فارما ایکسپو اور جانوروں کا عالمی دن

Pharma Expo, World Animal Day

یہ کالم اکتوبر 2016 میں لکھا گیا

فارما ایکسپو اور جانوروں کا عالمی دن
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
سیاست یا سماجی مسائل پر لکھنے والوں کو تو شاید ہرگھنٹے کے نیوز بلیٹن میں کوئی نیا موضوع مل جاتا ہو مگر جس شعبہ سے میرے کالم متعلق ہیں۔۔ معاملہ زرا مختلف ہے۔ بعض دفعہ تو ہفتوں کچھ نہیں ملتا اور کبھی کبھار چند ہی دنوں میں موضوعات کا تسلسل ایسا الجھاتا ہے کہ انتخاب مشکل ہو جائے۔ جیسے چند دن پہلے یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ انیمل سائنسز لاہور نے عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے ڈائریکٹر جنرل Dr. Jose Graziano da Silva کو PhD کی اعزازی ڈگری دینے کا اعلان کیا۔گورنر پنجاب، وفاقی وزیرنیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ، سیکرٹری لائیوسٹاک پنجاب ،چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر اہم شخصیات کی موجودگی میں ڈاکٹر صاحب کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں ڈگری سے نوازا گیا۔ تقریب سادہ مگر پر وقار تھی، مخصوص افراد اور میڈیا کے چند نمائندگان پر مشتمل ۔ اس یونیورسٹی نے پہلے دفعہ کسی کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری جاری کی ۔۔ کوئی بڑی بات نہیں ، محترم نواز شریف، سید قائم علی شاہ، سید خورشید شاہ، اور رحمٰن ملک کو ڈاکٹر بنتے بھی تو سب نے دیکھا ہے۔ مگر یہاں بات بڑی ہی ہے اور اچھی بھی اور اس کے ساتھ ساتھ قابلِ فخر بھی ۔ مبارک باد اور داد کی مستحق ہے یونیورسٹی اور اس کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا کہ پہلی اعزازی ڈگری دی اور انتخاب کسی سیاسی یا مالی طور پر مستحکم شخصیت کا نہیں ہوا۔۔بلکہ معیاربنایا گیا علم، تحقیق، لگن، جستجو اورمثبت شراکت کو۔ ڈاکٹر صاحب دوسری ٹرم کے لئے اقوامِ متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل منتخب ہوئے ہیں۔ زراعت ،فوڈ سیکیورٹی اوردیہی ترقی کے حوالے سے ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔ انہوں نے برازیل میں Zero Hunger Program کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو بھوک اور انتہائی غربت سے نکالا۔ پاکستان نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں ڈاکٹر آف فلاسفی کی ڈگری سے نوازا ہے۔
جہاں لکھی ہوئی تقریر کا سہارا لئے بغیر گورنر صاحب کے اداکردہ الفاظ دماغ میں گھوم رہے تھے وہاں ودھ کانفرنس کی خبریں بھی آ رہی تھیں۔ پنجاب کے ہر ضلع میں دودھ کانفرنس منعقد کررہا ہے محکمہ لائیوسٹاک پنجاب ۔ دودھ میں ملاوٹ کے خلاف حکومت سرگرم ہے۔ شاید مافیا کو تو نہ ہاتھ ڈال سکے البتہ ہلا ضرور دیا ہے۔ Public Awareness پر کام ہو رہا ہے ۔ ہدف صرف کھلا اور آزاد دودھ نہیں بلکہ قید کیا ہواآوارہ بھی۔ پہلی بار کسی نے آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کی ہے۔مال مویشی والوں، شیر فروشوں، گوالوں، دودھ اکٹھا کرنے والوں، شہریوں اور میڈیا کے نمائندوں کو اکٹھا کر کے دودھ میں ملاوٹ کے نقصانات اور اس میں ملوث عناصر کے بارے کھل کر بات ہوتی ہے۔ اشتہاری مہم بھی جاری ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بہت واضح نتائج نہ نکلیں لیکن عوام میں شعور ضرور بیدار ہو چکا ۔ مجھے بھی دن میں ایک آدھ ایسا فون آ ہی جاتا ہے کہ دودھ کا ٹیسٹ کہاں سے کروائیں۔ ہلچل کی نشانی یہ بھی کہ لوگوں کو اپنی صفائی میں سوشل اور الیکٹرونک میڈیا پر لمبے لمبے Video Clips چلاناپڑ گئے۔ اچھا موقف ہے کہ لوگ دودھ کے نام پر دودھ ہی پئیں نہ کہ جعلی اورکیمیکل سے تیار کردہ سفید محلول، جسے تیار کرنے والے بھی دودھ کہنے سے گھبراتے ہوں۔ ان ضلعی کانفرنسوں، جن کا سلسلہ جاری ہے، میں نوجوان ڈاکٹر مشرف احمد واہلہ چھائے ہوئے ہیں۔ اپنے مخصوص انداز میں دودھ میں ملاوٹ کرنے والوں کا ایسا آپریشن کرتے ہیں کہ میلہ لوٹ لیتے ہیں۔ وہ ہے نہ ”جٹ چڑھیا کچہری بلے رے بلے” ,یہاں کہنا پڑتا ہے “جٹ چڑھیا سیکرٹریٹ ، بلے رے بلے”۔
آئے دن ہونے والی دودھ کانفرنس کی خبریں سمیٹتے سمیٹتے جانوروں کا عالمی دن بھی آگیا اس سے پہلے Rabies کا عالمی د ن بھی گزرا۔ Rabies: Educate, Vaccinate, Eliminate اس تھیم کے تحت ریبیز ڈے کے موقع پرانسانوں اور جانوروں کی صحت سے متعلقہ مختلف اداروں میں تقریبات منعقد ہوئیں۔ دوسری جانب جانوروں کا عالمی دن بھی دھوم دھام سے منایا گیا۔ویٹرنری یونیورسٹی لاہور، چڑیا گھر لاہور، پشاور یونیورسٹی، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سمیت دیگر شہروں میں اس دن کی مناسبت سے ہونے والی تقریبات کا مقصد روز مرہ کی زندگی میں جانوروں کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ان کے حقوق سے متعلق آگاہی پیدا کرنا تھا۔ اگر کوئی جانور ہمارے اردگرد یا ہماری ملکیت میں ہے تو اس کے لئے مناسب خوراک، مناسب رہائش، مناسب ماحول کا انتظام کرنا اوراس کی صحت کا مناسب خیال رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ہاں جانوروں کی صحت سے یاد آیا کہ پاکستان میں جانوروں کی ادویات درآمد کرنے والی کمپنیوں نے لاہور میں ایک نمائش لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اچھا اور منفرد اقدام ہے مگر ضروری ہے کہ روایتی نمائشوں سے ہٹ کر اسے بین الاقوامی معیار کی نمائش بنایا جائے اور شخصیات سے جوڑنے کی بجائے انڈسٹری کے گرد گھماتے ہوئے اسے غیر متنازع رکھنے کی کوشش کی جائے۔ امید ہے کہ ڈاکٹر عاصم محمود اور ان کی ٹیم کچھ اچھا کرے گی اور اگلی ایکسپو کے لئے انتظامی امور سے خود چپکے رہنے کی بجائے نئے چہرے سامنے لائے گی۔ ہر نئی ایکسپو میں نئی ٹیم کے ذریعے نیااور منفرد انداز پیدا کر کے اسے پاکستان کے لائیوسٹا ک سیکٹرکی منفرد ایکسپو بنایا جا سکتا ہے۔
ریبیز اور جانوروں کے عالمی دن کے ساتھ ساتھ انڈے کا عالمی دن بھی منایا گیا۔ ادھر حلال مصنوعات کی تجارت بڑھانے کے لئے ملائیشیا کے وفد نے پاکستان کا دروہ کیا۔ اب اتنے موضوعات کی موجودگی میں یہی سوچا ہے کہ سب کی بجائے اگلے کالم میں انڈے اور اس کے عالمی دن کے حوالے سے بات کی جائے۔