لائیوسٹاک سیکٹر کے’ گاڈ فادرز‘ اور’ سسلین مافیاز‘ ۔۔( ناقابلِ اشاعت کالم)

Mafias of Livestock Sector

مضامینِ نو
لائیوسٹاک سیکٹر کے’ گاڈ فادرز‘ اور’ سسلین مافیاز‘ ۔۔( ناقابلِ اشاعت کالم)
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
فون کیا کسی کو ۔۔ کہ منع کریں اِسے ۔۔ نہ لکھا کرے ۔۔ پیغام میرے لئے ۔۔ فون کرنے والا اہم عہدے پر فائز اور جس نے کروایا وہ بھی اہم عہدے پر اور عرصہ دراز سے، مگر پہلے کا بنیادی طور پر مخالف۔کہتے ہیں کہ جب لکھا جاتا ہے تو الزام میرے پر لگتا ہے کہ میں نے لکھوایا اور ہمارے معاملات خراب ہوتے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ مخالف تھے اور ایک دوسرے کو دباتے بھی تھے مگر پھر مل گئے اور کمپرومائز کرتے ہوئے فیصلہ کر لیا کہ تم ہمیں نہ چھیڑو، ہم تمہیں نہیں چھیڑیں گے اور باہمی تعاون سے چلتے رہیں گے۔ کہا کہ میرے لکھنے سے ان کے ’’باہمی تعاون‘‘ کو نقصان پہنچتا ہے۔
اس طرح سے کام کرتے ہیں یہ مافیاز ۔ اہم سرکاری عہدوں پر بیٹھے سرمایہ کاروں، چند پروفیسروں، تحقیقدانوں، سرکاری ملازموں ، کمیشن ایجنٹوں، بڑے ڈسٹری بیوٹروں اور کاروباری افرادپر مشتمل یہ مافیاز عرصہ دراز سے لائیوسٹاک سیکٹر پر قابض ہیں اور دیمک کی طرح اسے چاٹ رہے ہیں۔ قومی سطح کے اہم معاملات، مشاورتی کمیٹیاں، پالیسی سازی، فنڈز کی تقسیم، اہم فیصلے، تعیناتیاں ، ٹرانسفر ز، تعلیمی معاملات ، سب پریہ لوگ بالواسطہ یا بلا واسطہ اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہ ’’گاڈ فادر ز‘‘، ان کو بنانے والے مافیاز اور ان کے سہولت کار۔۔ایک دن میں نہیں بن گیا یہ سب۔ دہائیاں انویسٹ کی ہیں ان لوگوں نے، اور معلومات ایسی کہ ایک الگ سے کتاب لکھی جا سکے۔
پہلے خدمت کرتے رہے، لوگوں کے چھوٹے چھوٹے کام کرواتے رہے؛ ٹرانسفر، پوسٹنگ، سفارش، چھوٹی چھوٹی خواہشات، اور مہربانیاں چلتی رہیں۔ اہم عہدے حاصل کر لئے، پھر عہدوں سے چمٹ گئے۔ پھراقتدار کو طول دینے کی کوششیں، مرضی کی قانون سازی، بیوروکریسی سے تعلقات، سیاسی لوگوں کا استعمال اور دولت کاسہارا۔ مفاد پرست لوگوں کو قریب کرتے گئے اور ملاتے گئے۔ مختلف سیٹوں پر اپنے لوگ بٹھاتے گئے۔ پھر اتنا مضبوط اور طاقتور نیٹ ورک بنا لیا کہ قوانین اور اصولوں ہی کا سہارا لیتے ہوئے عہدوں پر قابض رہنے لگے۔ پھر آہستہ آہستہ اداروں پر قابض، پھر اداروں کا ذاتی مفادات کے لئے استعمال اور پھر خفیہ سرمایہ کاری اور فرنٹ مینوں کے ذریعے ذاتی اداروں کا قیام۔
اگر ان مافیاز اور ان کے گاڈ فادرز کی ہسٹری دیکھیں تو یہ سب کے سب خود کچھ بھی نہیں۔ انہیں بنانے والے اسی سیکٹر ہی کے لوگ ہیں۔ کہیں چھوٹی چھوٹی خواہشات، کہیں چھوٹے چھوٹے مفادات، کہیں ڈر ،کہیں خوف ، اورکہیں لوگوں کی عدم دلچسپی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ مضبوط ہوتے گئے۔کہیں احترام کالبادہ ، کہیں معصومیت کا لبادہ، کہیں علم کا لبادہ، کہیں چالاکی کا لبادہ، کہیں دولت کا لبادہ، کہیں عہدے کا لبادہ ، کہیں بیوروکریسی اور اہم شخصیات سے تعلقات کا لبادہ، کہیں ایمانداری کا لبادہ، کہیں غریبوں کی مدد کا لبادہ اور کہیں سیکٹر کی خدمت کا لبادہ، اوڑھ کر لوگوں کی معصومیت کا فائدہ اٹھاتے رہے یہ لوگ۔ وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے سیاسی، سماجی اور انتظامی حلقوں میں اپنے تعلقات مضبوط کر لئے ۔ اس دوران کھینچا تانی بھی ہوتی رہی اورباہم نقصان بھی پہنچتا مگر آخر کار گاڈ فادرز جیت گئے اور سارے مافیاز مل کر ایک دوسرے کے مفادات کے محافظ بن گئے ۔ پھر یہ اتنے مضبوط ہو گئے کہ اگر ان پر کوئی ہاتھ ڈالنا چاہے بھی تو نہیں ڈال سکتا۔ اگر کبھی کسی بیوروکریٹ نے انہیں چھیڑنے کی کوشش کی بھی تو اسے سوائے کمپرومائیز کے، کچھ نہ کرنا پڑا ۔
ایسا نہیں کہ لوگ ان سے با خبر نہیں اور نہ ہی ایسا کہ کوئی بولتا نہیں۔ جہاں کہیں سے آواز بلند ہوتی ہے، تو یہ ڈرا دھمکا کر، یا لالچ دے کر، یا پسِ پردہ اپنے چلنے والے کاروبار یا میں نوکری دے کر یا اس کا حصہ بنا کر، یا کسی ادارے میں ایڈجسٹ کروا کر یا مالی فائدہ دے کر یا پھر عہدے کا فائدہ اٹھا کر یا اپنے تعلقات کو استعمال میں لا کر یا پھر دوستیوں کا واسطہ دے کر خاموش کروا دیتے ہیں۔ کئی لوگ مستقبل کی فکر لئے بھی خاموش رہتے ہیں کہ وقت آنے پر یا ریٹائرمنٹ وغیرہ کے بعد ان سے فائدہ لیا جا سکے۔
صرف لائیوسٹاک سیکٹر ہی نہیں بلکہ پاکستان کے اس جیسے بہت سے چھوٹے چھوٹے شعبوں میں ایسے گاڈ فادرز یا منی گاڈ فادرز اور سسیلین مافیاز مل جائیں گے جن پر عرصہ دراز سے ہاتھ نہیں ڈلا۔ ایسا ان شعبوں میں ہوتا ہے جو حکومت کی ترجیح نہ ہونے کے ساتھ ساتھ عام پبلک کی توجہ کا مرکز نہیں بنتے۔ اس سے نیشنل میڈیا ان تک نہیں پہنچ پاتا یا عوامی عدم دلچسپی کے باعث ان پر ہاتھ نہیں ڈالتا۔ جہاں کہیں میڈیا ہاتھ ڈالتا ہے ،یہ اپنی دولت کے بل بوتے پر اسے مینج کر لیتے ہیں اور جب کبھی بیورکریسی چھیڑنے کی کوشش کرتی ہے تو عہدے اور تعلقات کی بنیاد پر بچ نکلتے ہیں۔ پاکستان کے اداروں کو چاہئے کہ لائیوسٹاک سیکٹر سمیت دیگر ان نظر انداز شدہ شعبوں کو بھی کھنگالیں ، ادھر سے بہت سی ’’گاڈ فادرز‘‘ اور ’’سسیلین مافیاز‘‘ جیسی چیزیں مل جائیں گی۔
رہی بات لائیوسٹا ک سیکٹر کے گاڈ فادرزکی ، تو فرماتے ہیں کہ لکھنے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم تو اپنی جگہ موجود ہیں۔ گزارش ہے کہ ہمارا کام کسی کو ہٹانا یا لانا نہیں بلکہ ایکسپوز کرنا ہے اور یہ کرتے رہیں گے۔ انجام تک پہنچانا اداروں کا کام ہے اور انہیں کرنا چاہئے اور انشاء اللہ کریں گے ۔ دوسری ایک اور اہم بات جو شاید اقتدار اور دولت انسا ن کو بھلا دیتی ہے۔ ایسے گاڈ فادرز اور مافیاز کا دشمن ’’وقت ‘‘ہوتا ہے۔ وقت ان کے لئے Slow poisoning کا کام کرتا ہے۔وقت بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ اپنے آپ کو مضبوط تصور کر رہے ہوتے ہیں مگر حقیقت میں یہ لوگ کمزور ہوتے جاتے ہیں اور آخر کارتباہی ان کا مقدر ہوتی ہے۔ ابھی ہمارے لائیوسٹاک سیکٹر کے ’’گاڈ فادرز ‘‘اور ’’سسیلین مافیاز‘‘ ایک گرتی ہوئی دیوار ہیں جن بیچاروں کو بس ایک دھکے کی ضرورت ہے۔
ّآخر میں گزارش ہے کہ ۔۔ہر کسی کو ڈرایا نہیں جا سکتا، ہر کسی کو دھمکایا نہیں جا سکتا، ہر کسی کو دبایا نہیں جا سکتا،ہر کسی کو خریدا نہیں جا سکتا ، اور سب سے اہم ہر شخص لالچی نہیں ہوتا اور ہر شخص کمزوربھی نہیں ہوتا۔