سموگ کی وجوہات ۔۔ چند تلخ حقائق 

Smog,Environmental Pollution

سموگ کی وجوہات ۔۔ چند تلخ حقائق 
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
دھندلی نظر ، چبھتی آنکھیں ،تکلیف زدہ چہرے ،دکھتے گلے اور سانس لینا محال ۔دم گھٹتا ہے کہ فضا نے جیسے قید کر لیا ایک غیر شفاف شیشے کے خول میں اور انسان بے بس۔ کہتے ہیں کہ دھواں مل گیا بے وقت دھند سے اور سموگ بن گئی۔ عمل دخل فضائی آلودگی کا ہے۔
یہ ہوتا ہے اور یہ ہونا ہی تھا ، آگے اور بہت کچھ ہوگا اور اس سے بھی برا ہو گا۔ کبھی سوچا ہی نہیں، اگر کسی نے سوچنے کا کہا تو اسے بے وقوف قدامت پسند کہتے ہوئے زندگی میں ترقی نہ کرنے کی پکی خبر بھی سنا دی۔ کسی کو الزام دینے سے کچھ نہیں ہوتا۔ اچار میں کیڑے اندر ہی سے پڑتے ہیں۔ یہاں بھی خرابی ہم ہی میں ہے۔
ضرورت کا کوئی معیار نہیں کہ ہر ایک کی اپنی اپنی تعریف، مگر جب گھر میں لگی چھوٹی سکرین پر ایک شخص کے پیچھے بیسیوں گاڑیوں کی قطار نظر آئے گی تو پھر عام آدمی اپنے لئے بیس نہیں تو کم از کم ایک گاڑی کویقیناََ ضروری سمجھے گا۔ پھر جیسے جیسے بھوک مٹتی ہے ضرورت کا دائرہ کار وسیع ہوتا جاتا ہے اوربات ایک خاندان کے لئے ایک گاڑی سے ہرفرد کے لئے ایک ایک اور پھرایک ایک سے دو دو تین تین تک پہنچ جاتی ہے۔ بینکنگ سسٹم نے کام اور آسان کر دیا اور گاڑیاں ہی گاڑیاں ہو گئیں۔ یہ رکشے ،موٹر سائیکلیں گاڑیاں ہماری ہی ہیں جو سڑکوں پر انسانوں سے بھی زیادہ تعداد میں دیکھائی دیتی ہیں، دھواں چھوڑتی ہیں، شور مچاتی ہیں اور آلودگی پھیلاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ زہر اگلتے کارخانے اور شہروں کے ارد گرد ان کی بڑھتی تعداد۔ فضا سانس لینے کے قابل نہیں رہی، پانی پینے لائق نہیں رہا۔ نہریں نالے بن گئیں اور گندے نالے کالے ناگ، یہاں سے آلودہ پانی دریاؤں کا حصہ اور پھر آگے آبی حیات کے ساتھ ساتھ زیر زمین پانی کی تباہی۔ سڑکیں وہی ہیں، گلیاں ویسی ہیں، بازار پرانے ہیں، مگر آبادی وہ نہیں کہ لوگ بڑھتے گئے بڑی تیزی سے۔
اہم سبزہ ہے کہ ماحولیاتی توازن قائم رکھتا ہے۔ درخت، پودے، کھیت ماحول کو تازہ رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ سب تو ہم تباہ کررہے ہیں ۔ کیا کبھی سوچا کہ جس ہاؤسنگ سوسائٹی کے گھر میں ہم رہتے ہیں اس کے نیچے کتنی زرخیز زمین تھی یا اس جگہ کتنے گھنے درخت تھے۔ کبھی سوچا کہ جس زمین پر ہم نے عالیشان کوٹھی تعمیر کر رکھی ہے، کیا یہ زمین اسی کام کے لئے تھی۔ پہلے زراعت کے شعبہ کو تباہ کیا، حالات ایسے پیدا کئے کہ زمیندار بدحال ہو کر کھیتی باڑی سے متنفر ہو جائے، پھر اسے سبز باغ دیکھائے اور آخر کار مجبور کر دیا کہ کوڑیوں کے بھاؤ زمین کو بیچ کر جان چھڑا لے ۔ مافیا نے اس زمین کو تراشا اور ہیرے کی طرح بیچنے لگا ۔ لاہور کو دوسرے شہر سے ملاتی کسی بھی شاہراہ پر چل پڑیں، سڑک کنارے درختوں اور کھیتوں کی بجائے سینکڑوں ہاؤسنگ سوسائیٹیاں نظر آئیں گی۔ہائی ویز تو چھوڑیں لاہور کے ارد گرد دیہات کے دیہات کھا چکا ہے یہ مافیا ۔ اُدھر درختوں کا قتل عام الگ سے جاری ہے ۔ یہ صرف لاہور تک محدود نہیں کہ پنجاب کے اکثر شہروں میں حالت یہی ہے اور بدقسمتی سے پاکستان کا دارلحکومت بھی اس ظلم سے بچ نہیں سکا۔ مانا کہ آبادی بڑھنے سے شہر بڑھتے ہیں مگر اس کے لئے ایسی زمینوں کا بھی تو انتخاب ہو سکتا ہے جس سے ایکو سسٹم تباہ نہ ہواورسبزہ بچ جائے۔ کیا بری پلاننگ ہے کہ شہر پھیل کر انڈسٹریل ایریا زکو گھیر چکے ہیں اور نئی رہائشی کالونیاں کھیتوں اور باغات کو مٹاتی ہوئی شہروں اور انڈسٹریل ایریا کا حصہ بن گئی ہیں۔
ضرورت ہے اور مجبوری بھی کہ گاڑیاں ایسے ہی بڑھتی رہیں گے، نام نہاد ترقی کے ساتھ ساتھ کارخانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے گا، فضائی اور آبی آلودگی میں شدت آتی جائے گی۔ اب صرف کسان کو الزام دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا کہ وہ تو سالوں سے فصلوں کی باقیات کو آگ لگا رہا ہے۔ بڑا رسمی سا فقرہ ہے کہ ماحول کی حفاظت کے لئے قوانین بنانے ہوں گے۔ قانون تو موجود ہے اور ادارے بھی مگر بد قسمتی سے یہ لاگو اس پر ہوتا ہے جو کمزور ہے۔ کسان پر دفعہ 144 لگا دی، چھوٹی چھوٹی فیکٹریوں کو معمولی جرمانے کر دیے، بھٹوں والوں کو دھمکیاں دے دیں، رکشے بس والے کا چالان کر لیا۔ حضور ان غریبوں کو دبانے سے کچھ نہیں ہو گا۔ جو ماحول کی حفاظت سے متعلق قوانین ہیں انہیں سب پر لاگو کرنا پڑے گا۔ ایکو فرینڈلی ٹیکنالوجی پر جانا ہو گا۔ سب سے اہم کہ شہر وں کے ارد گرد جو گرین زون بچ گئے ہیں ان کی ہنگامی بنیادوں پر حفاظت کرتے ہوئے شجر کاری پر کاغذی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں کام کرنا ہو گا ۔ قابلِ کاشت زمین اور باغات وغیرہ کو تباہ کر کے کسی بھی رہائشی یا کمرشل سہولت کی فراہمی پر فوراََ پابندی لگانا ہو گی۔
یاد رکھیں کہ ماحول سے دشمنی ہیرے جواہرات سے بنے شہروں کو بھی غرق کر دے گی ۔درختوں اور سبزے کی اس طرح سے تباہی پاکستان کے بڑے شہروں کو روشنیوں سے جگمگاتی ایسی خوبصور ت جہنم بنا دے گی کہ یہاں رہنا مشکل ہو جائے گا۔ ماحول تباہ ہو جائے گا اور موسمی تغیرات سمجھ سے باہر۔ ابھی تو صرف سموگ کا سامنا ہے ،آگے مزید ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں جن کو کنٹرول کرنا انسان کے بس میں نہیں رہے گا۔