آوارہ کتوں کا حل ” کتا مار مہم” کے بغیر ممکن 

Spaying, Stray Dogs, Spay

یہ کالم مارچ 2017 میں لکھا گیا

آوارہ کتوں کا حل ” کتا مار مہم” کے بغیر ممکن 
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
گلی محلوں سڑکوں پر گھومتے آوارہ کتے ۔۔ کتا مار مہم ، کوئی نئی بات نہیں۔میونسپل اداروں کے پاس بڑا سادہ حل ہے جان چھڑانے کا، زہر آلود خوراک اندھیرے میں سڑکوں پر پھینک دو ؛ بس پھر سورج کی روشنی یہ گما ن دے گی کہ شاید رات کتوں کی بارش ہوئی۔ گزشتہ دنوں کراچی میں بھی اسی فارمولے کا استعمال ہوا۔ سینکڑوں کتوں سے جان تو چھڑا لی گئی لیکن اسی دوران ایک دردناک ویڈیو بھی سامنے آئی۔ ایک عورت بین کرتے ہوئے ، ماتم کسی انسان کا نہیں بلکہ کتے کا۔ خاتون دہائیاں دے ر ہی ہے اور کتا موت کے ساتھ جنگ لڑ رہا ۔ یہ خاتون ٹی وی اداکارہ مزنہ ابراہیم تھیں۔
مزنہ کا دکھ یہ ہے کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی مہم کے دوران ان کا پالتو کتا بھی زہر نگل گیا۔ اب جان کی بازی ہار چکا ہے۔ ان کا رونا جائز ہے کہ کتے سارے ہی آوارہ نہیں ہوتے۔ کچھ فیملی کا حصہ ہوتے ہیں۔یہ پیار کرنے والا جانور ہے، صرف پیار کرنے والا ہی نہیں بلکہ وفادار بھی۔ انسان کے لئے مددگار ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس سے بڑا کام رکھوالی کا لیا جاتا ہے۔ صرف گھروں کا محافظ نہیں بلکہ قوم کی حفاظت میں بھی اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ ہمارے اداروں کے پاس کتوں کی ایک تعداد موجود ہے جو دھماکہ خیز مواد کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک مخصوص ادارہ ہے جہاں ان کو خاص اس کام کی ٹریننگ دی جاتی ہے ۔کتا شکار میں بھی مدد دیتا ہے۔قدرتی آفات میں انسانوں کو تلاش کرسکتا ہے، جانوروں کے ریوڑ کو کنٹرول کرنے میں بھی اس کا کردار ہوتا ہے۔ نابینا اور معذور افراد کا سہارا بھی بنتا ہے۔ کھیل کود سمیت اور بھی بہت سارے کام ہیں جو دنیا کے مختلف علاقوں میں مختلف انداز کے ساتھ کتوں سے لئے جاتے ہیں۔
ایک اور دلچسپ بات کتے سے متعلق میرے بزرگ ڈاکٹر محمد حسین نے بتائی۔ ڈاکٹر صاحب اگرچہ صنعت کار ہونے کے ساتھ ساتھ پیکنگ اور پلاسٹک انڈسٹری کا بڑا نام ہیں مگر اپنی عاجزی کے باعث گفتگو میں روحانی اثر رکھتے ہیں۔ ایک پرانے ڈرامے کا حوالہ دینے لگے، یہ اس وقت کے ڈراموں کی بات ہے جب ایک پی ٹی وی تھا اوراس کے ڈراموں کا کچھ مقصد ہوتا تھا خصوصاََ اصلاحی ۔ ایک کتا گھر میں بندھا ، کچھ خوراک کھائی اور باقی چھوڑ دی۔ بیٹا ماں سے کہنے لگا کہ یہ اور نہیں کھا رہا۔ ماں نے جواب دیا کہ چھوڑ دے بیٹا یہ اور نہیں کھائے گا ۔ اس کی بھوک اس کا معدہ بھرنے سے مٹ جاتی ہے جبکہ انسان کی بھوک شروع ہی اس وقت ہوتی ہے جب اس معدہ بھرتا ہے۔جی ہاں لالچ کی اس بھوک جس کا آغاز پیٹ بھرنے کے بعد ہوتا ہے ، اس کی کوئی حد نہیں۔ بہت سے لوگوں کو اس کا تجربہ ہو گا۔
معذرت! میں کسی اور طرف نکل گیا۔بات ہو رہی تھی مزنہ کے کتے کی جو دہشت گردی کی نظر ہو گیا۔ ہاں اب بیچارے کتوں کے لئے تو یہ دہشت گردی ہی ہو گی نا کہ ایک رات میں سینکڑوں لاشیں گر گئیں۔ مگر دوسری جانب جو دہشت گردی یہ کتے روزانہ پھیلاتے ہیں وہ بھی انتہائی خطرناک ہے۔ ان آوارہ کتوں نے تو شہریوں کا جینا حرام کیا ہوتا ہے۔ بیچارے اس غریب آدمی سے پوچھیں جو سائیکل یا موٹر سائیکل پر سواراپنی عزیزہ کے ہمراہ کہیں جا رہا ہو اور کتا پڑ جائے ۔ چھوٹے بچوں کو چیر پھاڑ کرنے کی خبریں بھی موصول ہوتی ہیں۔ ان حالات میں ان سے جان چھڑانا بھی ضروری ہے۔
ایک طریقہ تو یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت کوئی ایسی جگہ مخصوص کردے جہاں آوارہ کتوں کو محدود کر دیا جائے۔ یقیناََ یہ ممکن نہیں کہ جہاں انسانوں کو بنیادی حقوق میسر نہ ہوں وہاں اس درجہ کی پلاننگ کی توقع کس طرح کی جا سکتی ہے۔ دوسرا طریقہ یہ کہ عوام آوارہ کتوں کو Adopt کرنا شروع کردے، اب ہمارے معاشرے میں اس کا بھی رواج نہیں۔
کتا چاہے آوارہ ہو یا کسی کے گھر کا پلا ہوا، ایک بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ وہ جاندار ہے اور تکلیف کو اسی طرح محسوس کرتا ہے جیسے ہم کرتے ہیں۔ اس لئے زہر کا استعمال کسی طرح سے بھی مناسب نہیں۔ اس طرح کھلے عام زہر پھینک دینے سے انسانی جان کے ضیاع کا بھی خدشہ ہے۔ آوارہ کتوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ویسے بھی بہتر حکمتِ عملی نہیں کہ اس سے ایکوسسٹم disturb ہو گا۔اب حل یہ ہے کہ بجائے کتوں کو مارنے کے ان کی بڑھتی نسل کو کنٹرول کیا جائے یعنی کتوں کی خاندانی منصوبہ بندی ہونی چاہئے ۔اس عمل کو spayingاور neutering کہا جاتا ہے جس میں مادہ اور نر کتوں کوآپریشن کے ذریعے نسل کشی کے قابل نہیں رہنے دیا جاتا ۔ تولیدی صلاحیت کو ختم کرنے کا دوسرا طریقہ کیمیکل کا استعمال ہو سکتا ہے جسے zeutering بولتے ہیں۔ جب آوارہ کتے اپنی نسل بڑھانے کے قابل نہیں ہوں گے تو ان کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی رہے گی۔اسی حوالے سے دنیا بھر میں world spay day بھی منایا جاتا ہے جس کا مقصد اس پیغام کو عام کرنا ہے کہ آوارہ کتوں اور بلیوں کو مارنے کی بجائے سرجیکل طریقوں سے ان کی بریڈنگ کو کنٹرول کیا جائے۔ پاکستان میں اس پیغام کو پھیلانے میں یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کے افتخار حسین، عرج ظفر، قدسیہ اشر ف، خضر خان ، حسین افتخار اور دیگر طلباء پیش پیش ہیں۔ یہ طلباء یونیورسٹی کے پلیٹ فارم سے world spay day بھی مناتے ہیں۔
ان نوجوانوں کو چاہئے پاکستان کے تمام ویٹرنری تعلیمی اداروں سے دلچسپی رکھنے والے طلباء و طالبات کو ساتھ لے کر اپنے وائس چانسلر محترم پروفیسر طلعت نصیر پاشا کی مشاورت سے ٹیمیں تشکیل دیں ۔ یہ ٹیمیں پاکستان کے مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز سے ملاقاتیں کریں اور ان کے تعاون سے متعلقہ افسران کے لئے ورکشاپس کا انعقاد کریں۔ صرف پیغام پہنچانے تک محدود نہ رہیں بلکہ تحصیل کی سطح پر ایسے ماہرین کی نشاندہی بھی کریں جو spaying اور neuternig میں مہارت رکھتے ہوں۔یہ طلباء وطالبات اس عمل میں خود بھی مہارت حاصل کریں اور پھر اپنے اساتذہ کی سرپرستی میں مقامی ماہرین اور بلدیاتی اداروں کے ساتھ مل کر آوارہ کتوں کی بریڈنگ روکنے میں عملی کردار ادا کریں۔ وقت کے ساتھ ساتھ نئے لوگ ان ٹیموں میں شامل ہوتے رہیں۔ اگر یہ عمل شروع ہو جائے تو چندسالوں میں رزلٹ سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ افتخار حسین جیسے نوجوانوں سے اس کام کی توقع کی جاسکتی ہے، ناممکن نہیں بس ذرا آگے بڑھنا ہو گا۔ ہاں دوسری جانب اگر کوئی بلدیاتی ادارہ اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہو تو اسے خود یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ انیمل سائنسز لاہور سے رابطہ کر لینا چاہئے۔قوی امید ہے کہ یونیورسٹی تعاون کرے گی۔