پی وی ایم سی اور جامعہ زرعیہ کے مابین مسائل

PVMC & UAF Clash,Accredetation

 

جامعہ زرعیہ اور PVMC کے مابین مسائل 
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
اداروں سے چمٹے رہنے کی خواہش ، اداروں کی تباہی کے ساتھ ساتھ مافیا کی پیداوار کا سبب بنتی ہے۔ نئے tenure کے لئے دوبارہ منتخب ہونے یا دورِ منصب کو طول دینے کے لئے اداروں کے ایسے سربراہان ہرطرح کے حربے استعمال کرتے ہیں۔ پہلے دور میں اپنے لوگوں کو اہم پوسٹوں پر لگایا جاتا ہے۔ مخالفین کو لالچ دیتے اور پھر نہ ماننے پر ڈراتے دھمکاتے یا انتقامی کارروائی کا نشانہ بناتے ہوئے ساتھ ملانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ محنت پر یقین کے ساتھ ساتھ ذاتی رائے رکھنے والوں کو دور کرتے ہوئے چاپلوسی اور Yes Sir کرنے والوں کو قریب لایا جاتا ہے۔ دوسری بار،تیسری بار اور پھر بار بار منتخب ہونے کے لئے مفاد پرست عناصر کو ساتھ ملاتے ہوئے لابنگ کی جاتی ہے جبکہ سیاسی عناصر کے مفادات اور اپنے لوگوں کی خواہشات کا بھر پور خیال رکھا جاتا ہے۔
ایسے اداروں کے فیصلے ظاہری طور پر قانونی اور مشاورتی نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں یہ صرف ایک شخص کی ذاتی خواہش کا نتیجہ ہوتے ہیں کہ مشاورتی مجلس کٹھ پتلی کے سوا کچھ نہیں ہوتی ۔ ایسے اداروں کی ایگزیکٹو باڈی، یا بورڈ آف ڈائریکٹرز، یا ایگزیکٹو کونسل یا مجلسِ عاملہ یا سنڈیکیٹ کے ممبران ظاہری طورپر تو قواعد ضوابط کے مطابق منتخب ہوئے ہوتے ہیں مگردر حقیقت ان میں سے اکثر یاتو سربراہ کے خاص آدمی ہوتے ہیں، یا اس کے یار دوست ہوتے ہیں یا پھر ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے اپنے مفادات اس ادارے یا اس سربراہ سے منسلک ہوتے ہیں، یا پھر وہ کسی اور مافیا کا حصہ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ یا تو اس سربراہ کے مفادات کاتحفظ کر رہے ہوتے ہیں یا پھر کسی ڈیل کی شکل میں خود فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ان ممبران میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں مگر یا تو یہ دبک جاتے ہیں یا پھر شرافت میں ناآشنا بنے رہتے ہیں یا پھر مصلحتاََ خاموش ہو کر اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ دیگر طاقتوں کے مفادات بھی ایسے اداروں کے سربراہان سے منسلک ہو جاتے ہیں اور پھر مفادات کے باہمی تحفظ کا ایک سلسلہ چل پڑتا ہے۔ ”تم ہمیں نہ چھیڑو، ہم تمہیں کچھ نہیں کہتے ”، اس اصول کی بنیاد پر سسٹم چلتا رہتا ہے۔طاقت کے ساتھ ساتھ دولت بھی اکٹھی ہو چکی ہوتی ہے۔ ویسے تو اداروں کی سربراہی ہی ان کا بہترین کاروبار ہوتا ہے مگرایسے لوگ کسی بڑے کاروبار کا حصہ بن کر اپنی طاقت میں مزید اضافہ کر لیتے ہیں۔ ظاہری طور پر یہ اداروں کے سربراہ ہوتے ہیں مگر حقیقت میں سرمایہ کار بن چکے ہوتے ہیں کہ کئی خفیہ کاروباروں کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ Personal Development کے لئے اپنی پوزیشن کو بطور سیڑھی استعمال کرتے ہیں اور اس ضمن میں قومی اداروں کی تباہی سے بھی گریز نہیں کرتے۔
ایک وقت آتا ہے کہ اس طرح کے لوگ Expose ہو جاتے ہیں مگر اس وقت تک یہ اتنے طاقتور اور well connectedہو چکے ہوتے ہیں کہ کوئی ان پرہاتھ نہیں ڈال سکتا ہے۔ اپنے پیسے کی طاقت سے ہر کسی کو خرید لیتے ہیںیا اکثر اپنے نجی کاروبار کا حصہ بنا کر یا نوکری دے کر، یا ڈرا دھکما کر خاموش کروا لیتے ہیں۔ اگر کوئی اداراہ ان کو چھیڑنا چاہے بھی تو ناکام رہتا ہے کہ ان کے پاس ”کچھ دو، کچھ لو” کے اصول پر عمل کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوتا ۔ دوسری جانب مالی اور سیاسی طور پر یہ اس قدر مستحکم ہو چکے ہوتے ہیں کہ اداروں کی سربراہی ان کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ اپنی سیٹ کے کھو جانے کے خوف سے بالا تر یہ لوگ کھل کر کھیلتے ہیں کہ اس موقع پر اگر کسی طرح سے سیٹ چلی بھی جائے تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔وقت ، دولت اور طاقت انہیں مافیا بنا دیتی ہے اور پھر یہی مافیا اشرافیہ میں تبدیل ہو کر اصولوں اور قوانین کا ٹھیکیدار بن جاتا ہے۔اصولوں اور قوانین کی آڑ میں غریب اور متوسط طبقے پر ظلم ہوتا رہتا جبکہ یہی اصول اور قوانین اسی مافیا کے تحفظ کا ذریعہ بنتے ہیں۔
جامعہ زرعیہ فصل آباد اور پاکستان ویٹرنری میڈیکل کونسل (PVMC) کے مابین ایف ایس (پری ایگریکلچر )اور اساتذہ کی رجسٹریشن کا مسئلہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں کہ بیٹھ کر حل نہ ہو سکے۔ یہا انا، ضد اور طاقت کی لڑائی ہے۔قومی نقصان کی پرواہ کئے بغیر قوانین اور اصولوں کی آڑ میں غریبوں کے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے ۔ یہاں ایک Power Playجاری ہے جس میںPlayers کا کچھ نہیں بگڑ رہا، بس غریب کے بچے کا نقصان ہو رہا ہے ۔قوم کے نوجوانوں کا مستقبل ہی نہیں بلکہ ویٹرنری پروفیشن بھی تباہ ہو رہا ہے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ کسی نہ کسی موڑ پر یہ طاقتیں باہمی رنجشیں بھلا کر ایک ہو جائیں گی اور غریب اور متوسط طبقے کے سینکڑوں بچے ڈگریاں ہاتھ میں لئے رُلتے رہیں گے۔
ہمارا یہ قانون اور اصول بھی کیا عجیب ہے کہ غریب پر ہی لاگو ہوتا ہے جبکہ طاقتور اسی کی آڑ میں بچ نکلتا ہے۔ ایف ایس سی )پری ایگریکلچر(اور قومی اداروں کی ایکریڈیٹیشن کے خلاف ہزاروں اصول اور ہزاروں قوانین دیکھائے جاتے ہیں لیکن مبینہ طور پر ذاتی اداروں کو پی ایچ ڈی تک کی منظوری دیتے ہوئے سب کچھ بھول جاتے ہیں ۔ قومی اداروں کے چھوٹے چھوٹے مسائل کو بنیاد بنا کرہزاروں نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا یا ہوا ہے مگر اُدھر مبینہ طور پر ذاتی اداروں میں سٹاف بھی بنیادی اصولوں کے منافی ہے کہ ریٹائرڈ پروفیسر وں کو اکٹھاکر کے بین الاقوامی معیار کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔فی الحال افسوس کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا……. ۔