونے کے ساتھ ساتھ جسم میں توانائی پیدا کرنے کے بہترین ذرائع ہیں۔اعلیٰ معیار کی پروٹین جسم کی بڑھوتری اور بنیادی افعال کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ کولین اعصاب اور پٹھوں کے درست کام کرنے ،دماغ کی صحت اور بہتر یاداشت کے لئے اہم ہے۔ فولیٹ خون کے سرخ خلیوں کی پیداوارکے ساتھ ساتھ بہتر نظام تولید کے لئے ضروری ہے۔ آئیوڈین تھائی رائیڈ گلینڈز کے درست کام کرنے میں معاون ہے۔ وٹامن بی 12اور آئر ن خون کی پیداوارمیں بنیادی کردار ادا کرتا ہے ۔ لیوٹین اور زینتھانین بڑھتی عمر سے منسلک آنکھوں کی بیماریوں سے بچاتا ہے۔ سیلینیم کی جسم میں مدافعتی نظام اور تھائی رائیڈ گلینڈ کے کام کرنے کے حوالے سے اہمیت ہے۔ وٹامن اے صحت مند جلد اور مضبوط مدافعتی نظام جبکہ وٹامن ای صحت مند نظام تولید کے لئے مددگار ہے۔
مرغی پالنے کی تاریخ تو ہزاروں سال پرانی ہے جس کا آغاز بنیادی طور پر ” مرغ لڑائی” سے ہوا۔ اسی شوق نے اسے دنیا کے مختلف خطوں میں پھیلادیا۔ آغاز انڈیا کے سرخ جنگل فاؤل سے ہوا جس سے صدیوں کی بریڈنگ کے بعدمختلف خواص کی کئی نسلیں سامنے آتی گئیں۔ پھر ان نسلوں پر کام ہونے لگا اوروقت کے ساتھ ساتھ مسلسل سائنسی تحقیقی کے بعد کمرشل لیئر اور برائلرسامنے گئے۔ برائلر گوشت کے لئے جبکہ لیئر انڈوں کے لئے پالی جاتی ہے۔ انیسویں صدی کے آغاز تک دنیا بھر میں مرغیاں گھریلو ضروریات کے لئے رکھی جاتیں ۔پھر اسی سسٹم سے حاصل ہونے والے انڈے فروخت ہونے لگے۔کثیر تعداد میں کمرشل مقاصد کے لئے جب مرغیاں پالنے کا رواج بڑھنے لگا توزیادہ شرح اموات اور کم پیداوار جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے حل کے لئے تحقیق شیڈز کی جانب لے گئے۔ شیڈز میں تبدیلیاں ہوتی رہیں اور آخر کار Cage Systemآگیا۔ کمرشل فارمنگ تیزی سے بڑھتی گئی اور آج کنٹرول شیڈمیں پلنے والی مرغیاں خاص درجہ حرارت پرخودکار طریقے سے خوراک اور پانی حاصل کرتی ہیں اور خودکارسسٹم سے ان کے انڈے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں انڈے والی مرغی (لیئر)کی فارمنگ بھی ایک انڈسٹری کی شکل میں موجود ہے جہاں دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال ہوتا ہے۔
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال اکتوبر کے دوسرے جمعہ کے دن انڈے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں انڈے کے استعمال کو بڑھانا اور اس کی غذائی اہمیت کے بارے آگاہ کرنا ہے ۔ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ انسانی خوراک کے مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انڈا ایک ایسی خوراک ہے جو کم قیمت میں بہتر معیار کی انسانی غذائی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ہر عمر کے افراد کے لئے بہترین ہے مگر بچوں میں اس کا استعمال بہتر نشوونماکے لیے معاون ثابت ہو سکتا ہے ۔
پاکستان میں انڈوں کا استعمال ہماری روزمرہ کی خوراک کا حصہ بھی ہے اور روایت بھی مگر نوجوان نسل اور بچوں میں ناشتے سے دوری اور پھر انڈے سے دوری جیسی عادات مستقبل میں مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔ انڈے کے استعمال کو بڑھانے کا بہترین طریقہ سکول کے بچوں میں اس بار ے آگاہی ہے ۔ اس حوالے سے یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز اور پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے اشتراک سے چلنے والے ایک شاندار منصوبے کی مثال موجود ہے۔ اس منصوبے کے تحت پتوکی کا ایک گورنمنٹ سکول منتخب کیا گیا ہے جہاں روزانہ ہر بچے کو ایک انڈا اور ایک ڈرم سٹک دی جاتی ہے جو وہ سکول ہی میں کھا لیتے ہیں۔ اس کے لئے ہر بچے کو اپنے برتن دیے گئے ہیں جن کی حفاظت وہ خود کرتا ہے۔ بچوں کے ہاتھ دھونے کے لئے سکول میں صابن بھی مہیا کئے گئے ہیں۔ اس منصوبے سے جہاں بچوں کی غذائی ضروریات پور ی ہونے سے صحت کے مسائل میں کمی آئی ہے وہاں سکول میں بچوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے اور حاضری بھی بہت بہتر ہو گئی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اس منصوبے کو بطور ماڈل لیتے ہوئے کارپوریٹ سیکٹر اور فلاحی اداروں کی معاونت سے تمام سرکاری سکولوں میں اس طرح کی سرگرمی شروع کرے۔ اگر ہفتے میں ایک دفعہ بھی بچوں میں انڈے تقسیم کر دیے جائیں تو بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے۔