ڈبہ بند دودھ یا کیمیکل

Packed Milk Adulteration, Milk Quality

یہ کالم ستمبر 2016 میں لکھا گیا

ڈبہ بند دودھ یا کیمیکل
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
ماہرین خدا کو حاضر ناظر جان کر پوری ایمانداری سے رپورٹ مرتب کریں، یہ میرے اور پوری قوم کے بچوں کی صحت اور زندگی کا معاملہ ہے ۔ یہ وہ ریمارکس ہیں جو ناقص اور ملاوٹ شدہ دودھ کے خلاف از خود نوٹس کی سپریم کورٹ لاہور جسٹری میں سماعت کے دوران جسٹس ثاقب نثار نے دئیے۔ عدالتِ عظمیٰ نے حکم دیا کہ ملکی و غیر ملکی تمام کمپنیوں کے ڈبہ بند دودھ کے ٹیسٹ کروا کر تجزیاتی رپورٹ چار ہفتوں میں پیش کی جائے۔
بہت ضروری ہے کہ معاملے کی گہرائی تک جایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور کیمیکل کا کیمیکل ہو جائے۔ میں بھی پیتا ہوں، آپ بھی پیتے ہیں، ہم میں سے ہر عمر کا شخص پیتا ہے، سب سے اہم بچے پیتے ہیں، بچوں کی بنیادی خوراک ہے، بچوں کی نشوونما کا انحصار اس پر ہے، اب دیکھنا تو پڑے گا کہ جو اپنے ہاتھوں سے ان بے زبان معصوموں کو پلایا جا رہا ہے وہ دودھ ہی ہے۔ صرف پینے کے لئے ہی نہیں بلکہ گھی، مکھن، دہی، پنیر، کریم، مٹھائیاں، بیکری سمیت ہماری معمول کی خوراک میں شامل بیسیوں ایسی اشیاء ہیں جو دودھ سے بنتی ہیں ۔
اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ یہ سفید مشروب چاہے پینے کے لئے ہو یا کالی چائے کو سفید کرنے کے لئے یا پھر اس سے بنی کوئی اور پروڈکٹ،سب کی اساس دودھ ہے، اصلی دودھ۔اب اس میں شک نہیں ہونا چاہئے کہ اصلی دودھ گائے اور بھینس سے قدرتی طور پر حاصل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھیڑ، بکری، اونٹنی بھی دودھ کے ذرائع ہیں۔ان جانوروں سے نکالا گیا دودھ چاہے پتیلے میں فروخت ہو یا لفافے میں ،گتے کے ڈبے میں بند ہو یا پولی تھین کے پاؤچ میں ، جما کر دہی کی شکل میں بدلا ہو یا پکا کرمٹھائی میں، مکھن ہو یا پنیرہو، بیکری ہو یا آئس کریم، یا پھر کالی چائے کو سفید کرنے والا محلول ؛قابلِ قبول ہے۔ ہاں اگر دودھ ہو یا دودھ کی کسی بھی پروڈکٹ کی تیاری میں جانور سے حاصل ہونے والے دودھ کا عمل دخل نہیں، تو چاہے اسے جو مرضی نام دیکر جیسی بھی خوبصورتی سے پیش کریں، قبول کرنے سے پہلے سوچنا ضرور پڑے گا۔
گوالے سے کہا کہ شرم کرو کہ دودھ میں پانی ملاتے ہو، کہنے لگا خدا قسم پانی ہی ملاتا ہوں اور فارمالین تو نہیں، پھر شرم کس بات کی۔ دودھ میں ملاوٹ تو ایک طرف کیمیکلز اور مختلف غیر معیاری پاؤڈروں سے بنے دودھ کے خلاف صحیح معنوں میں کریک ڈاؤن ہونا چاہئے ۔ اس سلسلے میں صرف ڈبوں یا لفافوں میں پیک دودھ تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ کھلے دودھ اور خشک و مائع ٹی وائٹنر کے ساتھ ساتھ دودھ اکٹھا کرنے والے ہر سسٹم کی گہرائی تک جا کر اصل حقیقت معلوم کرنی چاہئے۔ صرف دودھ تک ہی نہیں بلکہ دودھ سے بننے والی اشیاء مکھن، گھی، پنیر، مٹھائیوں اور بیکری تک کو اس دائرہ کار میں لانا چاہئے۔ مقصد صرف یہ جاننا ہے کہ دودھ کے نام پر جو ہمیں پلایا یا کھلایا جا رہا ہے کیا وہ اصل میں جانور سے حاصل ہونے والا دودھ ہے یا کچھ اور ۔
ایک بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ پاکستان میں ویٹرنری سیکٹر کی بقا کا انحصار لائیوسٹاک کی بقا پر ہے اور لائیوسٹاک کی بقا کا انحصار فارمر اور سرمایہ دار کی کوشحالی پر ہے جبکہ فارمر اور سرمایہ دار کی خوشحالی کا انحصار لائیوسٹاک سے حاصل ہونے والی اشیاء کی مارکیٹ پر ہے۔ لائیوسٹاک سیکٹر کی بنیادی پراڈکٹ دودھ ہے۔ ہمارے لائیوسٹاک سے حاصل ہونے والے دودھ کا استعمال ہمارے ملک میں، چاہے کسی بھی شکل میں ہو ، ہونا بہت ضروری ہے ۔ تین چار پانچ سو پروفیشنلز جو دودھ کے کولیکشن سسٹم سے تعلق رکھتے ہیں ،دودھ کے پیکنگ سسٹم کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے اور کوالٹی اور معیار کے گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگاتے ہیں؛ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں کسی بھی جگہ پیک یا پراسیس ہونے والا دودھ ، دودھ ہی ہے اور اس پیکٹ میں ہلتے مائع کا قطرہ قطرہ جانوروں سے حاصل ہوتا ہے ، تو بہت اچھی بات ہے۔ آبادی میں تیزی سے اضافے کے ساتھ جیسے جیسے دودھ کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے ویسے ویسے ڈبے کی دودھ کی مارکیٹ بڑھے گی، فارمر سے زیادہ سے زیادہ دودھ خریدا جائے گا، اس کے دودھ کی وقعت ہو گی تو وہ اچھا کمائے گا ، خوشحال ہو گا اور جانوروں کی تعداد میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ لائیوسٹاک سیکٹر ترقی کرے گا اور لائیوسٹاک سیکٹر سے متعلقہ سارے پروفیشنلز کے لئے کام کے مواقع بڑھیں گے۔ ہاں اگر صورت حال اس کے برعکس ہے اور یہ چند لوگ اپنی نوکریاں بچانے کے لئے مجبوری نعرے لگاتے ہیں جبکہ ڈبوں اور لفافوں میں جانوروں سے حاصل ہونے والا دودھ برائے نام ہوتاہے تو پھرغیر معیاری پاؤڈر اور کیمیکل کی اہمیت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا، جانوروں اور ان کے دودھ کی وقعت میں کمی آتی چلی جائے گی، فارمر اور سرمایہ کار تباہ ہوتا جائے گی، فارم اور باڑے بند ہوتے جائیں گے، کولیکشن سسٹم کی ضرورت نہیں رہے گی، یہ چند لوگ ڈاؤن سائزنگ کا شکار ہو کر گھروں کو آ جائیں گے، لائیوسٹاک تباہ ہو جائے گا اور یہ قوم دودھیا کیمیکل پی پی کر طاقتور ہونے کے دعوے کرتی رہے گی۔ اورایک بات اورکہ لائیوسٹاک کی تباہی کا مطلب ہے کہ پروفیشن کی تباہی۔
ہاں تو اب ماہرین کی اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے کہ درست سیمپلنگ اور ٹیسٹنگ کے بعد اصل رپورٹ سامنے آئے۔ اخلاقی اس طرح کہ اس قوم کے بچوں کی زندگیوں کا تعلق اس معاملے سے ہے اور پیشہ ورانہ اس طرح کہ اس وقت لائیوسٹاک سیکٹر دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایسے مواقع بار با نہیں آتے۔ اگر آج مفادات اور دباؤ کامیاب ہو گئے تو پھر ناکامی لائیوسٹاک سیکٹرکی ہو گی ۔