فوڈ سیکیورٹی اینیمل

 

Camel , Camel Milk Meat,


ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
عوام کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر مسلسل نظر انداز ہونے والا یہ جانورصرف عیدالاضحی پرہی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔خوراک پانی کی کمی اور شدید گرمی کی پرواہ کئے بغیر صحراؤں کی تپتی ریت پر راج کرنے والے اس چوپائے کی اب مال بردار ی کے لحاظ سے تو خاص اہمیت نہیں رہی البتہ تیزی سے بڑھتی دنیا کی آبادی اور پیدا ہوتے خوراک کے مسائل کے پیشِ نظر ریگستان کا یہ جہاز Food Security Animal کی حیثیت اختیار کرتا ضرور نظر آتا ہے ۔ دوسری جانب عربوں کے کھیل کود اور ہمارے میلوں ٹھیلوں میں اس کا الگ مقام ہے۔ 
بات کر رہا ہوں اونٹ کی جوسخت حالات میں معمولی خوراک کے بدلے بھی بہتر پیداور کی صلاحیت رکھتاہے۔ پینے کو پانی کم ملے تو دودھ کی پیداوار زیادہ ؛نظم و ضبط اور فرمانبرداری میں اپنی مثال آپ ، خشک سالی سے لڑنے کی اعلیٰ صلاحیت ؛ بیماریوں کے خلاف زبردست قوتِ مدافعت، خوراک اور پانی کے بغیر لمبا سفرکرنے سے کوئی گھبراہٹ نہیں۔ دودھ ہے تو قدرتی طور پر انسولین کی موجودگی کے باعث شوگر کے مریضوں کے لئے کارگر ہونے کے ساتھ ساتھ نمکیات اور وٹامن سی سے بھرپور۔ گوشت ہے تو کم کولسٹرول کے ساتھ ساتھ منفردنمکین ذائقہ ۔ سب سے بڑھ کر بیماریوں کے علاج میں دودھ اور گوشت کاروایتی طور پر استعمال اور سائنسدانوں کی جانب سے بھی شافی ہونے کی تائید سے اونٹ کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ 
دو طرح کے اونٹ ہیں؛ ایک کہان کے ساتھ میدانوں میں رہنے والا اور پہاڑوں کا باسی جس کی دو کہانیں ہیں۔ دنیا میں اونٹوں کی بڑی تعداد افریقہ میں ہے اس کے بعد ایشیااور پھر اسٹریلیا کا نمبر آتا ہے۔ اگر ایشیا کی بات کریں تو یہاں پائے جانے والے اونٹوں میں سے 70 فیصد کا تعلق پاکستان اور بھارت سے ہے ۔
اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق ہمارے ہاں دس لاکھ سے زائد اونٹ پائے جاتے ہیں جن کی بڑی تعداد بلوچستان میں ہے۔ افسوس کہ حکومت نے اس جانب کبھی خاص توجہ نہیں دی اور صد افسوس کے انڈسٹری کی نظروں سے بھی یہ بیچارا شریف جانور اوجھل ہی رہا۔ نتیجہ کہ خانہ بدوشوں کے ساتھ گھومتا یہ جہاز خود بھی بے یارومددگار انہی کے سہارے پر رہ گیا۔ دودھ اور گوشت کی پیداور ایک طرف اگر ہم اس قیمتی اثاثے پر تھوڑی سی بھی توجہ دے دیں تو زندہ جانور کی ایکسپورٹ سے دنیا میں نام پیدا کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں اونٹوں کی ایسی نسلیں موجود ہیں جن پر تھوڑا سا کام کر کے کثیر زرِ مبادلہ کما یا جا سکتا ہے۔ 
دبئی کی جب بڑی کمپنی کو اپنے اونٹوں کے جدید فارم کے لئے مینجر کی ضرورت پڑی تو دنیا سے چار لوگ انٹرویو کے لئے شارٹ لسٹ ہوئے مگر انتخاب پاکستان کے ڈاکٹر عبدلرازق کاکڑ کا ہوا۔ ڈاکٹر کاکڑ کے ساتھ ساتھ پروفیسر ڈاکٹر انس سرور قریشی،پروفیسر ڈاکٹر جیمل دھنانی، پروفیسر ڈاکٹر بخت بیدار خاں، پروفیسر ڈاکٹر یونس،پروفیسر ڈاکٹر اشرف، ڈاکٹر ریاض پاشا، ڈاکٹر کامران اور ڈاکٹر عاصم فراز سمیت پاکستان میں مٹھی بھر سائنسدانوں کا ایک گروہ موجود ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے اس جانور پر کام کر رہا ہے۔انہوں نے کیمل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے نام سے ایک تنظیم بھی بنا رکھی ہے۔ اسی حوالے سے گزشتہ دنوں سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈو جام کی فیکلٹی آف اینیمل ہذبنڈری اینڈ ویٹرنری سائنسز میں Camel Symposium کا انعقاد ہوا جس میں پاکستانی ماہرین کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک سے بھی ماہرین نے شرکت کی۔ چار روزہ سمپوزیم میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان میں اونٹوں کی اکیس سے زائد نسلیں موجود ہیں اور ان کی حفاظت کرنا ا ن نسلوں کے بقا کے لئے بہت ضروری ہے۔ اونٹوں کی افزائش نسل اورمینجمنٹ پر کام کرنا ہو گا ورنہ ہم اس قیمتی سرمائے سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ عرب ممالک میں تو اونٹوں پر تحقیق کا آغاز ہو چکا ہے مگر پاکستان میں ابھی بھی اس پر خاص توجہ نہیں دی جارہی۔ حکومت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ انڈسٹری کو آگے آنا چاہئے۔ حکومت جہاں تحقیق دانوں کو فنڈز اور مواقع مہیا کرے وہاں اونٹ کے کمرشل فارم بنانے میں سرمایہ کاروں کے لئے آسانیاں پیدا کرے۔ اگر اونٹوں کی بچانا ہے تو پھر اس کے لئے سنجیدگی سے سوچنا ہو گا۔