ای ۔ پاکستان

E Pakistan ICTs Based System

E – Pakistan
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب

راجن پور کے پسماندہ ترین علاقے کا مریض اپنے گاؤں میں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا بیماری کے بارے بتا رہا ہو اور دوسری جانب لاہور کے اچھے ہسپتال کا بڑا ڈاکٹر اپنے کلینک میں لیپ ٹاپ کے سامنے انٹر نیٹ کے ذریعے سن کر اس کے ساتھ بیٹھی نرس کو ادویات لکھوا دے ۔ یہ محترم عمران خاں کا نیا یا نواز شریف صاحب کا روشن پاکستا ن نہیں بلکہ عمار جعفری کا E-Pakistan ہے جس کے نئے ہونے میں تو کوئی شق نہیں اور اگر سمجھ میں آگیا تو یقیناََ روشن بھی ہو گا۔
Information & Communication Technologies (ICTs) جن میں کمپوٹر ، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، موبائل فون، ریڈیو، ٹیلیویژن، انٹرنیٹ اور انڈرائڈ ٹیکناجی سمیت کمیونیکیشن کے دیگر ذرائع شامل ہیں، پاکستان میں عام ہیں مگر بد قسمتی سے یا تو ان کا استعمال ہی نہیں یا پھر بہت سا غلط استعمال۔اگرچہ نجی اداروں نے ICTsسے بہت فائدہ اٹھایا ہے مگر اس کا مثبت اثر خاص طبقوں اور خاص علاقوں تک محدود ہے۔ دوسری جانب چند سرکاری اداروں میں بھی ICTs کا استعمال توہو رہا ہے مگر ہم مکمل فائدہ حاصل کرنے سے بہت دور ہیں۔ان اداروں کی اکثریت صرف اپنی ویب سائیٹ بنوانے تک محدود ہے اوراکثر کی یہ ویب سائیٹس ہیUpdate نہیں ہوتیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے اداروں میں ہونے والے کام ٹیکنالوجی سے دوری کے باعث سست روی کا شکار ہوتے ہیں۔
ؑ E-Pakistan ایک ایسا Concept ہے جس میں ICTs کو پاکستان کے مختلف شعبہ جات میں لاگو کر کے اداروں کی حالت کو بہتر کرنا ہے۔ ابتدائی طور پر تعلیم، صحت، ٹورازم ، زراعت اور گڈ گورننس جیسے شعبوں کو فوکس کیا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد پاکستان کے تمام اداروں میں ICTs کازیادہ سے زیادہ استعمال اور عام لوگوں کو ICTs سے متعلقہ تربیت فراہم کرنا ہے تاکہ لوگ ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔ سادہ الفاظ میں موبائل، انٹرنیٹ کے مثبت استعمال کے بارے لوگوں کو آگاہی دی جائے اور اس سے حکومتی معاملات میں بہتری اورعام لوگوں تک سہولیات کی فراہمی کو آسان بنایا جائے۔
ؑ E – Education میں بغیر استاد اور بغیرعمارت کے طلباء کی تعلیم ممکن ہے۔ E – Health کے تحت بڑے شہروں میں موجود سپیشلسٹ ڈاکٹر دیہاتوں میں طبی سہولیات فراہم کر سکتے ہیں۔ E – Tourism میں پاکستان کے سیاحتی مقامات کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان تک رسائی کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔ E – Traveling کے ذریعے لوگ گھر بیٹھے اپنے سفر کے لئے ٹکٹیں بک کروا سکتے ہیں۔ E – Governance میں لوگ لمبی لمبی قطاروں میں لگے بغیر گھر بیٹھے اپنے مسائل حل کروا سکتے ہیں اور افسران دفاتر کے مرہونِ منت ہوئے بغیر معاملات کو احسن طریقے سے چلا سکتے ہیں، E – Agricultre میں فارمر اپنی فصل کے لئے مناسب دیکھ بھال کے اوقات اور موسم کی صورتحال سے با خبر ہو سکتا ہے۔
ؑ E – Pakistan ایک فلاحی منصوبہ ہے جس میں عمار جعفری کی ٹیم اپنی مدد آپ اور دوستوں کے تعاون سے منزل کی جانب رواں دوں ہے۔ اس منصوبے کا ایک حصہ E – District ہے جس کے تحت ہر ضلع میں ابتدائی طور پر ضلعی انتظامیہ اور مقامی لوگوں مدد سے ضلع کی تمام انفارمیشن کو ایک ویبسائیٹ میں اکٹھا کر دیا جاتا ہے۔ اس سے ایک ضلع میں موجود مختلف اداروں اور شعبوں کا ایک دوسرے کے قریب آنے اور جاننے کا موقع ملتا ہے۔منصوبہ کا دوسرا حصہ E – Education ہے جس میں E – Pakistan کی ٹیم نے ایک ایسا سوفٹ ویئر تیار کیا ہے جس کے ذریعے بغیر استاد کے تعلیم ممکن ہے۔ کسی بھی جگہ ایک کمپیوٹر رکھیں ، اس سوفٹ ویئر کو انسٹال کر یں اور سکول کا آغاز کر دیں۔ اس سوفٹ ویئر میں مختلف کلاسز کے سلیبس اس طرح سے ترتیب دیے گئے ہیں کہ رسمی تعلیم کی فراہمی بغیر استاد کے ممکن ہو سکے ۔ E – Health میں E – Clinic قائم ہو چکے ہیں جس میں گلاب دیوی ہسپتال کے ڈاکٹر دور دیہات میں کمپیوٹر کے ذریعے مریضوں کا چیک اپ کر رہے ہیں۔ E – Agriculture میں Agri Chowk کا تصور ہے جس کے ذریعے لاکھوں کی تعداد میں فارمرز کو انٹرنیٹ اور موبائل کے استعمال کی تربیت دی جارہی ہے۔ E – Villageکے تحت دور دراز دیہاتوں میں موجود نوجوانوں کو انٹرنیٹ سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ااس کے استعمال کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیساسٹر مینجمنٹ، پولیس، سرکاری سکول، کالجز اور دیگر سرکاری اداروں میں ICTs کے استعمال پربھی زور دیا جا رہا ہے۔
عمار جعفری سے آشنائی آج سے چار سال پہلے ہوئی ۔وہ FIA کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر اور سائبرسیکیورٹی کے ماہر ہیں۔ ان کا مشن ہے کہ پاکستان میں ہر طرف پھیلے انٹرنیٹ اور موبائل فون کو مثبت طور پر استعمال میں لایا جائے اور نوجوانوں اس کے مثبت استعمال کی تربیت دی جائے۔اس سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں سیمینارز کا انعقاد اور اسلام آباد میں ہر سال انٹرنیشنل کانفرنس منعقد کرواتے ہیں۔ ان کا E – Pakistan ایک ایسا آئیڈیا ہے جس میں یونین کونسلز اور مقامی اداروں کو ضلعوں کی سطح پر ، اضلاع کو صوبے کی سطح اور صوبوں کو قومی سطح پر ایک دوسرے سے جوڑا جا سکتا ہے۔ اس خیال کے تحت پاکستان کے تمام ادارے موبائل فون اور انٹرنیٹ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کر کے اپنی خدمات کے دائرہ کو وسیع کرسکتے ہیں۔ یہ ناممکن نہیں بس تھوڑا مشکل ہے۔ آج موبائل اور انٹرنیٹ ہر جگہ موجود ہے بس ان کا بہتر استعمال لوگوں کو بتانا ہے۔