نوجوان لیڈی مائیکروبیالوجسٹ کا انتقال ۔۔ چند سوچنے کی باتیں 

Lady Microbiologist,Cancer ,Environmental Pollution,Radiation,

نوجوان لیڈی مائیکروبیالوجسٹ کا انتقال ۔۔ چند سوچنے کی باتیں 
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
اپنے رب پر بھروسہ کرنا اور جو اس نے دے دیا ،شکر کرتے ہوئے اسے تسلیم کرلینا۔۔توکل کا ایک درجہ ہے ۔ اس سے زیادہ کی سوچ ’’خواہش‘‘اور زیادہ کے لئے حد سے گزر جانا اور پھر اس کے لئے ضد باندھ لینا ’’لالچ‘‘ ہے۔ پہلا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے، دوسرا اس سے کم اور تیسرا کم ترین بلکہ تباہ کن۔ یہی وہ لالچ ہے جو ایک خطرناک پوشیدہ بیماری کی طرح ہمیں لاحق ہے ۔ بیماری یہ کسی خاص طبقے تک محدود نہیں کہ شاہ سے لے کر گدا تک سب خوشحالی کے دھوکے میں بدحال ہیں۔ یہ اسی لالچ کا نتیجہ ہے کہ انسان نے اپنے آپ کو کھانے پینے اور حتیٰ کہ سانس لینے کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔
دودھ، دہی ، مکھن، بیکری، آئسکریم جب گائے بھینس کے برعکس۔۔ جوس، جام، چٹنی جب پھلوں کے بر عکس۔۔ کیچپ جب ٹماٹروں کے بر عکس ۔۔ مرچ مصالحے جب سبزیوں کے برعکس ،کسی غیر فطری ذرائع سے بنتے ہیں ، تو اس کے پیچھے یہی لالچ کارفرما ہوتا ہے۔ جعلی دودھ، جعلی جوس، جعلی مکھن، جعلی دہی، جعلی کیچپ، جعلی مصالحے،گھٹیا آئل اور گھی، اور جعلی ادویات یہ سب ہمارا مقدر بن چکے ہیں۔ اب جتنے مرضی فوڈ گریڈ کے ٹھپے لگا تے رہیں ، ایک Chemical Based کھانے کی شے، ہے تو کیمیکل ہی ۔ڈھٹائی پن کی حد ہے کہ جعلی مصنوعات کو اصلی سے بہتر ثابت کیا جاتاہے اور رنگ برنگی پیکنگ میں چھپا کر ہمیں قبول کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ جعلی کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ ساتھ ملاوٹ اور گھٹیا معیار ، پھر مردار گوشت اور پھر حرام گوشت ، یہ سب انسانی لالچ کا پھل ہے۔ دوسری جانب ماحولیاتی آلودگی ، بڑھتا درجہ حرارت اور ہمارے اردگرد موجودشعاعیں الگ عذاب ہیں۔ لالچ کی انتہاہے کہ ہم درختوں کا قتلِ عام کرتے اور لہلہاتی فصلوں کو تباہ کرتے زرخیز زمینوں کو تیزی سے ہاوئسنگ سکیموں میں بدلتے جا رہے ہیں ۔ ماحول برباد ہوگیا ہے اور موسم قابلِ فہم نہیں رہا۔ کبھی کسی نے سوچا تھا کہ ستمبر اور اکتوبراتنا گرم ہوگا؟ پچھلے سال والی سموگ کو اگر یاد کرلیں تو بات مزید سمجھ آ جائے گی۔
بڑا نقصان ہے، بلکہ قومی نقصان خصوصاََ ویٹرنری پروفیشن کے لئے۔ سکول اور کالج میں شاندار کارکردگی کے بعد یونیورسٹی میں داخلہ، پھر نمبروں کا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے گولڈ میڈل کا حصول، انٹرنیشنل کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی، اور مقامی اور بین الاقوامی جریدوں میں تیس سے زائد تحقیقی تحاریر کی اشاعت ۔۔خواب تو بڑے تھے اور تعبیر کے لئے سفر بھی جاری مگر قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا،یہ نوجوان ریسرچر بہت جلد چلی گئیں۔
ڈاکٹر زیتون ظہیر کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ان کے مزاج میں دھیما پن اور ان کی انتہا کی شرافت تھی۔ ان کا شمار ان چند افراد میں ہوتا تھا جو واقعی استاد کے منصب کے لئے موزوں ہوتے ہیں کہ ہمارے ہاں ہائر ایجوکیشن کے اداروں میں لیکچرار اور پروفیسر تو بے شمار ہیں مگر استاد بہت کم۔ وہ تھانیدار نہیں بلکہ حقیقت میں استاد تھیں ، ایسا استاد جو اپنے سٹوڈنٹس کے لئے ماں اور باپ کا درجہ رکھتا ہو۔ ڈاکٹر زیتون نے ڈی وی ایم کے بعد زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی ویٹرنری فیکلٹی میں ایم فل مائیکروبیالوجی میں داخلہ لیا اور تقریباََ تین سال قبل اسی شعبہ سے بطور لیکچرار منسلک ہو گئیں۔
اس سال مئی میں ایک دن یونیورسٹی آئیں ، اچانک درد ہوا، شدت کے باعث ہسپتال لے جانا پڑا، اورپھر اس درد نے کینسر کی خبر سنا دی۔ پاکستان کے تمام بڑے متعلقہ ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ چند بین الاقوامی ماہرین کی زیرِ نگرانی علاج شروع ہوگیا۔ کیمو تھراپی کے بہتر رزلٹ آنے لگے ، اکتوبر کے آغاز میں ہونے والے تمام ٹیسٹ مثبت خبر سنا رہے تھے۔مگر بہتری کے باوجود خوشخبری بری خبر میں بدل گئی اور اسی مہینے وہ انتقال کر گئیں۔ڈاکٹر صاحبہ کا اچانک رخصت ہو جانا ، جہاں ایک صدمہ ہے وہاں ایک قومی نقصان بھی کہ انتہائی ذہین اور قابل ویٹرنری ریسرچر اور مائیکرووبیالوجسٹ کے ساتھ ساتھ ایک بہترین استاد سے پاکستان محروم ہو گیا۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔
موت تو آنی ہے اور بیماری میں بھی کسی کا اختیار نہیں، یہ تو اللہ کا نظام ہے۔ مگر انسان نے بھی اپنی تباہی کے لئے کوئی کسرباقی نہیں رکھی۔یہی وہ تباہی ہے جو نئی نئی بیماریوں کو جنم دے رہی ہے اور ہمارے نوجوان اور بچے اور خصوصاََنوجوان لڑکیاں کینسرجیسی مہلک امراض کا شکار ہو رہی ہیں ۔ہم کیا کھا رہے ہیں ، ماحول کو کیسے تباہ کر رہے ہیں، کبھی سوچا ہی نہیں۔ ہمارا کھانا پینا، رہن سہن سب nature کے برعکس ہے۔ نئی نسل میں حالات مزید بدتر ہوں گے اور قدرتی آفات کے ساتھ ساتھ خطرناک بیماریوں میں بھی اضافہ ہوگا کہ ہم قدرتی ماحول کے خلاف مسلسل جنگ کر رہے ہیں۔ لینڈ مافیا ، فوڈ مافیا یا کسی اور مافیا کو نکیل ڈالنے سے کچھ نہیں ہوگا کہ سرمایہ دار سرمایہ کاری کرتا ہی وہی ہے جہاں مارکیٹ ہوتی ہے اور مارکیٹ کی بنیاد لالچ ہے جو اوپر سے لیکر نیچے تک اس قوم کو کھائے جا رہا ہے۔ ہمیں اداروں کی طرف دیکھنے کی بجائے خود کو بدلنا ہو گا۔ ہمیں اپنے لالچ کو نکیل ڈالنا ہو گی ، اپنی زندگیوں میں سادگی لانا ہو گی۔ ہمیں یہ سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ زیادہ اور بہتر کی دوڑ میں کہیں ہم اپنے لئے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے بربادی کے اسباب تو نہیں پیدا کر رہے۔