دودھ ضرور پئیں مگر تھوڑا دیکھ کر 

Real Milk, Milk Quality, World Milk DAy

دودھ ضرور پئیں مگر تھوڑا دیکھ کر 
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
اگرچہ دنیا کے کچھ حصوں میں گدھی، گھوڑی، ہرن سمیت چند دوسرے جانوروں کا دودھ بھی انسانی خوراک کا حصہ ہے مگردنیا بھر میں سب سے زیادہ گائے کا دودھ پیا جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھینس ،بھیڑ، بکری اور اونٹ کے دودھ کا استعمال بھی عام ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا دودھ بھینس کا ہے۔ اس کے بعد گائے کی باری آتی ہے۔ بھیڑ، بکری اور اونٹنی کے دودھ کا بھی استعمال ہے مگر بہت زیادہ نہیں۔ خوشی اور اطیمنان کے ساتھ ساتھ وہ گھر فخر بھی محسوس کرتا ہے جہاں بھینس کا خالص دودھ میسر ہو ۔ اگر بھینس کے دودھ میں گائے کا دودھ مل جائے تو بھی پسند کر ہی لیا جاتا ہے۔ مجبوری میں ان کے دودھ میں پانی کا استعمال بھی برداشت ہوتا ہے۔ اگر کسی جگہ بھیڑ بکری کا دودھ گائے اور بھینس کے دودھ کے ساتھ ملا ہو تو بھی قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔ ہاں اگر گائے بھینس بھیڑ بکری اونٹنی کے ساتھ ساتھ کسی بھی جانور کا تصور ہی نہ ہو اور دودھ بھی پیدا ہو جائے اور ہو بھی گاڑ ھا ، اچھا اور خالص، تو پھر سوچنا ضرور چاہئے۔
ایک وقت تھا کہ دیہی علاقوں میں ہر گھر میں جانور موجود ہوتا، دودھ کی بہتات ہوتی جبکہ اس کا فروخت کرنا معیوب سمجھا جاتا ، وقت بدلا اور بدلتا گیا۔ آج چھوٹا فارمر ہے جس کے پاس چند جانور ہیں، بڑے فارمر ہیں جن کے پاس جانور زیاد ہ ہیں۔ اگر کمرشل فارموں کی طرف نظر دوڑائیں تو چند جانوروں والے چھوٹے فارم اور چند سو جانوروں پر مشتمل درمیانے فارموں کے ساتھ ساتھ ہزاروں جانوروں پر مشتمل کارپوریٹ ڈیری فارم بھی موجود ہیں۔ کوئی دودھی کو دودھ دیتا ہے، کوئی کسی دوکان پر پہنچا دیتا ہے، کسی نے بڑے شہروں میں سپلائی کرنے والوں سے باندھ کر رکھی ہے اور کو ئی دودھ والی کمپنیوں کو دودھ دے رہا ہے، ابھی کمرشل فارموں نے اپنے آؤٹ لیٹس اور برینڈز بنانے کے ساتھ ساتھ بڑے شہروں میں گھروں کی سپلائی کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ مگر بد قسمتی سے خوش کوئی بھی نہیں۔
ان سب کے پاس ہے دودھ اور وہ بھی خالص اور اصلی۔ اب اصلی اور خالص دودھ پیدا کرنے کے لئے جانور کا ہونا ضروری ہے ۔ صرف جانور کی موجودگی سے کام نہیں چلتا، اس کے رہنے کے لئے مناسب جگہ، اس کے آرام کے لئے سہولیات ، بیماری سے بچاؤ کے لئے ضروری اقدامات اور اس کے دودھ دینے کے لئے معیاری خوراک کی بھی ضرورت ہے۔جانور والا چاہتا ہے کہ کم سے کم لاگت میں زیادہ سے زیادہ دودھ حاصل کرے اور اسی کے لئے وہ کوشاں ہے ۔ مگر افسوس کہ اس کو اس کوشش کا پھل نہیں ملتا ۔ اس کو تو قیمت تب ملے گی جب اس کے دودھ کی اہمیت ہو گی۔ لیکن جہاں ایک لیٹر سے کئی لیٹر بنانے کا فن ، پتلے دودھ کو گاڑھا کرنے کا فن، اسی دودھ کو چمکدار بنانے کا فن آتا ہو اور سب سے بڑھ کرجہاں جانور کے بغیر ہی دودھ تیار ہو جاتا ہو وہاں اس کے دودھ کی اہمیت کیاہو گی؟ جب اس کی چیز کی کوئی وقعت ہی نہیں تو پھر وہ کیسے خوشحال ہو ؟
حکومتِ پنجاب کہتی ہے کہ جانوروں کی تعداد گھٹ رہی ہے، ان کی پیداورمیں کمی آرہی ہے، چھوٹا فارمر دودھ کے کام سے بھاگ رہا ہے، دودھ سٹور کرنے والے چلر کباڑیوں کی دودکانوں پر پڑے ہیں، دودھ سپلائی کرنے والی گاڑیوں پر سے شناخت مٹ چکی ہے ۔ مگر دودھ کی مانگ کے ساتھ ساتھ سپلائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ باہر سے خشک دودھ آتا ہے ۔۔۔ صرف خشک ہی نہیں بلکہ گھٹیا خشک دودھ بھی ۔۔ بڑی تعداد میں آتا ہے ۔۔ اس کی مقدار میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔۔ بڑی کمپنیوں میں استعمال تو الگ، عام دوکانوں پر بھی فروخت ہوتا ہے ۔۔ غیر معیاری، کوئی چیک نہیں۔ جس کا جی چاہے ایک پیکٹ لے ،گرم پانی میں مکس کرے، کچھ اور گند ملائے اور دودھ بنا کر بیچ دے۔
چند دن قبل دنیا بھر میں دودھ کا عالمی دن منایا گیا۔ مقصد تھا کہ عام لوگوں کو دودھ کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے ۔ جس جگہ دودھ کی جگہ زہر پیا جا رہا ہو وہاں یہ دن کیا کرے گا ۔ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسزلاہوراور شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز میں بھی اس دن کو منایاگیا ۔ ہو سکتا ہے کہ کہیں اور بھی کوئی چھوٹی موٹی تقریب منعقد ہو ئی ہو۔ مگر اصل کارنامہ ویٹرنری یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا کاہے جنہوں نے بجٹ سے پہلے ایک مؤثر کمپین کا آغاز کیا اور اس بات پر زور دیا کہ باہر سے آنے والے خشک دودھ پر ڈیوٹی کو بڑھایا جائے تاکہ ہمارے لوکل دودھ کی اہمیت میں اضافہ ہو سکے ۔ اسی حوالے سے سیکرٹری لائیوسٹاک پنجاب نسیم صادق کی ذاتی کوششیں بھی قابلِ ستائش ہیں ۔ اس سے پہلے منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے خشک دودھ پر 100% ڈیوٹی کی سفارش بھی کی جا چکی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ سب کوششیں رنگ لاتی نظر آ رہی ہیں۔
خشک دودھ پر ڈیوٹی مزید بڑھے یا نہ بڑھے ایک طرف ، ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ جب بھی دودھ پئیں ، تھوڑا دیکھ ضرور لیا کریں کہ کیا پی رہے ہیں!