پی وی ایم سی کا اشتہار ۔۔ چندنا پسندیدہ گزارشات 

PVMC Chances ,Issues of PVMC,Registration of Vets

PVMC کا اشتہار ۔۔ چندنا پسندیدہ گزارشات 
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل نے اپنے ایک اشتہار کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ غیر منظور شدہ ویٹرنری تعلیمی اداروں کے گریجویٹس کے لئے رجسٹریشن کا امتحان بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں منعقد ہو گاجس کی تاریخ کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔ اشتہار کے مطابق وہ گریجویٹس جو سابقہ امتحانوں میں ناکامی یا جزوی ناکامی کے باعث رجسٹریشن کے اہل نہیں وہ بھی دوبارہ امتحان دے سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے طلباء و طالبات جو امتحان میں کبھی شامل نہیں ہوئے وہ بھی اپنے ادارے کے ذریعے اس امتحان کا حصہ بن سکتے ہیں۔
پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کا یہ اچھا اقدام ہے کہ ا س نے امتحان کے دوبارہ انعقاد کا اعلان کر کے بہت سے گریجویٹس کو کونسل سے رجسٹر ہونے کا موقع دیا ہے۔ اس اچھے اعلان کے ساتھ ساتھ اشتہار میں ایک نئی چیز بھی سامنے آئی ہے۔ اشتہار کہتا ہے کہ ایسے طلباء و طالبات جو پہلے تین مرتبہ امتحان دینے کے بعد فیل ہو چکے ہیں وہ اب اس امتحان میں شامل نہیں ہو سکتے۔
کونسل کے اس سخت فیصلے نے 70 سے زائد طلباء و طالبات کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔ ان 70 طلباء وطالبات میں اکثریت ایسے افراد کی ہی جو صرف ایک آدھ مضمون میں فیل ہیں۔ اگر انہیں یہ ایک خاص مضمون میں کامیابی مل جائے تو غیر منظور شدہ سے منظور شدہ کی فہرست میں شامل سکتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس اگر یہ نیا اصول ان پر لاگو کیا گیا تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نااہل ہو جائیں گے۔ نااہل کہ اس کے بعد وہ پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کی رجسٹریشن حاصل نہیں کر سکتے۔ اس صورت میں ان طلباء و طالبات کی ڈگریوں کی وقعت کم ہو جائے گی۔ وہ نہ تو کسی سرکاری نوکری کے اہل ہوں گے اور بہت سے ایسے پرائیویٹ اداروں میں بھی ملازمت نہیں کر پائیں گے جہاں رجسٹرڈ ویٹس کو ترجیح دی جاتی ہے۔
پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کو چاہئے کہ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے تاکہ ان ستر سے زائد طلباء و طالبات کا مستقبل بچایا جا سکے۔ طلباء و طالبات کا اس سلسلے میں موقف ہے کہ چونکہ اس سے پہلے کونسل نے تین چانسز کا ذکر نہیں کیا اب اچانک سے یہ اعلان کر کے ہمیں امتحان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع کے مطابق اگر ان کی داد رسی نہ ہوئی تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
کتنے مشکل حالات میں ان بچوں نے اپنی ڈگریاں مکمل کی ہوں گی ۔ اس باپ پر کیا گزرتی ہو گی جس نے اپنی کمائی کا ایک حصہ اپنے بچوں کی پروفیشنل ڈگری پر لگا دیا اور ڈگری لینے کا بات علم ہوا کہ یہ کاغذ کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں۔ میں نے ہمیشہ سے گزارش کی ہے کہ اس سارے معاملے میں سب کے سب قصور وار ہیں سوائے ان بچوں کے جنہوں نے ان اداروں میں داخلہ لیا۔ اب کوئی درمیان کا راستہ نکال کر اس معاملے کو ختم کر دینا چاہئے۔
ویسے عجیب بات ہے نا کہ اس ملک میں سارے اصول غریب پر ہی لاگو ہوتے ہیں۔PVMCکی اصول پسندی اس وقت کہاں دفن ہو جاتی ہے جب اس سے رجسٹرڈ ایک پرائیویٹ ویٹرنری کالج کی بات کی جاتی ہے۔ یہ بات عام ہے کہ مبینہ طور پر کونسل کے اعلیٰ عہدیداران کا براہِ راست تعلق اس پرائیویٹ ویٹرنری کالج سے ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر ایسے عہدیداران کو کونسل سے الگ ہو کر اپنا کالج چلانا چاہئے، چاہے اس میں کوئی قانونی سقم نہ ہی ہو ۔۔ یہ میرا برادرانہ مشورہ ہے کہ طاقت اور خاص طور پر عزت اس سے بڑھے گی، گھٹے گی نہیں۔ اس کے برعکس اگر یہ محض افواہیں اور فضول باتیں ہیں تو پھر کونسل کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے کہ پاکستان کے کسی بھی پرائیویٹ ویٹرنری کالج سے ہمارے کسی بھی عہدیدار کا کوئی تعلق نہیں۔ یا دوسری جانب کونسل ڈٹ کر یہ اعلان کر دے کہ ہاں جی، ہے ہمارے کسی عہدیدار کا تعلق کسی پرائیویٹ ویٹرنری کالج سے، اس میں برا ہی کیا ہے ۔
وضاحت اہم ہے تاکہ یہ معاملہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن ہو جائے اور دوبارہ اس موضوع پر کوئی بات نہ ہو ۔ ایسا کرنا بہت ضروری ہے کہ اس طرح کے شکوک و شبہات کے باعث قومی اداروں سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے اور لوگ متنفر ہو نے لگتے ہیں۔ پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کسی ایک شخص یا کسی خاص گروپ کا ادارہ نہیں بلکہ ہم سب کا ادارہ ہے۔ اس کی ساکھ کو برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے خصوصاََ ان کی جن کا شمار اس ادارے کے معماروں میں ہوتا ہے