پاکستان کا ریڈ اور بلیک گولڈ

پاکستان کا ریڈ اور بلیک گولڈ ڈاکٹر

محمد جاسر آفتاب

شہروں سے دور شاداب کھیتوں کے پیچھے موجود کچے مکانوں کا رخ کریں، شاید ہی کوئی ایسا آشیانہ ملے جہاں مال مویشی نہ ہوں۔ اس ملک کے زرخیزمیدانوں، صحرائی علاقوں اور پہاڑی سلسلوں کے ساتھ ساتھ گنجان شہر وں اور ان کے اطراف میں موجودانسانوں کو فائدہ پہنچانے والے ان بے زبانوں کا شمار کریں تو معلوم ہو گا کہ چار کروڑ بارہ لاکھ سے زائد گائیں،ساڑھے تین کروڑ سے زائد بھینسیں، دو کروڑ چرانوے لاکھ سے زائدبھیڑیں، چھ کروڑ چراسی لاکھ سے زائد بکریاں اور دس لاکھ سے زائد اونٹ ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں۔ اکنامک سروے آف پاکستان میں دیے گئے ان اندازوں پر مبنی اعداد و شمار کے ساتھ اگر لائیوسٹاک کی مردم شماری 2006 کی روشنی میں تھوڑا کھیلا جائے تو معلوم ہو گا کہ پنجاب کے حصے میں دو کروڑ سے زائد گائیں،دو کروڑ تیس لاکھ سے زائد بھینسیں،ستر لاکھ سے زائد بھیڑیں، اڑھائی کروڑ سے زائد بکریاں اور دو لاکھ سے زائد اونٹ، سندھ کے حصے میں چھیانوے لاکھ سے زائد گائیں، پچانوے لاکھ سے زائد بھینسیں،چوالیس لاکھ سے زائد بھیڑیں، ڈیڑھ کروڑ سے زائد بکریاں اور انتیس لاکھ سے زائد اونٹ ، خیبر پختونخواہ کے حصے میں تراسی لاکھ سے زائد گائیں، پچیس لاکھ سے زائد بھینسیں، سینتیس لاکھ سے زائد بھیڑیں ، ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد بکریاں اور چھ لاکھ سے زائد اونٹ ،جبکہ بلوچستان کے حصے میں تیس لاکھ سے زائد گائیں، چار لاکھ سے زائد بھینسیں، ایک کروڑ بیالیس لاکھ سے زائد بھیڑیں ، ایک کروڑ انچاس لاکھ سے زائد بکریاں اورچار لاکھ سے زائد اونٹ آتے ہیں۔ قدرت نے بہت کچھ دیا ہے مگر ہمیں قدر نہیں۔
بھینس جو اس خطے کا پسندیدہ جانور ہے اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو خاص تحفے سے نوازا ہے۔ نیلی راوی نسل کی بھینس اپنے غیر معمولی اوصاف کی بنا پر دنیا کی بہترین بھینس مانی جاتی ہے۔ راوی اور ستلج سے منسلک علاقوں سے تعلق رکھنے والی یہ کالی ملکہ اپنے جسم پر پانچ مخصوص سفید دھبوں کی موجودگی کے باعث پنج کلیان کہلاتی ہے ۔اسی کو Black Gold of Pakistan کا خطاب بھی دیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ قدرت ایک اورعظیم نعمت Red Gold of Pakistan بھی ہمارے حصے ہی میں ہے۔ یہ ساہیوال نسل کی گائے ہے جو دنیا بھر میں اپنی غیر معمولی خصوصیات کی بنا پر رشک کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ گائے، بھینس بھیڑ، بکری ، اونٹ کی شکل میں گھر گھر لگے یہ قدرتی کارخانے اس قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں ۔ یہ کارخانے دودھ اور گوشت پیداکرنے کے ساتھ ساتھ گڈز ٹرانسپورٹیشن جیسی سروسز بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ بے زبان محض کارخانے ہی نہیں بلکہ کسان کی اے ٹی ایم مشین بھی ہیں۔ خوشی غمی میں کسان اسی اے ٹی ایم سے رابطہ کرتا اور یہ اس کی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ یہ اے ٹی ایم مشینیں دیہی معیشت کی اساس ہیں۔ یہ کارخانے ملکی معیشت کی شہ رگ ہیں۔
کیا ہی اچھا ہو کہ حکومت ان قیمتی کارخانوں کے مالکوں کو ان کارخانوں کو چلانے کا ہنر سیکھا دے ، ان سے حاصل ہونے والے مصنوعات کے لئے اچھی منڈیاں مہیا کر دے، ان مصنوعات کی ترسیل کے لئے سپلائی چین کا انتظام کر دے۔ اگر حقیقی معنوں میں ان کارخانوں پر توجہ دے دی جائے توپھر ملکی معیشت کو کوئی خطرہ نہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں موجود یہ لائیوسٹاک ایک بڑی سرمایہ کاری ہے، اب اس سرمایہ کاری کا صحیح استعمال کرنے والا کوئی چاہئے۔فائدہ تو دور حکومتی پالیسیوں نے ہمارے لائیوسٹاک سیکٹر کو نقصان ہی پہنچایا ہے۔ غلط فیصلوں کے نتیجے میں ہمارا ریڈ گولڈ اور بلیک گولڈ خطرے میں ہے۔ ہمارے جانوروں کی نسلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ افسوس کہ دیگرقیمتی اثاثوں کی طرح یہ قدرتی اثاثہ بھی محفوظ نہیں ۔