مرغی اور دودھ کی بڑھتی قیمتیں

Broiler Price, Poultry Rate, eggs

یہ کالم 2016کے ۤغاز میں لکھا گیا

مرغی اور دودھ کی بڑھتی قیمتیں 
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
چوزے کی خریداری، فیڈ کے خراجات، ڈاکٹروں کی فیسیں، ادویات کا استعمال،ڈیزل کے خرچے، ہفتوں کی محنت ، اوراربوں کی سرمایہ کاری کو رسک پر لگانے کے باوجود گزشتہ تین سالوں سے پولٹری انڈسٹری شدید بحران کا شکار رہی۔ ایک طرف بیماریوں کے شدید حملے کئی کئی فارم اجاڑ تے رہے اور دوسری جانب مارکیٹ کے انتہائی کم ریٹ نے فارمر کو اٹھنے نہ دیا۔ چند ہفتے پہلے وہ دن بھی آیا جب مرغی کا ریٹ انتہائی کم قیمت پر آنے کے بعد مارکیٹ کریش کر گئی۔
پاکستان کی پولٹری انڈسٹری جس سے پندرہ لاکھ سے زائد افراد کا روزگار وابستہ ہے ،پاکستان میں سستی ترین پروٹین کا بہترین ذریعہ ہے۔ 400 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی کی بنیاد پر چلنے والی یہ انڈسٹری ملک میں 40 سے 50 فیصد گوشت کی ضروریات کو پورا کر رہی ہے۔ 2800 سے زائدفارمز ،400 سے زائد ہیچریز اور ڈیڑھ سو سے زائد فیڈ ملیں بغیر امیر غریب کی تفریق کے برائلر اور انڈوں کی سپلائی کو پاکستان بھر میں ممکن بنائے ہوئے ہیں۔
ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ نیشنل فوڈ سیکیورٹی میں اہم کردار ادا کر تی پاکستان کی اس دوسری بڑی انڈسٹری نے بہت برے حالات دیکھے ہیں۔ بیماریوں کے حملوں اور Cost of Production سے بھی کم مارکیٹ ریٹ نے سب کوہلا کر رکھ دیا۔ ان تمام حالات میں حکومت کی جانب سے کوئی سہارا نہ ملا۔ فارمز بند ہو تے گئے یا پھر بڑے بزنس گروپس کے پاس جاتے گئے ۔ اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو پھر انڈسٹری تباہ ہو جائے گا اور اس کا نقصان ملکی سطح دیکھنے کو ملے گا ۔
جب برائلر اسی روپے، سو رپے، ایک سو دس رپے، ایک سو بیس روپے میں فروخت ہو رہا تھا ۔۔ فارمر ہاتھ دھو بیٹھا تھا ۔۔ سرمایہ کار رو رہا تھا ۔۔۔ بیماریوں کے شدید حملے فارموں کو تباہ کر رہے تھے ۔۔ حکومت خاموش تماشائی بنی تھی۔ آج اگر پولٹری کا ریٹ بڑھا ہے تو حکومات جنبش میں آ گئی ہے۔ بڑھتے ریٹ کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے ٹیکس کی چھوٹ کے طعنے دیے جارہے رہیں۔ صرف پولٹری ہی نہیں بلکہ دودھ کی قیمت پر بھی اسی طرح کا شور مچایا جا رہا ہے اور اس سلسے میں وزارتِ خزانہ نے گزشتہ دنوں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی کہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ ڈونڈھی جائے۔
ہمیں اس بات کا فیصلہ کر لینا چاہئے کہ آیا قیمتوں کا تعین اوپن مارکیٹ کے تحت ہونا ہے یا پھر حکومت کی خواہش کے مطابق۔ اگر حکومت نے گوشت کے ریٹ میں مداخلت کرنی ہے تو ضرور کرے، مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ جن دنوں سرمایہ کار نقصان اٹھا رہا ہو اتب اس کا سہارا بھی بنے۔ اگر مشکل حالات میں حکومت کسی قسم کاتعاون نہیں کر سکتی تو پھر فائدے کے دنوں میں بھی مداخلت جائز نہیں۔یاد رکھیں کہ پولٹری کا ریٹ خالصتاََ ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی بنیاد پر اوپن مارکیٹ سسٹم کے تحت ہوتا ہے۔ اس لئے اس ریٹ کو اسی سسٹم کے مطابق طے ہونے دیا جائے۔ جن دنوں مرغی سستی ہو لوگ سستی خرید لیں اور جب مہنگی ہو تو اس کے مطابق قیمت ادا کر دیں۔
پولٹری تو ایک طرف دودھ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا تو غریب کسان کے ساتھ زیادتی ہے۔ جب جانور کی قیمت پر کوئی کنٹرول نہیں، جانور کے کھانے کے لئے چارے کی قیمت پر کوئی کنٹرول نہیں، چارہ اگانے والے بیچارے کسان کے لئے کھادوں ، ادویات اور بجلی کے نرخوں پر کنٹرول نہیں، جانورں کے لئے کھل چوکر کی قیمتوں پر کنٹرول نہیں، جانوروں کی ادویات پر کوئی کنٹرول نہیں تو پھر دودھ کی قیمت پر کنٹرول کیسا۔ فارمر دودھ کی پیداوار کے لئے تمام اشیاء مارکیٹ ریٹ پر لیتا ہے تو پھر اس کے لئے کیسے ممکن ہے کہ حکومت کے طے کردہ ریٹ پر دودھ بیچے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو چھوٹا فارمر اس کاروبار کو خیر باد کہتا جائے گا اور ہم سب جعلی دودھ پی کر خوشیاں مناتے رہیں گے۔ بہت ضروری ہے کہ دودھ کی قیمت بھی مارکیٹ کے مطابق طے ہونے دی جائے۔ جو شخص جس طرح کا دودھ خریدے وہ اسی طرح کی قیمت ادا کردے۔
واضح رہے کہ لائیوسٹاک اور پولٹری سیکٹر کا نیشنل فوڈ سیکیورٹی میں بنیادی کردار ہے ۔ اس کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ اس سے منسلک سرمایہ کار اور کسان خوشحال رہے۔