سو روزہ پلان ۔۔ ویٹرنری یونیورسٹی کا اہم ترین اجلاس اور پسِ پردہ حقائق

مضامینِ نو
سو روزہ پلان ۔۔ ویٹرنری یونیورسٹی کا اہم ترین اجلاس اور پسِ پردہ حقائق

ڈآکٹر محمد جاسر آفتاب
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور سو دن کا پلان، نیت اچھی ہو تو سخت اور سنجیدہ فیصلے کرنے میں بھی وقت نہیں لگتا اور پھر تبدیلی کے لئے چند گھنٹے بھی بہت اہم ہوجایا کرتے ہیں۔یہاں تو سو دن ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تبدیلی آتی ہے یا سو دنوں پر تاویلیں سننے کو ملتی ہیں۔ خیر میرے لئے یہ سو دن اس لئے بھی اہم ہیں کہ اس میں لائیوسٹاک سیکٹر کو بھی یاد رکھا گیا۔
لائیوسٹاک سیکٹر کے لئے پرائم منسٹر ہاؤس کی جانب سے ’’لائیوسٹاک ایمرجنسی ورکنگ گروپ‘‘ تشکیل دیا گیا ہے ۔ اس گروپ کا مقصد لائیوسٹاک سیکٹر کی بہتری کے لئے ٹھوس پلان مرتب کرنا ہے تاکہ اسے سو روزہ پلان کا حصہ بنایا جا سکے۔سابق سیکرٹری لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ پنجاب نسیم صادق سمیت کارپوریٹ سیکٹر کی اہم شخصیات اور وفاقی حکومت کے چند اعلیٰ متعلقہ افسران اس گروپ کے ممبر ہیں۔ لائیوسٹاک ایمرجنسی ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس 13 ستمبر کو دوپہر12 بجے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ اسلام آباد میں ہوا جس کے کنوینر جہانگیر خاں ترین تھے ۔ اس میٹنگ کے منٹس کے مطابق لائیوسٹاک ایمرجنسی ورکنگ گروپ کے آگے سات سب گروپس بنائے گئے ہیں جن میں Increase of Livestock Productivty, Breed Improvement for Small Dairy Farmers, Livestock Market Development, Transforming Fisheries Sector, Uplifting of Poultry Sector for Export, Small and Medium Dairy Farm Models in Specific to Boost Entrepreneurship, Large Dairy Farm Models شامل ہیں۔ ان سات گروپس میں سے پہلے تین گروپس کے لئے نسیم صادق کو گروپ لیڈر بنایا گیا ہے جبکہ فشریز والے گروپ کو ڈاکٹر عنصر محمود چٹھہ، پولٹری ایکسپورٹ والے گروپ کو پرائیویٹ سیکٹر کے عمران اعجاز، چھوٹے اور درمیانے ڈیری فارم ماڈلز گروپ کو نیسلے کے وقار احمد اور بڑے ڈیری فارم ماڈل والے گروپ کو سیفائر ڈیری کے عامر عبداللہ لیڈ کریں گے۔اگرچہ پہلی میٹنگ کے منٹس میں ان سب گروپس اور ان کے لیڈرزکی تفصیلات موجود ہیں مگر بہت جلد پرائم منسٹر ہاؤس سے ان لوگوں کی باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری ہو گی اور ممکن ہے کہ یہ نوٹیفیکیشن ہو گئی ہو۔ گروپ کے ممبران کی آپس کی کوآرڈینیشن کیلئے ایک وٹس ایپ گروپ بھی بنایا جائے گا ۔
واضح رہے کہ خاص طور پر لائیوسٹاک سیکٹر کے لئے بنائے گئے تینوں سب گروپس کسی ایک صوبے تک محدود نہیں بلکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبے اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ میری اطلاع کے مطابق وسیع تر اور قابلِ عمل تجاویز کے لئے ان سب گروپس کے ممبران میں تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا گیا ہے جس میں لائیوسٹاک سیکٹر اور اس سے متعلقہ ذیلی سیکٹر بھی شامل ہیں تاکہ جو بھی تجاویز وزیرِ اعظم کو پیش کی جائیں اس میں تمام لوگوں کی رائے شامل رہے۔
یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ انیمل سائنسز لاہور میں ہونے والا اجلاس بھی اسی تناظر میں تھا۔ لائیوسٹاک سے متعلقہ سب گروپ (Increase of Livestock Productivity)کی مشاورت سے یہ اجلاس وائس چانسلر یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ انیمل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا نے بلایا۔ اجلاس میں شرکت کے لئے پاشا صاحب کی جانب سے کمیٹی کے ممبران اور سٹیک ہولڈرز کو خط لکھے گئے جس میں پرائم منسٹر ہاؤس میں 13ستمبر کو ہونے والی میٹنگ کا حوالہ بھی دیا گیا۔
ویٹرنری یونیورسٹی لاہور میں ہونے والے اس انتہائی اہم اور بروقت اجلاس میں فیڈرل گورنمنٹ اوردیگر صوبوں کے محکمہ لائیوسٹاک کے نمائندگان،پاکستان ڈیری ایسو سی ایشن،بفلو بریڈر زایسو سی ایشن ،کارپوریٹ ڈیری فارمرز ایسو سی ایشن، ساہیوال کیٹل بریڈرز سوسائٹی، میٹ ایکسپو رٹ ایسو سی ایشن ،پاکستان ٹینر زایسو سی ایشن اورپاکستان پولٹر ی ایسو سی ایشن کے نما ئند گان سمیت پاکستان بھر کے دیگر پبلک اور پرا ئیو یٹ سیکٹر زسے سٹیک ہولڈرزنے شر کت کی۔
اس اجلاس میں چار سے پانچ گھنٹوں کی بحث کے بعد جو تجاویز سامنے آئیں وہ انتہائی اہم ہیں ۔ان میں سے کوئی بھی تجویز ایسی نہیں جس کا تعلق ان بنیادی اور ہم نکات سے نہ ہو جو پاکستان میں لائیوسٹاک سیکٹر کی تباہی کی بنیاد بنے۔ ان تمام تجاویز کا تعلق پالیسی میٹرز سے ہے جن کے بارے فیصلہ وفاقی سطح پر ہونا چاہئے ۔ایسی تجاویز پہلے بھی کئی دفعہ دی جا چکی ہیں مگر بدقسمتی سے وفاقی حکومت نے کبھی اس جانب توجہ نہیں دی کیونکہ لائیوسٹاک سیکٹر کبھی بھی کسی بھی حکومت کی ترجیح نہیں رہا۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ حکومت کیا کرتی ہے۔
بہت ضروری ہے کہ لائیوسٹاک ایمرجنسی ورکنگ گروپ، ذیلی گروپ کی ان اہم ترین اور to the pointتجاویز کو ختمی پلان کا حصہ بنائے اورا س سے بھی اہم یہ کہ وفاقی حکومت ان تجاویز کو اپنے سو روزہ پلان میں شامل کرتے ہوئے ان پر عملدرآمد کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔