نیا پاکستان اور پرانی ویٹرنری میڈیکل کونسل

Questions on the Election Process of Pakistan Veterinary Medical Council PVMC

مضامینِ نو 
نیا پاکستان اور پرانی ویٹرنری میڈیکل کونسل
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب 
پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کا الیکشن اور صدر کا انتخاب۔ انتخاب تو نیا ہے مگر صدرپرانے بلکہ بہت پرانے۔ چار سال کا ایک ٹینیور ۔۔ تین ٹینیور انجوائے کرچکے اور اب چوتھے کاآغاز۔ مبارکباد تو دینا بنتا ہے اور ساتھ میں گزارش کرنا بھی کہ کیا پاکستان میں صرف ایک ہی ویٹرنری ڈاکٹر ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے ایک ہی سیٹ کے لئے منتخب ہوتا جا رہا ہے؟ کیا اس میں عدم شفافیت یا مفادات کے کھیل جیسے پہلوؤں کا دخل تو نہیں؟
دلیل درست اور ٹھوس بھی کہ کوئی یہاں مخالفت میں الیکشن لڑتا ہی نہیں، لیکن ایک سوال اور اہم کہ کیا کوئی الیکشن لڑتا ہی نہیں یا الیکشن ہوتا ہی ایسے ہے کہ کوئی مقابلے میں لڑے ہی نا؟ اور سوال یہ بھی کہ یہاں کسی مافیا کا وجود تو نہیں جس کے باعث خوف اور لالچ نے ڈیرے ڈال لئے ہوں اور ایک’’ سٹیٹس کو‘‘ وجود پا چکا ہو؟ کیا پاکستان کا کوئی ادارہ شفافیت کے پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے پی وی ایم سی کے ایکٹ اور اس کے الیکشن پر اسیس کو دیکھ سکتا ہے؟
کونسل کے ممبران میں دیگر کے ساتھ ساتھ پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن PVMAکے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں۔ کیا پاکستان کا کوئی ادارہ اس بات کی تحقیقات کر سکتا ہے کہ پنجاب کی ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن کے انتخابات کب کب ہوئے؟ اور اس کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کب بنی؟ اوران انتخابات کا طریقہ کار کیا ہے؟ اور اس ایسوسی ایشن کے ممبران کی رجسٹریشن کس طرح ہوتی ہے ؟اور کیا اس کے الیکشن ڈمی الیکشن تو نہیں ہوتے ؟ اور کیاوجہ ہے کہ ایک سے چہرے اعلیٰ ترین عہدوں پر مسلسل نظر آتے ہیں؟
کونسل کے ممبران میں ویٹرنری تعلیمی اداروں کے نمائندگان بھی شامل ہوتے ہیں اور ان میں سے کچھ اداروں کی ایکریڈیٹیشن کے مسائل بھی ہیں۔ کیا کوئی جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT)اس بات کی تہہ تک جاسکتی ہے کہ ان اداروں کو قواعدو ضوابط کا سہارا لے کر اس لئے تو نہیں الگ کیا جاتا کہ الیکشن کا حصہ نہ بن سکیں؟ اور کیا اس میں کوئی مفاد تو ملوث نہیں ہوتا؟ اور کیا الیکشن کو مینج کرنے کے لئے تو نہیں ایسا کیا جاتا کہ جس سے مخالفت کا اندیشہ ہو، اسے آؤٹ کر دیا جائے ؟
اورکیا پاکستان کا کوئی ادارہ اس بات کی گہرائی تک جا سکتا ہے کہ آر وی ایف سی کے علاوہ کونسل کے وہ ممبران جو وفاق کی نمائندگی کرتے ہیں ان کی نومی نیشن کی بنیاد کیا ہوتی ہے؟ کیا اپنے ہی بندے مختلف حربے استعمال کر کے تو منتخب نہیں کروائے جاتے ؟اور کیا اس میں کوئی مفاد تو ملوث نہیں ہوتا ؟ اور جو اس بار فیڈرل کے نمائندگان کی نومی نیشن میں تاخیر ہوئی، کیا اس کو کسی جگہ سے مینج تو نہیں کیا گیا؟
اور کیا کوئی ادارہ اس بات کی تہہ تک جاسکتا ہے کہ کونسل کا جو ایکٹ ہے اس میں آفس ممبر کی ٹرم میں جو فقرہ درج ہے But shall be eligible to be re-elected or re-nominated. ،کیا یہ درست ہے؟ اور کیا یہ لکھوانے میں کوئی بدنیتی تو ملوث نہیں ؟اور کیا اس کو تبدیل نہیں ہو جانا چاہئے؟ اور کیا یہی وہ فقرہ تو نہیں جس کی وجہ سے سٹیٹس کو کی بنیاد پڑی؟
اور کیا پاکستان کا کوئی ادارہ اس بات کی تحقیق کر سکتا ہے کہ پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کے اعلیٰ عہدیداران یا کسی عہدیدار کا کسی پرائیویٹ ویٹرنری تعلیمی ادارے سے کوئی تعلق تو نہیں؟ اگر ہے تو پھر کونسل نے ایکریڈیٹیشن کے معاملے پر جو ہزاروں بچوں کا مستقبل داؤ پر لگایا ہوا ہے، اس کااخلاقی اور قانونی جواز کیا ہے؟ کیا یہ مفادات کا ٹکراؤ تو نہیں؟ اور کیا ان حالات میں الیکشن کے ذریعے مسلسل چند چہروں کا سامنے آنا کسی بڑے سکینڈل کی جانب اشارہ تو نہیں کرتا؟
اور کیا پاکستان کا کوئی ادارہ اس بات کی تحقیق کر سکتا ہے کہ ایک کونسل کا رجسٹر ار، اسے چند افراد بیٹھ کر کس طرح سلیکٹ کر سکتے ہیں؟ اگرچہ یہ قواعد کے مطابق ہے مگر کیا یہ طریقہ اس لئے تو نہیں بنایا گیا کہ اپنی مرضی کا بندہ لگایا جاسکے؟ اور کیا اس اتنی اہم سیٹ کے لئے انتخاب فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے امتحان کے ذریعے نہیں ہونا چاہے؟
کیا کسی ادارے کو اس بات کی تفتیش نہیں کر لینی چاہئے کہ کسی ’’سسیلین مافیا‘‘ طرز کے مافیا کی وجہ سے پاکستان کے ویٹرنری پروفیشن میں خوف و ہراس کی فضا تو نہیں قائم ہو چکی کہ کوئی شخص بولنے یا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں کرتا ؟ اور کیا یہی وہ مافیا تو نہیں جس نے گزشتہ بیس تیس سالوں میں متبادل قیادت کو پنپنے نہیں دیا؟ اور اگر کسی نے ہمت کی بھی تو اسے بالآخر بیٹھنا پڑا۔ اگر کوئی نئی تنظیم بھی وجود میں آئی تو ایسوسی ایشن اورکونسل کے الیکشن میں شامل ہونا تو دور، وہ اس کی بات کرنے کی بھی ہمت کبھی نہ کر سکی ۔ کیا گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے آنے والے الیکشن نتائج سے ایسا نہیں لگتا کہ بادی النظر میں ایسا ہی ہے؟
کیا پاکستان کے ویٹرنری پروفیشن میں کوئی ایسا مسیحا ہے جو پاکستان بھرکے ویٹرنری ڈاکٹرز کو غلامی سے آزاد کروا سکے ؟ غلامی خوف کی ۔۔ خوف ٹرانسفر کا، خوف نوکری کا، خوف پروموشن خراب ہونے کا، خوف کونسل کی رجسٹریشن منسوخ ہونے کا، خوف مستقبل کا، اور غلامی لالچ کی ۔۔ لالچ چھوٹے چھوٹے مفادات کے حصول کا، لالچ چھوٹی چھوٹی خواہشات کی تکمیل کا۔
میرا کسی جگہ کوئی ذاتی مفاد نہیں کہ نہ تو میں نے الیکشن لڑنا ہے اور نہ ہی مجھے لیڈر بننے کا شوق ہے۔ میرا کام کسی کوہٹانا یا لانا نہیں بلکہ ایکسپوز کرنا ہے اور یہ کرتا رہوں گا۔ میرا کام لکھنا ہے اور میں لکھتا رہوں گا ۔مجھے علم ہے کہ میرے لکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مجھے قوی امید ہے کہ چار سال بعد پھر یہی الیکشن ہوگا، پھر یہی چہرے سامنے آئیں گے اور پھر میں ایسے کالم لکھوں گا ۔ اور پھر ایسا ہی چلتا رہے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کب تک؟ نہ بھولا کریں کہ وقت ہر کسی کو انجام تک پہنچاتا ہے۔
اگرچہ جو ہوا ہے یہ نیا نہیں ہاں مگر اس میں منفرد بات یہ ہے کہ یہ نئے پاکستان میں ہوا ہے۔ پاکستان تو نیا ہے مگر پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل وہی پرانی۔ امید ہے کہ نیا پاکستان اس کا ضرور نوٹس لے گا بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان کو اس کا نوٹس لے لینا چاہئے۔ میرا کام نشاندہی کرنا ہے ،وہ میں نے کر دی ؛باقی اداروں کا کام ہے۔