وی ڈی اے کے الیکشن یا مافیا کی سپورٹ۔۔۔۔؟

Elections of Veterinary Doctors Association

مضامینِ نو
وی ڈی اے کے الیکشن یا مافیا کی سپورٹ۔۔۔۔؟
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
کل کے کالم کا ایک اثر ضرور ہوا اور وہ یہ کہ ویٹرنری ڈاکٹرز ایسوسی ایشن حرکت میں آ گئی ۔ آج صبح چند الفاظ پر مشتمل ایک پیغام نظر سے گزرا بمطابق جس کے ،وی ڈی اے کے انتخابات ہوں گے۔ سرآپ ایک نہیں، دس تنظیمیں بنائیں اور ان کے چاہے ہر ہفتے بعد الیکشن کروائیں یا پھر کبھی نہ کروائیں۔ لیکن یاد رکھیں یہ گڈے گڈی کا کھیل نہیں، سنجیدہ موضوع ہے۔ بات قانونی ہے اور اس کا حل بھی قانون کے دائرہ میں رہ کر ہی نکلے گا۔
گزارش ہے کہ اس حقیقت کو نہ بھولیں کہ پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کے انتخابات کسی قانونی دائرے میں ہوتے ہیں اور اس قانون میں قانونی حیثیت پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن PVMAکی ہے۔ اب یا تو آپ قانون بدلوا لیں اور اس قانون میں پی وی ایم اے کی جگہ وی ڈی اے شامل کروا لیں۔ اب ایسا الیکشن کروانے یا سوشل میڈیا پر سٹیٹس دینے سے نہیں ہو گا ۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ افرادی قوت کے بل بوتے پر کر لیں گے تو معذرت کے ساتھ یہ بھی غلط فہمی ہے۔ اس کے لئے تو قانونی اور آئینی جنگ لڑنا پڑے گی۔ یا پھر دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پی وی ایم اے میں تبدیلی لے کر آئیں۔
ابھی ایک مومینٹم بنا ہے مافیا کے خلاف اور ہر طرف اس بارے گفتگو ہو رہی ہے ۔ جب اس مافیا کے خلاف آواز اٹھنے لگی ہے تو یہ نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے الیکشن کا۔ کہیں اسی مافیا کے لوگ آپ کی صفوں میں تو موجود نہیں؟ اوریہ تو نہیں آپ لوگوں سے ایسے فیصلے کرواتے تاکہ اس موقع پرلوگوں کی توجہ پی وی ایم سی کے حالیہ الیکشن سے ہٹائی جائے اور مافیا کے خلاف بننے والے مومینٹم کو بریک کیا جائے؟ سر آپ کو تو مافیا کے خلاف آواز اٹھانے کا کہا تھا،نادانستہ یا دانستہ طور پر آپ نے مافیا کی ہی مدد کرنا شروع کر دی۔ میں تو توقع کر رہا تھاکہ اس الیکشن کے خلاف کوئی پریس ریلیز سامنے آئے گی یا ہنگامی اجلاس طلب ہو گا لیکن یہاں Attention Divert کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
یہ تیس سال کاInertia ہے، ایسے نہیں ٹوٹے گا۔ اگر واقعی ہی آپ لیڈر ہیں تو اٹھائیں کاغذ، لکھوائیں پٹیشن ، ساتھ میں نتھی کریں میرے کالم ، مجھے بھی بنائیں فریق، جائیں کسی تگڑے وکیل کے پاس اور کریں دائر سپریم کورٹ آف پاکستان میں۔ استدعا کریں عدالت عالیہ سے کہ پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن کے انتخابات کو کالعد م قرار دیا جائے۔ چھ ماہ کے لئے عدالتی نگرانی میں ایک عبوری کونسل بنائی جائے۔ اس دوران عدالتی نگرانی ہی میں پاکستان بھر سے پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن کے شفاف اور اصل انتخابات کروائے جائیں جس میں پاکستان کے ہر ویٹرنری ڈاکٹر کو موقع ملے ووٹ کاسٹ کرنے کا، چاہے وہ PVMC سے رجسٹرڈ ہو یا نہ۔ آپ لوگ بھی اس الیکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اسی دوران قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کے ایکٹ میں ضروری ترامیم بھی کروائیں جن میں خاص پر اس بات کو شامل کریں کہ کوئی بھی شخص ایک دفعہ سے زیادہ کونسل کا ممبر نہ بن سکے۔ اسی طرح پی وی ایم اے کو بھی SECP سے رجسٹر کروائیں تاکہ اس کا ریکارڈ حکومت کے پاس باقاعدگی سے جمع ہوتا رہے۔ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ کوئی شخص ایک سے زیادہ دفعہ ایسوسی ایشن کا عہدیدار نہ بن سکے تا کہ مستقبل میں کوئی مافیا نہ بنے۔ پی وی ایم اے کے فریش انتخابات کے بعد پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کے بھی نئے انتخابات کروائیں جس کے نتیجے میں بننے والی کونسل عبوری کونسل کی جگہ لے۔
مجھے امید ہے کہ آپ نہیں جائیں گے۔۔ کورٹ میں جانا دور، ابھی تک تو آپ لوگ اس بارے آن دی ریکارڈ بات ہی نہیں کر سکے۔ چلیں کوئی بات نہیں، آپ نہیں جائیں گے تو کوئی اور چلا جائے گا۔ آج نہیں جائے گا تو چند ماہ بعد چلا جائے گا۔ کوئی بھی نہیں جائے گا تو ادارے خود اس معاملے کو کبھی نہ کبھی ٹیک اپ کر لیں گے۔ حال ہی میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر والا معاملہ دیکھ لیں، وہ نیب کے پاس ہیں۔
اگر لیڈر ہیں تو پھر کوئی مضبوط فیصلہ کریں یا مؤثر قدم اٹھائیں، ورنہ معذرت کے ساتھ وقت ضائع نہ کریں۔ جہاں تک رہا میرا سوال، تو سر میرا کام لکھنا ہے اور وہ میں لکھ رہا ہوں، اگر کسی جگہ کوئی کسر رہ جائے تو ضرورگائیڈ کریے گا۔
ہاں ایک بات کرتا چلوں، خالصتاََ نوجوان ویٹرنری ڈاکٹروں کی تنظیم کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس بارے گزشتہ دو سالوں سے بات کر رہا ہوں۔ پرانے کالم اٹھا کر دیکھ لیں، ویب سائیٹ پر موجود ہیں۔
آخر میں ایک شعر ان نئی تنظیموں اور ان کے لیڈروں کے لئے ۔۔
اِدھرُ ادھر کی نہ بات کر ، یہ بتا قافلہ کیوں لٹا؟ 
مجھے راہزنوں سے گِلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے