چڑیا گھر کی ہتھنی کی موت اور چند حقائق

Suzi, Elephant, Lahore Zoo

چڑیا گھر کی ہتھنی کی موت اور چند حقائق 
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
چھوٹی موٹی بیماری یا زخم کی صورت میں تو علاج کر دیا جاتامگر سوزی پر کبھی کسی بڑی بیماری کا حملہ نہیں ہوا۔ اس دفعہ پاؤں میں سوزش تھی۔ 10 مئی کوتکلیف ظاہر ہونے کے بعد چڑیا گھر کی انتظامیہ حرکت میں آئی اور علاج معالجہ شروع ہو گیا۔ ڈاکٹر مدیحہ ، ڈاکٹر وردا اور کرن سلیم موجودہ سہولیات کے ساتھ بھر پور کوشش کرتی رہیں۔ ڈاکٹر عاصم خالد اوریونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کے دیگر ماہرین بھی ساتھ رہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی کسی سے رابطہ ہو سکتا ،کیا گیا۔ ڈاکٹر بابر، ڈاکٹر سمن بھٹی، ڈاکٹر سیمویل شہزاد،جو لاہور چڑیا گھر کا حصہ رہے مگر ابھی پاکستان سے باہر کام کر رہے ہیں،وہ بھی سوزی کے علاج میں اپنی تجاویز دیتے رہے۔غیر ملکی دیگر متعلقہ ماہرین سے بھی آراء لی گئیں۔ جہاں تک ممکن ہو سکا چڑیا گھر کی انتظامیہ دن رات ایک کرکے سوزی کو بچانے کی کوششیں کرتی رہی۔
12 مئی کو سوزی کافی بہتر تھی مگرتکلیف کے باعث یہ گزشتہ تین دن سے بیٹھ نہیں سکی تھی۔ 13 مئی کو رات اڑھائی بجے کے قریب سوزی کی حالت اچانک بگڑی اور یہ بیٹھ گئی۔ اطلاع پر ڈاکٹر وردا گِل فوراََ چڑیا گھر پہنچیں اور کارروائی کا آغاز کیا۔تقریباََ چار گھنٹے تک سوزی موت سے لڑتی رہی اور موقع پر موجود عملہ اس لڑائی میں اس کی مدد کرتا رہا۔ اسی دوران اس نے اٹھنے کی کوشش بھی کی۔ دیوار کا سہار لیکر کچھ حد تک اٹھنے میں کامیاب تو ہوگئی مگر اپنے زیادہ وزن اور پاؤں میں تکلیف کے باعث پھسلی اور گر گئی۔ دوبارہ نہیں اٹھ سکی۔ صبح تقریباََ پونے سات بجے کے قریب یہ ہتھنی زندگی کی بازی ہارچکی تھی۔
بطور ڈاکٹر ایک جانور کو نہ بچا پانے کا غم تو ایک طرف ، چڑیا گھر میں موجود لوگوں کا ذاتی لگاؤتھا سوزی سے۔ سب سے بڑھ کر ڈاکٹر وردا گِل ، ڈاکٹر مدیحہ اشرف اور اس کے مہاوت ذیشان نے اسے اپنے سامنے زندگی کی بازی ہارتے دیکھا۔ ڈاکٹر سمن بھٹی، ڈاکٹر زیب، ڈاکٹر بابر، ڈاکٹر سیمویل شہزاد، کرن سلیم، ڈاکٹر وردا گِل سب غمزدہ ہیں ۔ نہ صرف چڑیا گھر کی موجودہ انتظامیہ بلکہ جس کسی نے بھی سوزی کے ساتھ کام کیا وہ صدمے میں ہے۔
1988 میں افریقہ سے سوزی کو لاہور کے چڑیا گھر لایا گیا۔ اس وقت اس کی عمر پانچ برس کی تھی ۔تقریباََ29 سال گزارے اس نے لاہور شہر میں۔اس دوران ہر عمر اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے سوزی کے ساتھ وقت گزارا۔ یہ لوگوں کے ساتھ بہت فرینڈلی تھی۔ا یک وقت تک لوگ اس کی سواری سے لطف اٹھاتے رہے۔ اس کی سلامی لینے کے لئے بھی لوگوں کا ہجوم لگا رہتا۔ 2003 میں سوزی نے پینٹنگ کا بھی آغاز کر دیاتھا۔آج بچے بڑے سب سوزی کے چلے جانے پر افسردہ ہیں۔
جنگل میں ہاتھی 60 سے 65 سال تک زندہ رہ سکتا ہے مگر قید کئے ہوئے ہاتھی کی اوسط عمر 40 سال تک ہوتی ہے۔ چڑیا گھروں اور پارکوں میں عموماََہاتھی 18 سے 25سال تک کی عمر پاتے ہیں ۔ ہماری سوزی نے تقریباََ 34 سال کی عمر پائی جس میں سے 29 سال لاہور کے چڑیا گھر میں گزرے۔دنیا بھر میں ہاتھیوں کی موت کی بڑی وجہ Laminits اور بہت زیادہ جسمانی وزن ہے۔ یہاں بھی بنیادی طور پر سوزی کی موت کی وجہ یہی بنے۔ ساتھ میں یورک ایسڈ اور کولیسٹرول کی زیادتی جیسے بھی مسائل تھے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی کسی مخصوص بڑی بیماری کو وجہ قرار نہیں دیا گیا۔ تنہائی، پکا فرش ، تنگ ماحول ، بہت زیادہ وزن ،مخصوص خوراک کی عدم دستیابی اور ہاتھی کی ہینڈلنگ کے لئے متعلقہ مشینری اور آلات کی عدم فراہمی جیسے مسائل اگر نہ ہوتے تو شاید سوزی کچھ اور زندگی گزار لیتی ۔ لیکن ابھی بھی یہ اپنی طبعی عمر پوری کرنے کے بعد مری ہے۔ ان حالات میں چڑیا گھر کی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پر چڑیا گھر کے مسائل کے حل کے لئے زور ڈالا جائے۔انتہائی مشکل حالات اور قلیل وسائل کے باوجود یہ لوگ اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ ڈائریکٹر بیچارے کا کیا قصور، اس کے تو ہاتھ بندھے ہوتے ہیں۔ وہ بیچارا تو بے بس ہوتا ہے۔ ڈائریکٹر کو ہٹانے کا کچھ فائدہ نہیں سوائے یہ کہ اصل مسائل سے توجہ ہٹ جائے۔حکومت پنجاب کو چڑیا گھر کے اصل مسائل کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ ڈاکٹر بابر اور دیگر ماہرین کی آراء کے ساتھ اس سلسلے میں چند گزارشات کئے دیتا ہوں ۔
فنڈز کی دستیابی اور خود مختاری بہت ضروری ہے، فیصلہ سازی میں خود مختاری ۔ سرکاری مراحل ، افسر شاہی کے حکم نامے اور محکمانہ پیچید گیوں کی موجودگی میں اس طرح کے ادارے نہیں چل سکتے جہاں ایک نہیں ہزاروں جانوروں کو ڈیل کرنا ہو۔یہاں کاغذی کارروائی نہیں بلکہ بروقت فیصلے اور ایکشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب ادارہ، ادارے کا سربراہ اور اس کا بورڈ آف ڈائریکٹر اپنے فیصلے خود کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اس لئے ضروری ہے کہ صوبائی محکمو ں کی چھتری سے نکال کر چڑیا گھر کو ایک حقیقی خود مختار ادارے کا درجہ دیا جائے۔
چڑیا گھر میں کام کرنے والے ویٹرنری ڈاکٹر سے متعلقہ بہت سے مسائل ہیں۔جو بھی ڈاکٹر چڑیا گھر کا حصہ بنتا ہے وہ مستقل نہیں ہوتا۔ یا تو کنٹریکٹ پر ہو گا یا محکمہ لائیوسٹاک یا محکمہ وائلڈ لائف سے ڈیپوٹیشن پر آئے گا۔دوسری جانب اس ڈاکٹر کے پاس zoological medicine کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ اس کے سیکھنے کا عمل شروع ہی اس وقت ہوتا ہے جب وہ چڑیا گھر کا حصہ بنتا ہے ۔ تین چار سال کام کرنے کے بعد اگر وہ اس قابل ہوبھی جائے کہ چڑیا گھر کے جانوروں کو سمجھ سکے تو اس موقع پر یا تو اس کا کنٹریکٹ ختم ہو جاتا ہے یا پھر اس کی ذمہ داریاں اس کے آبائی محکمے کے حوالے کر دی جاتی ہیں۔ پھر ایک فریش ڈاکٹر آ کر نئے تجربے شروع کر دیتا ہے جس میں اس کا کوئی قصور نہیں ہوتا کہ اسے یہ سب کچھ پڑھایاہی نہیں گیا۔ اس لئے ویٹرنری ڈاکٹر کے تعلیمی نصاب میں چڑیا گھر اور وائلڈ لائف کے حوالے سے مزید اسباق کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔اِس کو اٹھا کر اُدھر لگا دو، اُس کو اِدھر بھیج دو، اس طرح نہیں چل سکتا چڑیا گھر۔ یہاں مستقل ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کا ہونا بہت ضروری ہے جن کو بین الاقوامی معیار کے مطابق معاوضہ اور مراعات دی جائیں تاکہ وہ نہ صرف ایک لمبا عرصہ یہاں گزاریں بلکہ نئے آنے والوں کی بھی ساتھ ساتھ ٹریننگ کرتے رہیں۔
جانوروں کو سنبھالنے والا پڑھا لکھا نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو animal keeper گریجویٹ ہوتا ہے zoology کے مضامین میں، ہمارے ہاں چلو میٹرک سائنس پاس ہی ہو جائے۔ پڑھا لکھا ہو گا تو جلدی سمجھ پائے گا کہ چڑیا گھر کی نوکری ٹائم باؤنڈڈ نہیں۔ یہاں پر کام کرنے والا 24/7 آن ڈیوٹی ہوتا ہے۔ اس کے لئے صرف پڑھا لکھا سٹاف ہی نہیں بلکہ اس سٹاف کو مارکیٹ سے ہٹ کربہتر معاوضہ ملنا بھی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چڑیا گھر میں کام کرنے والے ڈاکٹرز، زوولوجسٹس اور اینیمل کیپر زکے لئے ٹریننگ ، ریفریشر کورسز اورinternational exposure ضروری ہیں تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور پریکٹسز کو جان سکے۔
ہر جانور کی سپیشل خوراک ہوتی ہے، لیکن لاہور چڑیا گھر میں لوکل خوراک پر جانوروں کو چلایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر بابر جیسے ماہرین کے مطابق ہاتھی کو کماد پر نہیں چلایا جا سکتا اس کے لئے elephant feed امپورٹ کرنا پڑے گی۔ اسی طرح ہر جانور کے لئے اس کی Scientific Based Balanced Feed کا ہونا ضروری ہے۔ فنڈز نہیں، اگر فنڈز ہیں تو استعمال کا اختیار نہیں۔ ادویات پوری نہیں، علاج معالجے کے لئے بنیادی آلات موجود نہیں، جانوروں کے وزن کرنے کا انتظام نہیں، بے ہوش کرنے کا مخصوص سامان موجود نہیں، جانوروں کو قابو کرنے کے لئے مخصوص سسٹم موجود نہیں۔ ان حالات میں ڈائریکٹر اور ڈاکٹر کیا کریں؟ یہ سب چیزیں مہیا کرنا ان کا کام نہیں، کام حکومت کا ہے۔
ایک ہسپتال اور اس کے ساتھ ڈائیگناسٹک لیبارٹری کا قیام اور ان دونوں کے لئے افرادی قوت کا انتظام ہونا بہت ضروری ہے۔ جانور زندہ چیز ہے، اس نے مرنا تو ہے، آج نہیں تو کل۔ مگر ضروری ہے کہ جب تک وہ زندہ رہے ، بنیادی حقوق کے ساتھ خوش رہے۔ اس کی خوشی کے لئے حکومت کو بنیادی مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کرنا پڑیں گے ۔ اگر اس جانب توجہ نہ دی گئی تو پھر اسی طرح حالات بگڑتے جائیں گے اور ڈاکٹر اور ڈائریکٹر کی قربانی سے ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں گی۔