جعلی دودھ بارے بلی اور ویٹرنری یونیورسٹی کی رائے 

Tea Whitner,Milk Letter,Corrupt Mafia,

جعلی دودھ بارے بلی اور ویٹرنری یونیورسٹی کی رائے 
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
jassaraftab@gmail.com
میڈیا کی مبالغہ آرائی سے بھری گمراہ کن اشتہار بازی کے ہوتے ہوئے پسماندہ معاشرے اپنے بچوں کو جعلی دودھ سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟ٹی وائٹنر اور Dairy Liquid نہ تو دودھ ہیں اورنہ ہی دودھ کا نعم البدل ۔یہ چند اجزاء پر مشتمل محض غذائی تراکیب ہیں جن کا مقصد دودھ پراسیس کرنے والوں کی جانب سے اپنا منافع بڑھانا ہے۔ دھوکہ دہی پر مبنی مارکیٹنگ اور جھوٹے لیبل کے ساتھ لوگوں کی لاعلمی کا سہارا لیتے ہوئے اصلی دودھ کی جگہ ٹی وائٹنر اور ڈیری لیکوڈ جیسی مصنوعات بیچی جاتی ہیں ۔اس عمل سے نہ صرف عوام کی معصومیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے بلکہ لوگوں کی صحت کے ساتھ بھی کھیلا جارہا ہے۔ انتہا ہے کہ پسماندہ علاقوں اور دیہاتوں میں چھوٹے بچوں کے فیڈروں میں اسی طرح کا سفید محلول اصلی دودھ کی جگہ پلایا جاتا ہے۔سروے بتاتے ہیں کہ عوام کو حقیقت کا علم ہی نہیں اور وہ انہیں دودھ سمجھ کر ہی استعمال کرتے ہیں۔چونکہ یہ مصنوعات دودھ کہہ کر بیچی جاتی ہیں اور اصلی دودھ کے مقابلے میں سستی بھی ہوتی ہے اس لئے غریب عوام جلد دھوکے میں آجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب اصلی دودھ کی جگہ 60 فیصد تک ایسی مصنوعات بکنے لگی ہیں ۔دوسری جانب حالیہ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اصلی دودھ کے مقابلے میں غیر معیاری ویجیٹیبل فیٹ اور دیگر اجزاء پر مشتمل اس طرح کی مصنوعات نظامِ انہضام اور دل کے امرض کے ساتھ ساتھ صحت کے دیگر مسائل کا سبب بنتی ہیں۔
یہ اس خط کا خلاصہ ہے جو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کویونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا کی جانب سے نجی انگریزی اخبار میں چھپنے والی ایک خبر کے ردِعمل میں لکھا گیا ۔ اس خبر کے مطابق ایسا تاثر ملتا ہے کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی ٹی وائٹنر جیسی مصنوعات بیچنے والوں کے مفادات کا تحفظ چاہتی ہے ۔
خط میں مزید تحریر ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر کے مفادات کا تحفظ ضرور اہم ہو گا مگر یہ انسانی صحت ، اگلی نسل کی نشوونما اور دیہی معیشت سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتا۔ پاکستان میں 5 کروڑ سے زائد کی دیہی آبادی کا انحصار جانوروں پر ہے جن کی پیداوار کے باعث پاکستان دودھ پیدا کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ اب اگر اصلی دودھ کی جگہ جعلی دودھ کو آنے دیا گیا تو دیہی زندگی پر برے سماجی اور معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ دیہی بے روزگاری میں اضافہ ہوگا اور شہری آبادی کا رجحان مزید بڑھے گا۔خط میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وسیع تر قومی مفاد میں سینٹ صرف ایک طرف کے دلائل نہ سنے بلکہ یونیورسٹی کے ماہرین اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی رائے بھی لے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی مزید معلومات فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔
چند روز قبل اسی یونیورسٹی میں منعقدہ انٹرنیشنل پیراسائیٹالوجی کانفرنس کے دوران محکمہ لائیوسٹاک پنجاب کے سیکرٹری نسیم صادق نے جعلی دودھ والے مافیا کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا اور اصل پیراسائیٹس انہیں قرار دیا جو جعلی دودھ پیلا کر اس قوم کا خون چوس رہے ہیں ۔ سیکرٹری لائیوسٹاک نے بالکل درست کہا مگر ایک شخص کے کہنے سے تو کچھ نہیں ہو گا ۔ وفاقی حکومت کو انتہائی سخت اور سنجیدہ فیصلے کرتے ہوئے مسئلے کو جڑ سے پکڑنا ہو گا۔ اس سلسلے میںیونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور نے چند تجاویز پر مشتمل پالیسی پیپر جاری کر رکھا ہے ،محکمہ لائیوسٹاک نے بھی اس پر کافی کام کیا ہے۔ اب اگر نیت ٹھیک ہو تو معاملات درست ہو سکتے ہیں۔
محکمہ اور یونیورسٹی سے ہٹ کر اب تھوڑی سی بات بلی کی کر لیتے ہیں ۔ کچھ برتن لئے اور نشان لگاتے ہوئے ایک میں گائے بھینس کا مکس اصلی خالص دودھ ڈال دیا اور باقی برتنوں میں مارکیٹ میں بکنے والے مختلف نام نہاد دودھ الگ الگ ڈالے۔ ایک برتن میں پاؤڈر والا سوکھا دودھ بھی پانی میں گھول کر ڈالا۔ بلی اپنی بچوں کے ہمراہ سامنے موجود تھی ۔ بلی نے ایک دو برتنوں میں دودھ کو سونگھ کراور ایک دو کو زبان لگا کر چھوڑ دیا جبکہ اصلی گائے بھینس والا دودھ سارے کا سار اپی گئی۔ باقی برتن میں نے اٹھائے نہیں؛ چوبیس گھنٹے بعد بھی بلی کی جانب سے ٹھکرایا گیا دودھ نما محلول ویسے کا ویسے ہی موجود تھا۔ گھر میں جب بیگم نے تجربہ دہرایا تو بھی نتیجہ یہی نکلا۔ ہم سے تو پھر بلی ہی سیانی ہوئی نہ۔ ویسے یہ تجربہ آپ بھی کر سکتے ہیں مگر گلیوں سڑکوں پر پھرنے والی کسی عام بلی پر کریے گا کیونکہ سہل پسند کلاس نے تو اپنی پالتو بلیوں کو بھی اپنی طرح جعلی دودھ پر ہی لگایا ہو گا۔