لائیوسٹاک سیکٹر کی تباہی اور خشک دودھ 

Dry Milk,Tea Whitner ,Milk Quality,

لائیوسٹاک سیکٹر کی تباہی اور خشک دودھ 
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
ویٹرنری یونیورسٹی کا پالیسی پیپر کہتا ہے اور ٹھیک کہتا ہے کہ گزشتہ تین چار سالوں میں خشک دودھ کی درآمد دگنی ہو گئی ۔ اس درآمد شدہ سوکھے دودھ کا دودھ اور بیکری سمیت دیگر ڈیری مصنوعات میں استعمال اور اس کے ساتھ ساتھ ڈیری لیکوڈ اور ٹی وائٹنر کے نام سے دیگر دودھ نما مصنوعات کی فروخت میں اضافہ مقامی اصلی دودھ کی وقعت اور مانگ میں کمی لا رہا ہے ۔اس سے پاکستان کا ڈیری فارمر تباہ ہوتا جا رہا ہے اوراس کی بڑی وجہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں سوکھے دودھ کی کم قیمت اور مقامی سطح پر کم ڈیوٹی ہے۔
لائیوسٹاک سیکٹر کبھی بھی حکومت کی ترجیح نہیں رہا اور جان کر شاید حیرانی ہو کہ حکومتِ پنجاب کی بھی ترجیح نہیں اور آج بھی نہیں، باجود اس کے کہ پچھلے تین سالوں میں پنجاب میں اس شعبہ پر قابلِ ذکر کام ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اس شعبہ کے اصل سٹیک ہولڈرز کی آواز نہیں سنی جاتی اور اسی شعبہ کو نقصان پہنچانے والے بد قسمتی سے نہ صرف اس شعبہ کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں بلکہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر اپنی بات بھی منوا لیتے ہیں۔
پاکستان کے لائیوسٹاک فارمرز جو تعداد میں بہت زیادہ ، اور بڑی تعداد میں دو تین جانوروں کے ساتھ ہیں ، اور ان کے ساتھ ساتھ تیس چالیس جانوروں والے کمرشل فارمرز ،یہ سب پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی کی لائف لائین ہیں۔ اگر کبھی وقت ملے تو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے پروفیسر عابد برکی کی ڈیری سیکٹر پر رپورٹ ضرور پڑھیے گا، فرماتے ہیں کہ ڈیری سیکٹر کی حقیقی ترقی کے لئے ان دو چار جانوروں والوں کے ساتھ ساتھ روایتی کمرشل فارمرز کو بچانا اور ان کو سہارا دینا انتہائی ضروری ہے۔
ان کو سہارا دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ بڑی سرمایہ کاری کرنے والے ان سے دودھ اکٹھا کر کے پیک کریں گے یا اس کی دیگر مصنوعات بنا کر مارکیٹ میں پہنچائیں گے۔ انہی کے دودھ کو خشک کر کے فروخت کرنے کے لئے پلانٹس بھی لگائے گئے تھے۔ مگر بدقسمتی سے ایسا ہوا نہیں اور سوکھے دودھ کی امپورٹ روز بروز بڑھتی چلی گئی۔ ان لوگوں کو سہارا دینے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں ان کی مصنوعات کی قیمت ملے اور قیمت اس وقت ملے گی جب ان کی مصنوعات کی وقعت ہو گی۔ لیکن جہاں لاکھوں ٹن سوکھا دودھ سستے داموں منگوا کر اور پھر پانی میں گھول کر کوالٹی کے ٹھپے لگاتے ہوئے فروخت ہوتا رہے ، تو وہاں چھوٹا طبقہ تو کیا کارپوریٹ ڈیری فارمز کی بھی وقعت نہیں رہے گی۔
بین الاقوامی اداروں کے مطابق پاکستان میں بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں ۔ چونکہ بچوں کی پسندیدہ اور بنیادی غذا دودھ اور دودھ کی مصنوعات ہوتی ہیں ، اس لیے ان پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ مگر بدقسمتی سے اصلی فیٹ اور پروٹین کو نکال کر ویجیٹیبل فیٹ اور دیگر نان ڈیری اشیاء شامل کر تے ہوئے آئس کریم سمیت دیگر ڈیری مصنوعات کی فروخت ہمارے بچوں کا مقدر ہے۔ دوسری جانب ڈیری لیکوڈ اور ٹی وائٹرنرز کا پسماندہ علاقوں میں دودھ کی جگہ بچوں میں استعمال ہماری نسلوں کو تباہ کر رہا ہے۔ ان حالات میں اگر ڈیری فارمرز کو سپورٹ اور اصلی دودھ کو پروموٹ نہ کیا گیا توحالات بدتر سے بدتر ہوتے چلے جائیں گے۔
یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ انیمل سائنسزلاہور کی جانب سے جاری کردہ پالیسی پیپر میں کچھ سفارشات مرتب کی گئی ہیں اوران سفارشا ت کے مطابق سوکھے دودھ پر کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو 45 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کیا جانا چاہئے اور اس طرح کی مصنوعات کی درآمد ویٹرنری اور ہیلتھ کے سٹینڈرڈز کے مطابق ہونی چاہئے۔ سیلز ٹیکس کی مد میں دودھ اور دودھ کی مصنوعات کے لئے زیرور ریٹنگ کا درجہ بحال کیا جانا چاہئے ۔ لائیوسٹاک کے شعبہ کو زراعت کے شعبہ کی طرح لیا جانا چاہئے اور جو سہولیات شعبہ زراعت کے لئے ہیں وہی ادھر بھی فراہم کی جانی چاہئیں ۔ ڈیری کے شعبہ میں استعمال ہونے والی مصنوعات جیسے فیڈ، ڈیری مشینری وغیرہ پر ڈیوٹی اور ٹیکس کو ختم یا کم کیا جانا چاہئے۔ دودھ اور گوشت کی قیمتیں کنٹرول کرنے کی بجائے انہیں خالص ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے اصول پر فروخت ہونے دیا جانا چاہئے۔ ڈیری مصنوعات کی کوالٹی کے معاملے میں قومی آگاہی مہم چلائی جانی چاہئے تاکہ کنزیومر کو اصل اور نقل کی پہچان ہو سکے۔ ڈیری سیکٹر کے لئے تمام سٹیک ہالڈرز کی مشاورت سے لانگ ٹرم ڈیری پالیسی مرتب کی جانی چاہئے ۔
کچھ اسی طرح کی سفارشات چند روز قبل حکومتِ پنجاب کے محکمہ لائیوسٹاک ، کراچی ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن اور دیگر سٹیک ہالڈرز کی جانب سے وفاقی حکومت کو بھی دی گئی ہیں جس میں کچھ حلقوں کی جانب سے خشک دودھ کی امپورٹ پر ڈیوٹی 150 فیصد بڑھانے اور کچھ کی جانب سے مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا۔
اگر دودھ اور دودھ کی مصنوعات کی کوالٹی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے سوکھے دودھ کی امپورٹ پر مکمل پابندی لگا دینی چاہئے اور دودھ پیک کرنے اور دودھ کی مصنوعات بنانے والی کمپنیوں کے لئے یہ لازم بنایا جانا چاہئے کہ وہ مقامی جانوروں کا دودھ اکٹھا کریں اور پھر اسی کوپراسیس کر کے بیچیں۔ اس کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہو گا کہ ہر کمپنی کے لئے یہ بتانا لازم قرار دے دیا جائے کہ کتنی مقدار میں دودھ کو پراسیس کیا اور دودھ کی اتنی مقدار کا source کیا ہے۔ اس طرح کے پراڈکشن آڈٹ کے ذریعے ہی اصلی معیاری دودھ فروخت ممکن ہے ورنہ پھر جعلی دودھ ہی ہماری نسلوں کا مقدر ہو گا۔