انٹر نیشنل پولٹری ایکسپو اور آئیڈیا کروڑوں کا 

International Poultry Expo,Poultry Myths,Idea croron ka

انٹر نیشنل پولٹری ایکسپو اور آئیڈیا کروڑوں کا 
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
سالانہ انٹرنیشنل پولٹری ایکسپو، گزشتہ کئی سالوں سے جاری رہنے والی روایت۔۔ آج ایکسپو سنٹر لاہور میں آغاز ہو چکا ۔۔ 24,25-26 اگست، تین دن جاری رہے گی۔ بین الاقوامی معیار کی نمائش ہے یہ جس کا شمار پاکستان کی ان چند بڑی نمائشوں میں ہوتا ہے جو صرف نام ہی کی انٹرنیشنل نہیں ۔یہاں غیر ملکی ماہرین کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک کے سرمایہ کاروں اورکاروباری اداروں کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے۔ دوسری جانب پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کی میزبانی میں ہونے والی اس ایکسپو میں پاکستان بھر سے پولٹری انڈسٹری کے سٹیک ہالڈرز بھی کثیر تعداد میں شریک ہوتے ہیں ۔
بہترین جنیٹک پوٹینشل کے باعث تیزی سے بڑھوتری پاکر زیادہ انڈے اور گوشت دینے والی مرغی ۔۔ سٹیٹ آف دی آرٹ پلانٹس سے بین الاقوامی معیار پر تیارکردہ فیڈ کھا تے ہوئے ۔۔ انتہائی سخت بائیوسیکیورٹی کے ساتھ environmentally Controlled Sheds میں تجربہ کارکوالیفائیڈ ایکسپرٹس کی زیرِ نگرانی ۔۔ جدید ترین فارمنگ کے پراسیس سے گزرنے کے بعد ہمارے دستر خوان کا حصہ بنتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے پولٹری مصنوعات بارے طرح طرح کے شبہات پیدا کر کے لوگوں کو متنفر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ افسوس کہ اس طرح کے شبہات پڑھے لکھے طبقے میں پیدا کئے جاتے ہیں جبکہ شکوک پیدا کرنے والے بھی اعلیٰ ترین شعبہ جات سے تعلق رکھتے ہیں جودوسرا موقف جانے بغیر سنی سنائی باتوں پر یقین کرتے ہوئے فیصلے صادر فرما دیتے ہیں۔ میڈیکل پروفیشنلز، نیوٹریشنسٹس، فوڈ سائنٹسٹس، انجینئرز، اساتذہ، صحافیوں،تجزیہ کاروں، قانون دانوں ، دانشوروں ، فنکاروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اشخاص سے میں گزارش کروں گا کہ وقت نکال کر اس ایکسپو میں ضرور تشریف لے جائیں اور ذاتی طور پر دیکھیں کہ اس انڈسٹری کا معیار اصل میں ہے کیا ۔ وہاں لگے سٹالز سے معلومات لیں،ماہرین سے سوال پوچھیں، ان سے بحث کریں اور کھل کر بات کرتے ہوئے اپنے شبہات دور کریں۔
اسی ایکسپو سنٹر میں چند روز قبل” آئیڈیا کروڑوں کا” کے عنوان سے بھی ایک نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ آئیڈیا کروڑوں کا بنیادی طور پر NEO ٹیلی ویژن کا ایک شو ہے جو بذاتِ خود کروڑوں نہیں بلکہ اربوں کا آئیڈیا ہے ۔ ریٹنگ کی اس جنگ میں کسی ٹی وی چینل کاعام لوگوں خصوصاََ نوجوانوں کے لئے ایسا پروگرام ترتیب دینا قابل ستائش ہے۔ بنیادی طور پر اس پروگرام میں پاکستان کا کوئی بھی شخص اپنا آئیڈیا پیش کر سکتا ہے۔ یہ آئیڈیا کسی مسئلے کے حل ،کسی کاروبار، کسی ٹیکنالوجی، کسی نئی ایجاد وغیرہ کے متعلق ہو سکتا ہے۔ پروگرام میں بیٹھے ماہرین کو اگر آپ قائل کر لیں کہ آپ کا آئیڈیا قابلِ عمل ہے تو سرمایہ کاری میں مدد کے ساتھ ساتھ انعام اور تکنیکی رہنمائی بھی مہیا کی جاتی ہے۔ اس نمائش میں لگے سٹالز پر بڑی تعداد میں نوجوان اپنے اپنے آئیڈیاز کے ساتھ موجود تھے۔
آئیڈیا کی بنیاد مسئلہ ہوتاہے اور پھر اسی آئیڈیا سے مسئلے کا حل نکلتا ہے۔ ہمیں رو ز مرہ کی زندگی میں بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان مسائل کے حل کے لئے بے شمار خیالات جنم لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر لوڈ شیڈنگ ایک بڑا مسئلہ ہے جس کے لئے پہلے جنریٹر، پھر UPS اور پھر inverter وغیرہ جیسے آئیڈیاز سامنے آئے اور ان سے مسئلے کے حل کی جانب پیش رفت ہوتی رہی۔ مزید وضاحت کے لئے ایکسپو میں پیش کئے جانے والے آئیڈیاز میں سے ایک کا ذکر کئے دیتا ہوں۔ گاڑی پارکنگ میں کھڑی گرم ہو جاتی ہے۔ نوجوان نے شیشوں پر سولر پینل لگا کر ایک کولنگ سسٹم سے جوڑ دیا ۔ اب گاڑی نہ صرف پارکنگ بلکہ چلتے ہوئے بھی سولر پاور سے ٹھنڈی رہے گی۔
نوجوانوں کو چاہئے کہ حالات کا رونا رونے کی بجائے مسائل کی نشاندہی کریں، پھر ان کے حل کے لئے سوچیں، پھر اس سوچ کو قابلِ عمل بنانے کے لئے خوب محنت کریں۔ جب آئیڈیا presentable ہو جائے تو نیو ٹی وی کی ویب سائیٹ وغیرہ سے معلومات لے کرپروگرام کا حصہ بنیں۔ آگے بڑھیں،غور کریں اور محنت کریں ۔۔ پھل ضرور ملتا ہے۔ بابا نجمی کا کیا خوبصورت شعر ہے
بے ہمتے نیں جیہڑے بیہہ کے شکوہ کرن مقدراں دا
اُگن والے اُگ پیندے نیں سینہ پاڑ کے پتھراں دا
(ان میں ہمت نہیں ہوتی جو بیٹھ کر مقدر کا شکوہ کرتے رہتے ہیں، اُگنے والے پتھر پھاڑ کر بھی اُگ جاتے ہیں)