یہ منتخب کرنے والے اور پی وی ایم سی الیکشن کا طریقہ کار  

Election Process of Pakistan Veterinary Medical Council

مضامینِ نو
یہ منتخب کرنے والے اور پی وی ایم سی الیکشن کا طریقہ کار  
ڈاکٹر محمد جاسرآفتاب
اگر ان کی بات نہ کی جائے جنہوں نے منتخب کیا اور عرصہ دراز سے منتخب کرتے آ رہے ہیں، تو زیادتی ہو گی۔ پہلے سمجھ لیں کہ پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کا الیکشن ہوتا کیسے ہے۔
کونسل کے ممبران میں ویٹرنری تعلیمی ادارے شامل ہیں جس کے لئے ہر ادارے کے سربراہ کو ایک شخص نامزد کرنا ہوتا ہے۔ یہاں صرف کونسل سے منظور شدہ اداروں کو ممبر بنایا جاتاہے۔ اس کے ساتھ چاروں صوبائی حکومتوں کے نامزدکردہ نمائندے کونسل کے ممبران بنتے ہیں جن کا تعلق عموماََ محکمہ لائیوسٹاک سے ہوتا ہے۔ وفاقی حکومت کے چار نمائندے بھی کونسل کے ممبر ہوتے ہیں جن میں سے کم از کم ایک ممبر کا آر وی ایف سی سے ہونا ضروری ہے۔ ایک ووٹ اینیمل ہذبنڈری کمیشنر کا ہے۔ اس کے علاوہ چارممبران پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اپنے میں سے منتخب کرتی ہے ۔
کونسل کے ممبران چار سال کے لئے منتخب یا نامزدہوتے ہیں لیکن ایکٹ کے مطابق ایک شخص ایک سے زیادہ دفعہ بھی منتخب یا نامزد ہو سکتا ہے ۔یہ ممبران آگے چار سال کے لئے صدر اور نائب صدر کو منتخب کرتے ہیں۔ کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی بھی بنتی ہے جس میں صدر اور نائب صدر کے ساتھ ساتھ پانچ ممبران شامل ہوتے ہیں جن کا انتخاب کونسل کے ممبران ہی میں سے ہوتا ہے۔
کسی دن چلے جائیں اپنے ادارے کے وائس چانسلر یا ڈین کے پاس ۔ انتہائی احترام سے گزارش کریں کہ سر آپ تو استاد ہیں۔ آپ نے تو ہمیں سچ بولنے اور حق کے ساتھ کھڑے رہنے کا درس دینا ہے۔ آپ نے فراڈ، جھوٹ، دغا بازی اور جعلسازی سے دور رہنے کی تلقین کرنی ہے۔ آپ فرما دیں کہ کیا جب آپ یا آپ کا نمائندہ پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر کا انتخاب کر رہا ہوتا ہے تو کیا اس وقت آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے؟ اگر نہیں بندھی ہوتی تو پھر نظر نہیں آ رہا ہوتا کہ ایک سے چہرے کئی سالوں سے سامنے آ رہے ہیں؟ اور سر اگرآپ یا آپ کا نمائندہ خاموش رہتا ہے اور اس پر آواز نہیں اٹھاتا تو کیا آپ بھی ملے ہوئے ہیں؟ اگر آپ ان کا حصہ نہیں تو پھر کیا آپ ڈرتے ہیں اور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ایکریڈیٹیشن کے مسائل پیدا ہوں گے؟ تو پوچھ لیں کہ سر کیا کسی کی ناراضگی کا تعلق ایکریڈیٹیشن سے ہوتا ہے یا پاکستان میں ایکریڈیٹیشن میرٹ پر ہوتی ہے؟
لیکن آپ نہیں جائیں گے کیونکہ آپ کی ڈگری خطرے میں پڑ جائے گی اور رجسٹریشن میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ چلیں ادارے کے سربراہ سے نہیں تو اپنے کسی ٹیچر سے ہی پوچھ لیں اور وہ آگے کسی میٹنگ میں ڈین یا وائس چانسلر سے پوچھ لیں ۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہو گا، نہ تو آپ ٹیچر سے پوچھیں گے کہ گریڈ اور سی جی پی اے کو فرق پڑے گا اور نہ ہی کوئی انتہائی قابل احترام فیکلٹی ممبر بات کرے گا کہ رجسٹریشن اور پھر نوکری کو خطرہ ۔
چلیں پھر کوئی ویٹرنری آفیسر ہی ہمت کرلے اور چلا جائے اپنی محکمے کے سربراہ کے پاس اور گزارش کر لے مؤدبانہ کہ سر آپ کو یا آپ کے منتخب کردہ نمائندے کو وہاں ایک شخص کے علاوہ کوئی نظر نہیں آیا؟ اور کیا آپ کے محکمے میں کوئی اور ایسا فرد نہیں جو اس سیٹ کے لئے آگے آ سکے ؟ یا پھرآپ بھیجتے ہی ایسے شخص کو ہیں جو اختلاف نہ کر سکے اوریا اختلاف کرنا چاہتا ہی نہ ہو؟لیکن نہیں ہمت کرے گا کوئی افسر کیونکہ پھر ٹرانسفر ، پروموشن اور انکوائریوں کے مسائل ۔
چلیں اسے بھی چھوڑیں۔ آپ کے ہر صوبے میں ایک پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن ہے۔ اس کے منتخب یا مبینہ منتخب ارکان ہیں۔ ان کے پاس ہی چلے جائیں اور ان سے گزارش کر لیں کہ جناب آپ کے انتخابات کب ہوئے تھے ؟اور آپ کو کس نے ووٹ ڈالا تھا؟ اور یہ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کیسے بنی تھی؟ اور کونسل کے لئے ممبران کس طرح منتخب ہو گئے ؟ چلیں اگر کسی جگہ انتخابات ہوئے ہوں تو ان کے منتخب صدر سے پوچھ لیں کہ جناب آپ کیوں نہیں بن گئے پی وی ایم سی کے صدر۔ لیکن قوی امید ہے کہ آپ ایسا بھی نہیں کریں گے۔
چلیں اسے بھی رہنے دیں ، ویٹرنری ڈاکٹروں کی مختلف نئی تنظیمیں بن چکی ہیں۔ ان کے لیڈر بھی موجود ہیں۔ ان میں سے کسی کے پاس چلے جائیں اور ان سے پوچھ لیں کہ جناب آپ نوکریوں کی کمی، ٹرانسفر کے مسائل، سہولیات کی عدم فراہمی ، تنخواہوں میں اضافے اور رسک الاؤنس جیسے مسائل پر تو بات کرتے ہیں اور لیکن کبھی آپ نے ان مسائل کی Root Cause پر بات نہیں کی۔ یہ جو گزشتہ ڈیڑھ دو دہائیوں سے ایک سے چہرے نظر آرہے ہیں اس پر بھی ذرا آواز اٹھائیں۔ او ران لیڈروں سے پوچھیں کہ کہیں آپ بھی انہی کا تو حصہ نہیں یا پھر آپ ڈرتے ہیں؟ اگر ڈرتے ہیں تو پھر لیڈر کس بات کے ہیں؟ نہیں پوچھیں گے کیونکہ آپ میرے جیسے شریف آدمی کو ہی سوشل میڈیا پر برا بھلا کہہ سکتے ہیں۔
اور وہ میرے خاص دوست ۔۔ چند سال کے لئے ایک افسر آیا ، اس کی پالیسی سے اختلاف ہوا اور پھر ایک تاریخی دھرنا دے ڈالا۔ اور وہ چند افراد جو عرصہ دراز سے قابض ہیں اور جن کے ظلم و ستم کا سینکڑوں لوگ شکار ہیں، اور لائیوسٹاک سیکٹر کی حقیقی تباہی میں جن کا بنیادی اور اہم کردار ہے ، ذرا ہمت کریں اور ان کے خلاف بھی ایک دھرنا دے دیں اور تاریخی دیں تاکہ پھر مجھے ایک کتاب لکھنے کا موقع مل سکے۔ لیکن نہیں کریں گے کہ ایک شخص کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا نسبتاََآسان ہوتا ہے مگرمافیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا مشکل ہوتا ہے اور اس کے لئے قربانیاں دینا پڑتی ہیں ۔ وہ بڑی پریس ریلیزیں اور بیانات جاری ہوا کرتے تھے اور ہنگامی اجلاس بھی طلب ہوتے تھے،اس الیکشن پر تو کسی جانب سے ’’سی ‘‘ بھی نہیں ہوئی! کبھی کوئی جسارت کرے اور میرے ان دوستوں سے بھی پوچھ لے۔
میں پہلے ہی گزارش کر چکا ہوں کہ اہم سرکاری عہدوں پر بیٹھے سرمایہ کاروں، چند پروفیسروں، چند تحقیقدانوں،چند سرکاری ملازموں ،چند کمیشن ایجنٹوں، چند بڑے ڈسٹری بیوٹروں اور چند کاروباری افرادپر مشتمل مافیا عرصہ دراز سے لائیوسٹاک سیکٹر پر قابض ہے اور دیمک کی طرح اسے چاٹ رہا ہے۔ قومی سطح کے اہم معاملات، مشاورتی کمیٹیاں، پالیسی سازی، فنڈز کی تقسیم، اہم فیصلے، تعیناتیاں ، ٹرانسفر ز، تعلیمی معاملات ، سب پریہ سسیلین مافیا طرز کا مافیا بالواسطہ یا بلا واسطہ اثر انداز ہوتا ہے۔
مجھے علم ہے کہ یہ مافیا اب میرے خلاف متحد ہو گا لیکن کوئی بات نہیں ،میری کون سی کسی سے ذاتی لڑائی ہے۔ میرا کام تو لکھنا ہے اور وہ لکھتا رہوں گا اور اس مافیا کو ایکسپوز کرتا رہوں گا ۔