قربانی کے جانور اور چند احتیاطیں

Congo Fever, Qurbani Animals

یہ کالم ستمبر 2016 میں لکھا گیا

قربانی کے جانور اور چند احتیاطیں
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
تیاریاں عروج پر ، منڈیاں سجی ہیں اور قربانی کے جانور ہیں لوگوں کے قریب ہوتے جاتے۔ کالے، چٹے ، بھورے کٹوں بچھڑوں کے ساتھ ساتھ بکرے، چھترے، دنبے اور اونٹ تو ایک طرف ،گزشتہ چند سالوں سے ان منڈیوں میں بھاری بھرکم، ذرا مختلف رنگوں اور شکلوں کے بچھڑے بھی دیکھائی دے رہے ہیں ۔ نئی چیز ہے ، اب نئے نئے شوشے تو چھوڑے ہی جائیں گے۔ شکوک و شبہات پیدا کئے جا رہے ہیں چند دانشوروں کی جانب سے جانوروں کی ان الگ نسلوں بارے ۔ ایک ٹی وی چینل نے تو گزشتہ سال ان بے زبانوں کو موضوع بناتے ہوئے Peak Hour میں پورے کا پورا پروگرام کر ڈالا۔ ارد گرد سے معلومات اکٹھی کرکے محترمہ اس در پے تھیں کہ ان جانوروں کا گائے کی جنس سے کوئی تعلق ہی نہیں،کچھ اور ہی قسم کے جانور ہیں اور تاثر دیا کہ حلال نہیں۔ اگر تھوڑی تحقیق کر لی جائے یا پھر محنت کر کے متعلقہ شعبہ کے سماج آشنا ماہرین سے رابطہ کر لیا جائے توایسی حقیقت بیان کرنے سے بچا جا سکتا ہے جو بے بنیاد ہونے کے ساتھ ساتھ شرمندگی کا بھی باعث بنے۔
اصل میں گزشتہ چند سالوں سے پاکستان میں اسٹریلیا، یورپ اور امریکا سے گائیوں درآمد کا سلسلہ جاری ہے۔ نہ صرف ہزاروں کی تعداد میں ان ممالک کی مختلف نسلیں پاکستان میں آ چکی ہیں بلکہ ان نسلوں اور گائیوں کی مقامی نسلوں کے ملاپ سےMixed نسلیں بھی سامنے آرہی ہیں۔ دوسری جانب مختلف ممالک سے Semen منگوا کر مصنوعی طریقہ نسل کشی کے ذریعے دوغلی نسل کے جانوروں کا حصول بھی جاری ہے جنہیں Crossbred Animals کہتے ہیں۔ اب ان مخلوط النسل جانوروں کی شکل و صورت اور خواص میں نصف حصہ اس غیر ملکی نسل کا بھی ہو گا جس نے اس کی پیدائش میں ماں یا باپ کا کردار ادا کیاہو ۔ یہی وجہ ہے کہ منڈیوں میں اجنبی بھی ملتے ہیں جو گائے کے بچے ہیں اور حلال ہیں۔ قربانی کے لئے یہ شرط تو نہیں کہ پاکستان کی ساہیوال یا چولستانی نسل کا بچھڑا ہی حلال ہے۔ بچھڑا چاہے بیلجئیم کی Belgian Blue کا ہو یا امریکہ کی فریزئن کا یا پھر اس کا تعلق پاکستان کی داجل نسل سے ہو، قربانی کے لئے جائز ہے۔اسٹریلیا یا یورپ میں رہنے والا مسلمان ہالسٹین فریزئن نسل کے جانور کی قربانی ہی کرے گا، اب اس کے لئے کیسے لازم قرار دیا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستان کی دھنی نسل کا بچھڑا قربان کرے۔ایک مسلمان چاہے امریکی ہو یا چینی، عربی ہو یاافریقی، گورا ہو یا گندمی ،دنیا کے کسی بھی کونے سے تعلق رکھنے والی گائے، بھینس، بھیڑ، بکری، اونٹ کی کسی بھی نسل کی قربانی کر سکتا ہے۔لہٰذا مخلوط النسل جانوروں کے بارے شکوک و شبہات پیدا کرنی کم علمی کے سوا کچھ نہیں۔
کوشش کریں کہ دن کے وقت جانور کی خریدار ی کے لئے جائیں۔ بچوں کو ساتھ لے جانے سے اجتناب کریں۔ بند جوتے یا بہتر ہے کہ جوگر پہن لیں۔ کسی سیانے کو ساتھ لے جائیں جو شرعی طور پرقربانی کے قابل جانور کی پہچان رکھتا ہو۔ چست، صحت مند اور صاف ستھرا جانورخریدیں۔ یقین کر لیں کے اس کے جسم پر زخم تو نہیں، سینگ ٹوٹے تو نہیں، دانت پورے ہیں، چلتا ٹھیک ہے، آنکھیں درست ہیں وغیرہ۔ جانور والے پر اعتبار کرنے کی بجائے ہر چیز کی تسلی خود کریں۔چھوٹے جانور کی صورت میں تو ٹھیک مگر بڑے جانور کو گھر لانے کے لئے کسی ایسے شخص سے مدد لیں جو جانور کو سنبھال سکتا ہو۔ ایسی جگہ پر نہ باندھیں جہاں پھسلن ہو۔ جانور کی جگہ کی صفائی رکھیں اور اسے موسم کی شدت سے بچائیں۔ دانہ ،کھل، چوکر وغیرہ دینے کی بجائے تازہ سبز چارہ اور صاف تازہ پانی مہیا کریں،اس سے جانور کا معدہ خراب نہیں ہو گا۔ مزید دالیں، دودھ ، سوڈے کی بوتلیں، تیل وغیرہ دینے سے بھی اجتناب کریں۔ بہتر ہے جانور کے مالک سے پوچھ لیں کہ وہ کیا کھلاتا ہے بشرطیکہ اس نے خود پالا ہو اور پھر وہی کھلائیں، لیکن تازہ سبز چارہ بہترین انتخاب ہے۔اگر خدانخواستہ جانور بیمار ہو جائے تو ارد گرد گھومنے، ٹوٹکے تلاش کرنے یا نیم حکیم کے مشوروں کی بجائے اپنی علاقے کے ویٹرنری ہسپتال یا ویٹرنری ڈسپنسری سے رابطہ کریں ۔
آجکل چونکہ کانگو کا خدشہ ہے تو اس سلسلے میں ڈرنے کی نہیں بس احتیاط کی ضرورت ہے۔ منڈی میں جاتے ہوئے پورے کپڑے پہن کر جائیں، ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں تاکہ جسم پر کوئی کیڑا ہو تو نظر آجائے، ہاتھوں پر پلاسٹک کے دستانے وغیرہ چڑھا لیں۔ جانور کی قربانی کے لئے کسی ماہر کو ذمہ داری سونپیں، خو ن کو جسم پر لگنے سے بچائیں، دستانوں کا استعمال کریں ۔ ذبح کرنے کے بعد خون والی جگہ کو دھو دیں۔ کھال کو احتیاط سے اتاریں کہ اس میں ٹک نہ لگیں، ناقص کھالیں ملکی سطح مالی نقصان کا باعث بنتی ہے۔ گوشت بنانے کے لئے کسی صاف جگہ کا انتخاب کریں۔ الائشوں کو گلی محلوں میں کھلے عام پھینکنے کی بجائے کسی شاپر وغیرہ میں باندھ کر مناسب جگہ پر ٹھکانے لگائیں۔ کھال جلد مستحق تک پہنا دیں۔قربانی سے فارغ ہو کر مکمل صفائی کریں اور چھریاں وغیرہ دھو کر رکھیں۔ یاد رکھیں کہ احتیاط ہی میں سب کی بہتری ہے۔