پبلک سروس کمیشن کی نوکریوں میں صرف تین چانس

 کی نوکریوں میں صرف تین چانسPPSC
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
“you don’t know the pain of unemployment” اس فقرے نے مجھے تو ہلا دیا۔ محکمہ لائیوسٹاک پنجاب اور دیگر اداروں میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہونے والی بھرتیاں، فیصلہ کیا گیا کہ ہر شخص کے پاس تین سے زائد مواقع نہیں۔ بہت سوں کو امتحان میں بیٹھنے سے منع کر دیا کہ پہلے تین مرتبہ apply کر چکے ۔ ہزاروں کی تعداد میں گریجویٹس، چند نوکریاں اور ان کے اعلان میں بھی کوئی نظم نہیں کہ کسی سال بار بار اشتہار دیکھنے کو ملے اور کئی کئی سال مسلسل خاموشی۔اگر ایک محکمے کے تین شعبوں میں یکدم نوکریاں آگئیں تو ان چند ہفتوں میں تینوں پر درخواست دینے والا تو ہو گیا نا فارغ!
بہت اچھی بات ہے کہ سرکار نے ہر شخص کو تین چانس دیے۔ سرکاری نوکری کے لئے تین چانس بہت ہیں کہ اگر کامیاب نہیں ہو سکا تو کہیں اور کی راہ لے۔بلکہ میری رائے میں تو پاکستان کے تمام ٹیکنیکل شعبوں میں سرکاری افسر کی پوسٹ کے لئے صرف تین چانس مقرر ہونے چاہئیں تاکہ ہر کسی کو سرکار کی نوکری کا موقع مل سکے۔ لیکن اس کے لئے یہ بھی ضروری ہو گا کہ تعلیمی اداروں کے قیام میں ملکی ضروریات کا خیال رکھا جائے، ان اداروں سے ایسے شعبہ جات میں ڈگریاں دی جائیں جن کی عملی طور پر ضرورت بھی ہو،ذاتی ترجیحات کی بنیاد پر کسی ایسی ڈگری کا آغاز نہ کیا جائے جو اسی شعبے کی پرائمری ڈگری سے مقابلہ کرتی ہو، ان ڈگریوں میں ہرسال داخلوں کی تعداد قومی اداروں اور پرائیویٹ سیکٹر کی ضروریات کے مطابق مقرر کی جائے، ان ٹیکنیکل گریجویٹس کی تعداد کے مطابق آسامیاں نکالی جائیں اور نہ صرف ان سرکاری نوکریوں کے معیار کو بہتر کیا جائے بلکہ پرائیویٹ سیکٹرکو بھی مانیٹر کیا جائے تاکہ معاوضہ و مراعات پروفیشنل ڈگری کے وقار کے مطابق ہوں یا کم ازکم اس سے معاملات زندگی اچھے انداز میں چل سکیں۔ دھڑا دھڑ اداروں کا قیام ، غیر ضروری پروفیشنل ڈگریاں، داخلوں کی تعداد میں بے ہنگم اضافہ اور نوکریوں کے اعلان میں کوئی منصوبہ بندی نہیں، ان حالات میں عام ڈگریاں نہیں بلکہ پروفیشنل ڈگریاں نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہوں گی اور بیروزگاری حد سے زیادہ!
ایک پروفیشنل ڈگری حاصل کرنے کے پیچھے زندگی کا ایک حصہ شامل ہوتا ہے۔ہم ویٹرنری شعبہ ہی کی مثال لے لیتے ہیں۔ ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن (DVM )، ایف ایس سی پری میڈیکل میں اچھے خاصے نمبر لینے کے بعد داخلہ ، پانچ سال مسلسل محنت، دورانِ تعلیم فیسیں، ہاسٹل کے خرچے، کتابیں، نوٹس ۔۔ لاکھوں روپے لگانے کے بعد ویٹرنری ڈاکٹر بنتا ہے۔ غریب یا متوسط سفید پوش طبقے کا بچہ جس نے ہوم ٹیویشن پڑھا کر اپنے اخراجات پورے کئے ہوں، ڈگری تو اسے مل جائے مگر نوکری کا مناسب انتظام نہیں تو وہ کیا کرے گا۔ پھر یہ سوچنا تو اس کا حق ہے نا کہ ڈاکٹر انجینئر بن کر اگر دھکے ہی کھانے تھے تو اتنی محنت کا کیا فائدہ، اس سے بہتر سادہ بی اے کر لیتا تاکہ کہیں بھی نوکری کر نے میں افسوس تو نہ ہوتا۔ اور نقصان صرف اس کا ہی نہیں ،ایک انجینئر ، ویٹرنری ڈاکٹر یا ایگریکلچرسٹ جس کی تیاری میں حکومت نے بھی لاکھوں کے اخراجات کئے ہوتے ہیں ، اگر وہ اپنے متعلقہ شعبہ میں خدمات سرانجام دینے کی بجائے ٹریفک وارڈن بھرتی ہوجائے ، تونقصان قومی خزانے کا بھی ہوا۔
ایک وقت تھا کہ پنجاب میں صرف دو ادارے ویٹرنری کے شعبہ میں ڈگری دیتے تھے۔ ان اداروں سے چند گریجویٹس ہر سال فارغ ہوتے ، کچھ سرکار میں ویٹرنری افسر لگ جاتے، باقی پرائیویٹ سیکٹر میں کھپ جاتے، ڈیمانڈ اور سپلائی میں کوئی زیادہ گیپ نہ ہوتا جبکہ ان ٹیکنیکل گریجویٹس کی وقعت بھی ہوتی ۔ اب نہ صرف ان اداروں نے اپنے داخلوں کی تعداد بڑھا لی ہے بلکہ بہت سی دیگر یونیورسٹیوں نے بھی اس ڈگری کا آغاز کر دیا۔ افسوس کہ ان میں سے کچھ اداروں کے پاس انتظامات بھی پورے نہیں جس کے باعث بہت سے گریجویٹس کی ڈگریاں متنازع ہیں۔دوسری جانب ستم ظریفی یہ بھی کہ کچھ ایسی ڈگریوں کا بھی آغاز کر دیا جن کا فیلڈ میں براہِ راست باہم مقابلہ ہے۔ اچھی بات ہے کہ ہائر ایجوکیشن کو عام کیا جائے مگر ضروری ہے کہ اس ایجوکیشن کا کوئی معیار بھی ہو، اس ڈگری کی انٹرنیشنل وقعت ہو اور سب سے بڑھ کر اس پروفیشنل ڈگری سے متعلقہ نوکریاں بھی مل سکیں اور ان پروفیشنل ڈگری ہولڈرز اور نوکریوں کی تعداد میں کوئی ربط بھی ہو۔ محض ڈگریاں تھما دینا حکومت کا کام نہیں بلکہ ان اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔پنجاب کے برعکس دیگر صوبوں میں تو ویٹرنری گریجویٹس کے مسائل اس سے بھی بڑھ کر ہیں۔
ایک موقف یہ ہے کہ تین چانس کافی ہیں کسی شخص کے لئے کہ وہ مقابلہ کرے، کامیابی یا ناکامی اس کا مقدر۔ دوسری جانب پروفیشنلز کا کہنا ہے کہ ہم پانچ سال کی مسلسل محنت کے بعد ڈگری لیتے ہیں ،تین چانس ناکافی ہیں کیونکہ نوکریوں کی تعداد ہماری تعداد کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ اب کوئی درمیان کا راستہ نکالنا ہو گا۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن ، محکمہ لائیوسٹاک پنجاب اور پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل کو مل کر ایسی حکمت عملی بنانی چاہئے کہ ویٹرنری گریجویٹس کے لئے نوکریوں کے مسائل پیدا نہ ہوں۔ اگر تین چانسز کے موقف پر قائم رہنا ہے تو پھر بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی ضروریات کا احاطہ کیا جائے اور ضرورت سے زائد ادارے بند کر دیے جائیں یا موجودہ اداروں میں داخلوں کی تعداد کو کم کیا جائے۔ اگر یہ ممکن نہیں تو پھر یہ چانسز والا سسٹم ختم کردیا جائے، یا پھر چانسز کو بڑھا دیا جائے۔ اگر کچھ بھی نہیں ہو سکتا تو پھر دو چیزیں تو بہت ضروری ہیں، اول کہ اس فیصلے کا نفاذ نوٹیفیکیشن کی تاریخ کے بعد سے applyکرنے والوں پر کیا جائے اور دوسری یہ کہ محکمہ لائیوسٹاک کے ہر ذیلی شعبے میں تین تین چانسز دیے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو موقع مل سکے ۔ دوسری جانب ویٹرنری گریجویٹس کو بھی اپنی سوچ میں تبدیلی لاتے ہوئے محض سرکاری نوکری پر انحصار نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنے لئے موجود متبادل ذرائع روزگار پر بھی توجہ دینی چاہئے۔