پی وی ایم سی کا رجسٹریشن پر پابندی لگانے کا امچور فیصلہ

Immature decision of PVMC.Clash between UAF and PVMC,PVMC Registration

 

PVMC کا رجسٹریشن پر پابندی لگانے کا Immature فیصلہ
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
تھوڑی دیر قبل خبر نظر سے گزری کہ پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل (PVMC)نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ایک ویٹرنری گریجویٹ کو لائسنس دینے سے انکار کر دیا ہے۔ وجہ کہ اس ادارے کے اساتذہ نے کونسل سے رجسٹریشن نہیں کروائی جس کے نتیجے میں کونسل نے اس ادارے کے گریجویٹس کی رجسٹریشن پر پابندی لگا دی ہے جبکہ اس سلسلے میں تحریری طور پر ادارے کے سربراہ پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔
عجیب ضد ہے اور اس ضد میں غریب کا بچہ پِس رہا ہے اور نقصان ویٹرنری پروفیشن کو ہو رہا ہے ۔ عجیب منطق ہے کہ ادارے کے مبینہ جرم کی سزا اس قوم کے بچوں کو دی جارہی ہے۔ اگر گریجویٹس کی رجسٹریشن نہیں ہو گی تو اس سے ادارے کو کیا فرق پڑے گا ؟ اساتذہ کو تنخواہیں ملتی رہیں گی، داخلے ہوتے رہیں اور لوگ پاس ہوکر فیلڈ میں آتے رہیں گا۔ اگر کونسل اسے ایسا اہم ترین مسئلہ سمجھتی ہے کہ اس سے کونسل اور ویٹرنری پروفیشن کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے تو اس کی سزا ادارے کے ان اساتذہ کو دے جو رجسٹریشن نہیں کروا رہے ۔ ہائر ایجوکیشن کے ذریعے ان کے خلاف کارروائی کرے یا پھر عدالت کے ذریعے قانونی چارہ جوئی کر لے یا کسی اور متعلقہ فورم کا سہارا لے کر براہِ راست ان سے نمٹے۔ ہاں اگرایسا کوئی ایکشن لینے کا اختیار نہیں یا اس کی اہلیت نہیں تو پھر کچھ عرصہ کے لئے خاموشی اختیار کر لے ۔ یہ اتنا اہم مسئلہ تو ہے نہیں کہ نوجوانوں کے متقبل کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا جائے،ہاں ضد اور انا کا مسئلہ ضرور بن چکا ہے۔
دوسری جانب فیکلٹی ممبران کی بھی عجیب ضد ہے کہ اگر ایک انوکھے لاڈلے نے کسی چیز کی ضد کر ہی لی ہے تو بدلے میں پوری کردیں اسے۔ اپنے منصب کو سمجھتے ہوئے بڑے پن کا مظاہرہ کریں اور کروا لیں رجسٹریشن ۔ بطور استاد الجھنے کی بجائے مسئلے کو معاملہ فہمی سے حل کرنا فیکلٹی ممبرز کی ذمہ داری ہے ۔اپنے بچوں کے لئے ہی ضد چھوڑ دیں۔
ویسے مجھے کونسل کے اس انتہائی اقدام کی سمجھ نہیں آئی۔ میرے نزدیک یہ نہایت immature فیصلہ ہے۔ یاد رکھیں اس سارے معاملے میں burden of responsiblity کونسل پر ہے کہ اس کا کام ویٹرنری پروفیشن کو ریگولیٹ کرنا ہے۔ اگر پاکستان میں غیر رجسٹرڈ اور بے روزگار ویٹرنری ڈاکٹرز کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ دار پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل ہے نہ کہ کوئی تعلیمی ادارہ۔ مگر بد قسمتی سے کونسل نے کبھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہی نہیں کیا اور اس جانب توجہ ہی نہیں دی۔ جہاں کہیں ریگولیشن کے لئے کوئی ایکشن لیا بھی تو گہرائی میں جانے سے علم یہی ہوا کہ ” بڑے اندھیرے ہیں”۔
پاکستان میں اندھا دھند ویٹرنری ڈاکٹرز بن رہے ہیں کہ ضرورت ہے نہیں۔ نتیجے میں نوکریاں کم اور امیدوار زیادہ، پنجاب کی نسبت باقی صوبوں میں حالات بدتر ہیں۔ ویٹرنری ڈاکٹر بارہ بارہ اور پندرہ پندرہ ہزار کی نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں۔ ویٹرنری پروفیشن میں بے روزگاری حد سے بڑھ رہی ہے۔ اس بارے کونسل کی نظر نہیں پڑی۔ جتنے ویٹرنری ڈاکٹر پاکستان میں موجود ہیں ان سے کئی گنا بڑی تعداد جعلی ویٹرنری ڈاکٹر زاور پیراویٹس کی ہے جو فیلڈ میں بطور ویٹرنری ڈاکٹر پریکٹس کر رہے ہیں، اسے کنٹرول کرنے کا کونسل کے پاس کوئی نظام ہے ہی نہیں۔ایک طرف ویٹرنری گریجویٹس کی تعداد حد سے زیاد ہ ہے اور دوسری جانب اسی کے parallel بہت سی ڈگریاں چل رہی ہیں۔نہ صرف ویٹرنری پروفیشنل بلکہ پیراویٹس کے بھی ایک سے زائد کورسز ہیں اور پھر ایک ہی طرح کے کورسز کی نت نئی اقسام ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ان گنت ایسے مسائل ہیں جن کو حل کرنا کونسل کی بنیادی ذمہ داری ہے مگر ان اہم مسائل سے آنکھیں چرا کے قانون کی آڑ میں الجھتی نظر آتی پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل ہر طرف ۔ یاد رکھیں کہ اس کی ذمہ داری ایک دو افسروں اور مٹھی بھر کلرکوں کی ٹیم کے ذریعے فارم پر اسیس کرکے لوگوں کے ہاتھوں میں ایک کاغذ کا ٹکرا تھما دینے سے بہت آگے ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کی رجسٹریشن کی اہمیت صرف اتنی ہے کہ یہ کاغذ کا ٹکرا کسی ویٹرنری پروفیشنل کو صرف سرکاری نوکری کے حصول کے لئے درکار ہے یا پھر گنتی کے چند ان پرائیویٹ اداروں میں نوکری کے لئے اس کی ضرورت پڑتی ہے جہاں کونسل کے بڑوں کے ہم خیال یار دوست موجود ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سرکاری نوکریوں کی تعداد ویٹرنری گریجویٹس کی پاسنگ آؤٹ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ یعنی سینکڑوں کی تعداد میں ہرسال فارغ ہونے والے ویٹرنری ڈاکٹرز میں سے صرف چنددرجن اس کاغذ کے ٹکرے کے محتاج ہیں۔ کونسل کو اس جانب توجہ دینا ہو گی کہ اپنی رجسٹریشن کی وقعت پیدا کرے اور اس کے لئے اسے اپنی وقعت بنانی پڑے گی ۔ اپنی وقعت بنانے کے لئے ویٹرنری پروفیشن کے حقیقی مسائل پر توجہ دینا ہو گی اور اپنی اصل ذمہ داری کو سمجھنا ہو گا۔ اگر کونسل نے اس جانب توجہ نہ دی تو وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ویٹرنری ڈاکٹر اس سے مزید متنفر ہوتے جائیں گے اور ایک وقت آئے گا کہ ویٹرنری پروفیشنلز کے لئے یہ irrelavent ہو جائے گی۔
فرض کریں اگر آج پاکستان کے سارے ویٹرنری ڈاکٹر اس سوچ کو اختیار کر لیں کہ ہم نے سرکاری نوکری نہیں کرنی۔۔ پھر اس کونسل کا کیا کام ؟؟؟؟؟ پہلے گزارش کر دی کہ پرائیویٹ پریکٹس کو ریگولیٹ کرنے کے لئے نہ اس کے پاس کوئی نظام ہے اور نہ ہی اہلیت۔
ویسے یہ ساری باتیں تو حقائق سے نظریں چرا تے ہوئے کر دیں میں نے۔ مسئلے کی اگر جڑ تک پہنچنا ہے تو میرا گزشتہ کالم پڑھ لیں اس موضوع پر، اگر پڑھ چکے ہیں تو دوبارہ پڑھ لیں ۔۔ مکمل سمجھ آ جائے گی اور مسئلے کا حل بھی مل جائے گا۔ وہ ” اداروں سے چمٹے رہنے کی خواہش ، اداروں کی تباہی کے ساتھ ساتھ مافیا کی پیداوار کا سبب بنتی ہے ۔۔۔۔۔” والا کالم۔