جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریاں 

Zoonosis, zoonotic

جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریاں
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
کسی چیز کا ٹھیک کام نہ کرنا، جسمانی یا دماغی حالت کا درست نہ ہونا ، ایسی کیفیت جس میں جسم کے کسی عضو یا نظام کا غیر معمولی ہو جانا۔۔ بیماری کی متفرق تعریفیں ہو سکتی ہیں۔ سوسائٹی میں ایسا مسئلہ جوسیدھا نہ ہو سکتا ہو بھی بیماری ہی کہلاتا ہے۔ بیماری جسمانی بھی ہوسکتی ہے اور ذہنی بھی ، ضمیر کی بھی ہے اور روحانی ایک طرف ۔ بیماری مقدر ہو سکتی ہے ہر سانس لینے والی چیز کا ہاں مگر کسی مکینیکل شے کے ٹھیک کام نہ کرنے کو بھی بیماری کہہ دیتے ہیں۔ انسان کی بیماریاں، جانوروں کی بیماریاں، پرندوں کی بیماریاں، پودوں کی بیماریاں، فصلوں کی بیماریاں، آبی حیات کی بیماریاں۔
سوچا تو یہی تھا کہ کسی بیماری کو لے کر انڈے کی اہمیت کا ذکر کرتا ۔۔ اس کی غذائیت، اس کے فوائد، اس کی طلسماتی خصوصیات ،اور بہتر استعمال ۔۔ سب لکھتا۔ کچھ دن قبل ہی تو انڈے کا عالمی دن گزرا، مگر بات تھو ڑی پرانی ہو گئی۔ نہیں لکھ سکا کہ ایک بیماری جس نے ساری قوم کو لپیٹ رکھا تھا۔ اقتدار سے چمٹے رہنے کی بیماری، حوسِ اقتدار کی بیماری، ڈھٹائی پن کی بیماری، ضد کی بیماری، وعدے کرنے اور پھر نہ نبھانے کی بیماری، اپنی بات سے پھر جانے کی بیماری، کسی کے اشاروں پر ناچنے کی بیماری، اپنی انگلیوں پر نچانے کی بیماری، بے یقینی پیدا کرنے کی بیماری، جو منہ میں آئے بول دینے کی بیماری اورسب سے بڑھ کر دولت لوٹنے اورپھر اس لوٹی ہوئی دولت کو بغیر شور والی کمپنیوں میں چھپانے کی بیماری اور آخر میں اپنے آپ کو احتساب سے بالا تر سمجھنے کی بیماری۔ یہ تو شاید بڑوں کی بیماریاں ہیں لیکن ایک ذہنی بیماری جو ساری قوم کو لاحق رہی اس کانام تھا “اب کیا ہو گا” ۔دو چار دن ملک بند رہا، غریب کی دیہاڑی مری اور اس نے مار بھی کھائی، ہاں مگر بڑوں کی جیت ہو گئی۔ جیت سب کی،کوئی ہارا نہیں۔ ایک طرف اس بات کا جشن کہ “کچھ نہیں ہوا” اور دوسری طرف جشن کے ساتھ ساتھ شکر بھی کہ” اب سب کچھ ہو گا” ۔ دونوں جانب سے کوششیں ہوتی رہیں کہ اپنی اپنی لگائی ہوائی آگ ٹھنڈی ہوجائے،اپنے اپنے فیصلوں اور اپنی اپنی حرکتوں پر تاویلیں دیتے رہے۔ لیکن اب پھر سب کچھ ویسے ہی چلے گا،کیمرے کے سامنے لڑنے والے آف دی ریکارڈ گلے ملیں گے، ایک دوسرے کا احترام کریں گے، ایک دوسرے کے مفادات کو تحفظ دیں گے، ایک دوسرے کی خوشی غمی میں شرکت کریں گے ۔ دوسری طرف بیچارے چھوٹے اب بھی ان بڑوں کے فیصلوں پر باہم سینگ لڑاتے اس بحث میں مصروف ہیں کہ ہمارا لیڈر جیتا، تمہارا ہار گیا ۔ ۔ نہیں نہیں تمہارا ہا را ، ہمارا جیت گیا، اور مقدر میں وہی دھکے۔ افسوس کہ بیماری اس سب کے بعد بھی وہی ہے کہ ” اب کیا ہو گا” ۔
تو بات ہو رہی تھی جسمانی بیماری کی۔ ساری بیماریاں ایسی نہیں جو پھیلتی نہیں، ایک انسان سے دوسرے انسان کو ، ایک جانور سے دوسرے جانور کو اور ایک پودے سے دوسرے پودے کو لگ جانے والی بہت سی بیماریاں ہیں۔ جانوروں سے انسانوں میں بھی پھیل سکتی ہیں،انہیں زوونوٹک (Zoonotic Diseases)اور اس عمل کو زونوسس (Zoonosis)کہتے ہیں ۔ کچھ براہِ راست جانور سے انسان میں اورکچھ کیڑے یا کسی اور جاندر کے ذریعے منتقل ہو تی ہیں ۔ Rabies جو کتے کے کا ٹنے کی وجہ سے مشہور ہے۔ چیچڑ کے ذریعے منتقل ہونے والی مشہور بیماری کانگو کا بخار جس کا پچھلے دنوں خوب ذکر ہوا۔ سوائن فلو اور برڈ فلو (Avian Influenza)سے بھی واقف ہیں ۔ ان کے ساتھ ساتھ اینتھریکس، بروسیلوسس، گلینڈرز، اور ٹی بی جیسی جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی اور بہت سی بیماریاں ہیں ۔
ایک نئی سوچ One World, One Health جس کے مطابق جانوروں کی بیماریاں اور صحتِ عامہinterlinked ہیں ، ان کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا پڑے گا۔ خوراک، نقل وحمل اور کھیتی باڑی کے ساتھ ساتھ انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ ہیں جانور۔ تعداد کم نہیں ان افراد کی جن کا براہِ رست واسطہ ہے جانوروں سے اور لائیوسٹاک پروڈکٹس کا استعمال تو ہے ہی بہت عام ۔بالواسطہ یا بلا واسطہ جانوروں سے تعلق رکھنے والی انسانی بیماریاں 65 فیصد سے زائد ہیں ۔ اب جانوروں کی بیماریاں اور خصوصاََوہ بیماریاں جو انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہوں، اس ایشو کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔ ماہرین کی ایک ایسی ٹیم ہونی چاہئے جو پاکستان میں Zoonotic Diseases کی فہرست تیار کرے اور سفارشات مرتب کرے کہ اس ضمن میں کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ پبلک ایوئرنیس پر کام کرنا بھی ضروری ہے کہ جو لوگ جس سطح پر بھی جانوروں سے منسلک ہیں وہ ان کی صحت کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی محفوظ رکھیں اور ا س سلسلے میں و یکسی نیشن اور دیگر حفاظتی اقدامات کے لئے میڈیکل اور ویٹرنری پروفیشنلز دونوں کی خدمات حاصل کریں۔
Zoonotic Diseases پر ویٹرنری ڈاکٹرز،میڈیکل ڈاکٹرز اور فوڈ ٹیکنالوجسٹس کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ اسی اہم موضوع پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی ویٹرنری سائنسز فیکلٹی نے چند دن پہلے انٹرنیشنل زونوسس کانفرنس کا انعقاد کیا۔اس دوسری سالانہ کانفرنس میں مقامی سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ماہرین نے بھی شرکت کی ۔ پروفیسر ڈاکٹر مسعود اختر اور ان کی ٹیم داد کی مستحق ہے کہ انہوں نے ایک اچھاآغاز کیا۔ اس سرگرمی سے زونوسس اور پبلک ہیلتھ سے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کام کرنے کاپلیٹ فارم مہیا ہو گیا۔ ا سی طرح کی مزید سرگرمیوں کی ضرورت ہے،مزید اقدامات کی بھی ضرورت کہ صحت عامہ، انسانی خوراک اور لائیوسٹاک اور لائیوسٹاک پروڈکٹس کی برآمدات کے ساتھ ساتھ درآمدات کا انحصار اس اہم ایشو پر ہے۔