پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی دودھ بارے کمپین اور حقائق

Pakistan Medical Association Milk Campaign

مضامینِ نو 
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی دودھ بارے کمپین اور حقائق
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک کمپین شروع کی گئی ہے ۔۔ ٹارگٹ کیا جا رہا ہے کھلے دودھ کو ،اور پروموٹ کیا جا رہا ہے ڈبہ بند دودھ۔ معذرت کے ساتھ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے یہ قدم حقائق کو سمجھے بغیر اٹھایا ہے ۔ ایسوسی ایشن کو اس بارے سٹڈی کرنی چاہئے اور محکمہ لائیوسٹاک اور یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور سے بریفنگ لینی چاہئے۔
پاکستان میں دودھ صرف عام لوگوں کی خوراک کا حصہ ہی نہیں بلکہ اس کا استعمال اس خطے کی روایت بھی ہے۔ صرف استعمال ہی روایت نہیں بلکہ اس کی پیداوار بھی ہماری دیہی روایات کا بنیادی اور اہم حصہ ہے۔ پاکستان میں دودھ کی کل پیداوار کا نوے فیصد سے زائد حصہ اس سسٹم سے حاصل ہوتا ہے جہاں روایتی طریقوں سے جانوروں کو پالا جاتا ہے او راس نوے فیصد میں بھی اکثریت ان فارمرز کی ہے جن کے پاس دس سے کم جانور ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں جدید سہولیات پر مشتمل کارپوریٹ فارمز بھی موجود ہیں مگر ان کی Contribution مجموعی دودھ کی پیداوار میں روایتی فارمنگ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔
پاکستان میں روزانہ کی بنیادوں پر جانور کی چوائی ہوتی ہے اور روز کے روز کھلا تازہ دودھ دکانوں کے ذریعے یا دودھی کے ذریعے لوگوں تک پہنچ جاتا ہے جو سستا بھی ہوتا ہے، اصلی بھی ہوتا ہے اور قدرتی بھی۔ ہاں اس میں کوالٹی کے ایشوز ہو سکتے ہیں مگر اس کا حل یہ نہیں کہ اتنے بڑے پروڈکشن سسٹم کو بند کردیا جائے محض اس لئے کہ کارپوریٹ سیکٹر کو سپیس دی جاسکے ۔ اس کا حل یہ ہے کہ ادارے کام کریں ، اس کو مانیٹر کریں اور اس پروڈکشن اور سپلائی سسٹم میں کوالٹی کے ایشوز کو حل کریں۔
ایسوسی ایشن کا اشتہار یہ کہتا ہے کہ ڈبے والی کمپنیوں میں جانوروں کی خوراک کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔ گزارش یہ ہے کہ ان ڈبے والی کمپنیوں کے اپنے کتنے فارم ہیں؟ اور کیا یہ اپنے فارموں کی پیداوار سے ملکی ضروریات کو پورا کر سکتی ہیں؟ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کو شاید اس بات کا علم نہیں کہ ڈبہ بند دودھ والی کمپنیوں نے اگراصلی دودھ پیک کرنا ہو تو انہیں دودھ آسمان سے نہیں لانا پڑے گا بلکہ انہی روایتی فارمرز سے ہی حاصل کرنا پڑے گا۔
لیکن یہاں سب سے اہم سوال یہ بھی ہے کہ جو چیز ڈبے میں بند ہوتی ہے کیا وہ ہمارے جانوروں سے حاصل ہونے والا ہی دودھ ہوتا ہے ؟ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کو ڈبے والا دودھ بیچنے والوں سے یہ پوچھنا چاہئے کہ جو دودھ وہ ڈبے میں بند کرتے ہیں وہ کہاں سے آتا ہے؟ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین چار سالوں میں پاکستان میں خشک دودھ کی درآمد دگنی ہو گئی ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کو اس بات کا بھی پتہ لگانا چاہئے کہ یہ خشک دودھ کون منگواتا ہے اور یہ کہاں کہاں استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کو ایک اشتہار اس خشک دودھ کے خلاف بھی جاری کر نا چاہئے ۔
یاد رکھیں کہ جانور چاہے کسی جدید فارم پر ہو یا کسی غریب فارمر کے گھر کے ویڑے میں بندھا ہو، اس کی بنیادی خوراک چارہ، توڑی،ونڈا کھل وغیرہ ہے۔ یہ آج سے نہیں بلکہ عرصہ دراز سے ہے کہ فارمرز چارہ اپنا اگا تے ہیں یاپھر منڈی سے خرید لیتے ہیں۔ مختلف جگہوں پر روایتی طریقوں سے چارے کو سٹور بھی کیا جاتا ہے جبکہ اسے سٹور کرنے کے جدید قدرتی طریقے بھی ہیں جو کمرشل فارموں پر استعمال ہوتے ہیں۔
فارمر کی ہمیشہ کوشش یہی ہوتی ہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق جانور کو اچھی خوراک دے اور اس کے لئے وہ کوشش بھی کرتا ہے۔ خوراک میں مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی جگہ سے خراب ونڈا، کھل وغیرہ خریدا جائے۔ اس میں فارمر کا قصور نہیں بلکہ حکومت کو چاہئے کہ اس کو کنٹرول کرے ؛اس پر قانون موجود ہے۔ اسی طرح جانوروں میں دودھ بڑھانے کے لئے جو ٹیکے استعمال ہوتے تھے ان پر بھی پابندی لگ چکی ہے۔ اب متعلقہ اداروں کا یہ کام ہے کہ اس پابندی کو یقینی بنائیں۔
اگر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کو پاکستان کے لوگوں کی صحت کا اتنا ہی خیا ل ہے تو دو کام کرے ۔ پہلا یہ کہ ڈبے والے دودھ کی کمپنیوں کے پراڈکشن آڈٹ کی بات کی جائے ۔ مثال کے طور پر اگر ایک کمپنی روزانہ دس لاکھ لیٹر دودھ سیل کرتی ہے ڈبے کی شکل میں، تووہ یہ بتائے یہ دس لاکھ لٹر دودھ کہاں سے آیا ۔ دوسرا کام یہ کرے کہ پاکستان میں جو غیر معیاری خشک دودھ امپورٹ یا سمگل ہو کر مختلف ذرائع سے آتا ہے اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرے یا اس پر ڈیوٹی بڑھانے کے لئے آواز بلند کرے ۔ لیکن معذرت کے ساتھ ان عناصر کا آلہ کار نہ بنے جو پاکستان کے ڈیری پروڈکشن سسٹم کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور پھر باہر سے خشک دودھ منگوا کر اسے پانی میں گھول کر قوم کو پلانے اور اپنے خزانے بھرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
پاکستان میں بہت تھوڑی تعداد ہے اس طبقے کی جو مالی طور پر اس قابل ہے کہ ڈبے والے دودھ کی قیمت ادا کر سکے۔ جب آپ کے پاس تازہ ، قدرتی اور سستا دودھ دستیاب ہے اور اس کی ترسیل کا روایتی نیٹ ورک بھی موجود ہے تو پھر کیوں غریب عوام پر بوجھ ڈالتے ہیں کہ وہ پیکنگ کی قیمت بھی ادا کریں۔ آپ اسی سسٹم میں بہتری کی بات کریں اور اس کے لئے آگاہی مہم چلائیں۔ لیکن خدا کے لئے اس قوم کو اصلی اور قدرتی دودھ پینے دیں ، مکمل طور پر اسے جعلی یا مصنوعی دودھ پر نہ لائیں۔
پیمرا کو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے اس اشتہار کو فوراََ بند کرنا چاہئے جبکہ کمپیٹشن کمشن آف پاکستان کو بھی اس بات کا نوٹس لینا چاہئے کہ ایک خاص پروڈکٹ کی پروموشن کے لئے فری مارکیٹ سسٹم پر کس طرح اثر انداز ہوا جا رہا ہے۔