ویٹرنری ڈاکٹر پر تشدد کی شدید مزمت ۔۔ ینگ ویٹرنری ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا قیام

Vetrinary doctor Incident,Establishment of youn veterinary association

ویٹرنری ڈاکٹر پر تشدد کی شدید مزمت ۔۔ ینگ ویٹرنری ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا قیام
منڈی بہاؤ الدین کے ضلع میں ویٹرنری آفیسر کے ساتھ بد تمیزی، صرف زبان نہیں ہاتھوں کا بھی استعمال ۔۔ انتہائی برا ہوا، جو بھی ہوا ۔۔ میں شدید الفاظ میں مزمت کرتا ہوں ۔ معاملے کی صرف شفاف انکوائری ضروری نہیں بلکہ جس کی جتنی جتنی ذمہ داری ہو سامنے آنی چاہئے اور اس کے مطابق سزا بھی ملنی چاہئے ۔ محکمانہ کارروائی اس انداز میں ہونی چاہئے کہ یہ کیس ایک مثال بنے اور آئندہ ہر کسی کو اپنے اپنے دائرہ اختیار کا بخوبی اندازہ ہو جائے۔ یہ کسی ایک کے لئے نہیں بلکہ محکمہ لائیوسٹاک پنجاب کے ہر ملازم اور ہر افسر کے لئے بہتر ہو گا۔
مسئلہ بہت بڑا نہیں بس تھوڑا کام کا تھا۔ حالات کچھ ایسے بن گئے کہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔ اکثر لوگ تو موجودہ حالات سے آغاز ہی سے خوش تھے۔ کچھ نے تھوڑی بہت مزاحمت کی مگر چونکہ بنیادی طور پر محنتی تھے اس لئے بہت جلدحالات کو گلے لگا لیا اور سسٹم سے باہر نکل کر اپنی قابلیت کے جوہر دیکھانے لگے۔ ایک ایسا گروہ بھی ہے جو اگرچہ کام تو کر رہا ہے مگر دل میں یہ خواہش ضرور پیدا کئے ہوئے کہ کاش یہ وقت بدلے۔۔ ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں۔بدقسمتی سے بہت تھوڑی تعداد ایسے افراد کی بھی موجود ہے جن کے لئے پنجابی میں کہتے ہیں ” مُڈھوں بگڑے ہوئے” ۔ وہ ایسے ہی ہیں اور ایسے ہی رہیں گے۔
ایک ویٹرنری اسسٹنٹ کو کوئی اسائنمنٹ ملی تھی۔ ویٹرنری افسر نے کام دیکھانے کا کہا۔ اسسٹنٹ نے کچھ جگہ وزٹ کروائیں مگر افسر کو معیار نہ ملا ۔ پھر افسرانہ لہجے اور زبان کا استعمال ہوا، اسسٹنٹ سے برداشت نہ ہوا ، طیش میں آگیا اور افسرکے گلے پڑ گیا ، ساتھ موجود ایک ویٹرنری افسر اور اسسٹنٹ نے بیچ بچاؤ کروایا ۔۔ مبینہ طور پر معاملہ یہ ہے۔ اب انکوائری ہو گی تو مزید حقائق سامنے آ جائیں گے۔ سب کچھ برداشت ہو سکتا ہے مگر بدتمیزی اور تشدد نہیں، بدمعاشی نہیں، غنڈا گردی نہیں۔ یہ سسٹم کو تباہ کر دیتی ہے۔ جو کوئی اتنا بدمعاش ہو، اسے سرکاری نوکری کرنی ہی نہیں چاہئے۔ کوئی ڈیرہ شیرہ بنالے اور پھر ادھر ہاتھ پاؤں چلائے۔ تحمل اور برداشت تو رہ ہی نہیں گیا۔ تھوڑی مزاج کے خلاف بات کیا ہوئی، آپے سے باہر اور پھر مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ اگر افسر کے سخت لہجے سے اتنی ہی نفرت ہو تو پھر کام کر لینا چاہئے۔ جب کام نہیں ہو گا تو پھر لحجہ تو سخت ہو گا ۔ دوسری جانب لہجے میں سختی افسرضرور لائے مگر الفاظ کے چناؤ میں تھوڑی احتیاط برتنا ضروی ہے۔ بد لحاظی کے اس دور میں افسر کو عزت خود کروانی پڑتی ہے۔ جب الفاظ کسی افسر کی تعلیم اور مقام سے مماثلت رکھتے ہوں تو پھر حالات بگرنے کی صورت میں تشدد تک بات پہنچنے کے امکانات کم رہ جاتے ہیں۔
ایسوسی ایشن کا کام یہ ہوتا ہے کہ اپنے شعبہ کی ویلفیئر کے لئے کام کرے ، اپنے جائز مطالبات کو اوپر تک پہنچائے، ممبران کی پیشہ ورانہ تربیت میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ کام کرنے کے ماحول کو پرسکون بنانے کے لئے کوشش کرے ۔ مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں ایسوسی ایشنوں کا مقصد اپنے ممبران کے ہر جائز وناجائز کام کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔یہ ایسے ہی ہے کہ کل کو پاکستان کے سارے سزائے موت کے سزایافتہ قیدی ایسوسی ایشن بنا لیں اور مطالبہ یہ ہو کہ سزائے موت ختم کرو۔ غلط کام کرنے والے کو اگر ایسوسی ایشن کے عہدیدران سمجھانے کی کوشش کریں تو بلیک میلنگ شروع ہو جاتی ہے ۔” آج ہمارے پر وقت آیا ہے، یاد رکھنا کل تم پر بھی آ سکتا ہے ، آج ساتھ نہیں دو گے کل ہم بھی نہیں دیں گے اور ووٹ تو ہم ہی سے لینے ہیں۔ ” اسی بنیاد پر ناجائز مفادات کا تحفظ شروع ہو جاتا ہے۔ میں نے ویٹرنری اسسٹنس کی ایسوسی ایشن کے عہدیدران سے یہی گزارش کی ہے کہ جو غلط ہے اس کے محافظ نہ بنیں ۔
یہ معاملہ ویٹرنری ڈاکٹرز کی کمیو نٹی اور ویٹرنری اسسٹنس کی کمیونٹی کا نہیں۔ یہ جھگڑا محض ایک ویٹرنری ڈاکٹر اورایک ویٹرنری اسسٹنٹ کا ہے۔ ساتھ ضرور دیں مگر حق کا، مزمت ضرور کریں مگر تعصب سے بالا تر ہوتے ہوئے ۔ ڈاکٹر اور اسسٹنٹ نے مل کر کام کرنا ہے، ان کا ایک دوسرے کے بغیر گزارا نہیں ۔ دونوں ایک دوسرے کو بڑی اچھی طرح جانتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے معاملات کے ضامن ہوتے ہیں بلکہ کہنے دیں کہ دونوں ایک دوسرے کا لباس ہیں جس نے بہت کچھ ڈھانپا ہوتا ہے۔ سمجھنے والے سمجھ گئے ہوں گے کہ میں کیا بات کر رہا ہوں ۔ اس لئے اسے پروفیشن کے دو ستونوں کے درمیان کی لڑائی کی شکل نہ دیں۔ ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی ہوئی ہے اور اسسٹنٹ نے کی ہے۔ معاملے کی شفاف انکوائری ہو، محکمہ کارروائی کرے اور فیصلہ کرنے میں کوئی رعایت نہ برتی جائے۔ انصاف پر مبنی فیصلہ آئے اور جس کا جتنا قصور ہے اسے سزا مل جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔
بات پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن کی ہوئی ۔ عجیب بات ہے کہ یہ ایسوسی ایشن اسی وقت سامنے آتی ہے جب کسی ڈاکٹر پر تشدد ہوتا ہے۔ ویسے حقیقت میں پاکستان ویٹرنر ی میڈیکل ایسوسی ایشن کا کوئی وجود نہیں خصوصاََ پنجاب میں، باقی صوبوں میں معاملات کچھ بہتر ہیں مگر بہت اچھے نہیں۔ کسی دور میں یہ بڑی مضبوط تھی ،پروفیشن کی خدمت بھی کی مگر پھر باہمی مفادات کے تحفظ کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اوراکثراسے فارمولے پر عمل کرنے لگے کہ ”تم مجھے نہ چھیڑو، میں تمہیں کچھ نہیں کہتا” ۔ اب باہمی مفادات کے تحفظ کی یہ سکیم اپنی آخری حد تک پہنچ چکی ہے اور مفاد پرست عناصر میں سے ہر کوئی اپنی اپنی ہمت اور صلاحیت کے مطابق آخری حد تک فائدہ حاصل کر چکا ہے، اور مزے کی بات یہ ہے کہ اب یہ فائدہ کسی سے ڈھکا چھپا بھی نہیں۔ دوسری جانب چند نظریاتی کارکن آج بھی اس کی بقا کی کوشش تو کرتے ہیں مگر مفاد پرست مافیا کے سامنے بے بس ۔ یہ بڑے بڑے نام تو آج کامیاب ہیں مگر ویٹرنری پروفیشن اور اس سے متعلقہ ویٹرنری ڈاکٹرز رُل رہے ہیں۔ خیر پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن اور پھر بلا واسطہ اسی سے جنم پانے والی پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل اور اس کونسل سے متعلقہ status quoکے بارے الگ سے کالم لکھ رہا ہوں جو اگلے چند ہفتوں میں مکمل ہو گا۔ یہ تہلکا خیز کالم ایسے حقائق پر مشتمل ہوگا جن کے بارے جانتے تو سب ہیں مگر اپنے اپنے ذاتی چھوٹے چھوٹے مفادات کے تٖحفظ کے لئے خاموش ہیں۔
چھوڑیں پاکستان ویٹرنری میڈیکل ایسوسی ایشن کو۔ پروفیشن کی بقا کے لئے ینگ ویٹرنری ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہ ایسوسی ایشن ایسی ہونے چاہئے جو ویٹرنری پروفیشن کی ترقی و خوشحالی کی علمدار ہو نہ کہ چند کرپٹ ، کام چوراور نااہل عناصر کی محافظ۔ ہمیں پروفیشن کو بچانا ہے کیونکہ سب پروفیشن کی وجہ سے ہیں اوریاد رکھئے گا کہ پروفیشن کی بقا کام اور محنت میں ہے۔
محکمہ لائیوسٹاک پنجاب کے نوجوان ویٹرنری افسران سے گزارش ہے کہ قدم بڑھائیں اور ایسوسی ایشن بنانے کا آغاز کریں، باقی صوبوں سے بھی رابطہ کریں۔ میں پوری کوشش کروں گا کہ انتظامیہ آپ سے تعاون کرے اورپوری امید ہے کہ کرے گی۔ وقت طے کر لیں، بیٹھ کر لائحہ عمل بنا لیتے ہیں۔ میں ہر وقت حاضر ہوں